آزاد حیثیت سے کامیابی کے بعد نجم سیٹھی کی اہلیہ جگنو محسن اور چوہدری نثار نے کونسی سیاسی جماعت میں شمولیت اختیار کی ہے ؟ خبر آگئی

لاہور (ویب ڈیسک )سابق وزیرداخلہ چوہدری نثار اور نجم سیٹھی کی اہلیہ جگنو محسن نے پنجاب اسمبلی میں آزاد حیثیت برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے اور کسی بھی سیاسی جماعت میں شمولیت کا بیان حلفی الیکشن کمیشن میں جمع نہیں کروایا ہے ۔نجی ٹی وی 92 نیوز کے مطابق الیکشن کمیشن

کی جانب سے کامیابی کا نوٹیفکیشن جاری ہونے کے تین دن کے اندر آزاد امیدواروں کو آئین کے آرٹیکل 61 کے تحت کیس بھی سیاسی جماعت میں شمولیت اختیار کرنے کا حق حاصل ہوتاہے اور بیان حلفی جمع کروانا ہوتاہے تاہم وہ وقت گزشتہ شام چار بجے ختم ہو گیاہے تاہم چوہدری نثار ، جگنو محسن اور احمد علی نے آزاد حیثیت میں ہی صوبائی اسمبلی میں بیٹھے کا فیصلہ کیاہے اور کسی بھی سیاسی جماعت میں شمولیت کیلئے بیان حلفی جمع نہیں کروایا ہے ۔جبکہ دوسری جانب تین آزاد امیدواروں نے سیاسی جماعتوں میں شمولیت کیلئے بیان حلفی الیکشن کمیشن میں جمع کروا دی ہے ۔جبکہ دوسری جانب ایک اور خبر کے مطابق تحریک انصاف نے دعویٰ کیا ہے کہ اسے ایک سو اسی سے زیادہ ارکان قومی اسمبلی کی حمایت حاصل ہوگئی ہے اس مقصد کو حاصل کرنے کےلئے تحریک انصاف کی قیادت کی دوڑ دھوپ دیدنی ہے پاکستان مسلم لیگ نون نے الزام عائد کیا ہے کہ اس دوڑ بھاگ کے دوران نوٹوں کا انبار لئے جہاز اڑتا رہا شہباز شریف کا کہنا ہے کہ وہ اس مشق میں اپنا منہ کالا کرنے کےلئے تیار نہیں تھے اس طرح انہوں نے وفاق کے بعد پہلی مرتبہ اب پنجاب میں حکومت سازی کی دوڑ سے الگ ہونے کا اعلان کردیا ہے

چھبیس آزاد ارکان پنجاب اسمبلی کی طرف سے تحریک انصاف میں شمولیت کے بعد صوبے میں مسلم لیگ نون کے لئے حکومت بنانا ممکن نہیں رہا تھا۔ شہباز شریف جو بدھ کو اسلام آباد نہیں پہنچ پائے تھے اور اس اولین عوامی منظر کےاحتجاج میں شریک نہیں ہوئے تھے جس کا اہتمام پاکستان الائنس نے ان کی مسلم لیگ کی سرکردگی میں کیا تھا وہ گزشتہ ماہ لاہور کے ہوائی اڈے پر بھی نہیں پہنچ سکے تھے جہاں انہیں پارٹی کے قائد نوازشریف کا خیرمقدم کرنا تھا جہاں انہیں پہنچنا ہوتا ہے وہ پہنچ جاتے ہیں بدھ کو موسم کی خرابی کی ان کی دلیل کوئی ماننے کے لئے آمادہ نہیں ہے اب قرآئن سے اندازہ ہورہا ہے کہ وہ قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف کاکردار بھی سنبھالنے کےلئے دستیاب نہ ہوں تاہم وزارت عظمیٰ کے لئے انتخاب میں امیدوار ہوسکتے ہیں جس کا فیصلہ پاکستان الائنس نے کررکھا ہے۔ جمعرات کو شہبازشریف نے اڈیالہ جیل میں نوازشریف اور مریم نواز سے ملاقات کے بعد اعلان کیا ہے کہ وہ قومی اسمبلی میں کسی کو مبارکباد دینے کے لئے نہیں انتخابات میں دھاندلی کے خلاف آواز اٹھانے کے لئے جارہے ہیں۔ الائنس کی تخلیق کے موقع پر مطالبہ کیاگیا تھا کہ 25 جولائی کے عام انتخابات کی تحقیقات کےلئے عدالتی کمیشن تشکیل دیا جائے

لیکن جمعرات کو اس مطالبے میں نمایاں تحریف کردی گئی اوراعلان کیا گیا کہ قومی اسمبلی میں انتخابی دھاندلی کے خلاف پارلیمانی کمیشن تشکیل دینے کا تقاضا کیا جائے گا۔ اسپیکر کے منصب کے لئے پیپلز پارٹی کے امیدوار خورشید احمد شاہ نےاپنی دیروزہ گفتگو میں بھی پارلیمانی کمیشن کی بات کی تھی انہوں نے ایک قدم آگے بڑھ کر تحریک انصاف کی حکومت کو اپنے وعدے پورے کرنے کے لئے وقت دینے کی بھی پیشکش کردی تھی ان کے لہجے میں روایتی نرمی اور مٹھاس چغلی کھارہی تھی کہ وہ اسپیکر کے منصب کےلئے تحریک انصاف کی حمایت کی آس بھی لگائے بیٹھے ہیں۔ شہباز شریف نے یاد دلایا ہے کہ اب تو عدالت عظمیٰ نے بھی کہہ دیا ہے کہ چیف الیکشن کمشنر 25 جولائی کو سو رہے تھے اور دستیاب ہی نہیں تھے آر ٹی ایس نظام بند ہوگیا تھا ان کاکہنا تھا کہ آر ٹی ایس نظام بند کرایاگیا تھا اور ووٹوں کی گنتی پولنگ ایجنٹس کی عدم موجودگی میں مکمل کی گئی توقع ہے کہ آئندہ ہفتے قومی اسمبلی کے افتتاحی اجلاس میں آر ٹی ایس سسٹم کی بندش اور دھاندلی کے معاملات کو پوری شدومد سے اٹھایا جائے گا۔ شہباز شریف نے عوام کو نوازشریف کامخلصانہ سلام پہنچاتے ہوئے ان کی دعا کےلئے استدعا بھی پہنچائی ہے۔ ان کاکہنا تھا کہ نوازشریف اپنی ذات کے لئے نہیں پاکستان کی خاطر بیمار اہلیہ کو لندن چھوڑ کر وطن واپس آئے، وہ پوری قوم کےلئے قربانی دے رہے ہیں، جیل میں محبوس نوازشریف، مریم نواز اور کیپٹن صفدر کےحوصلے بلند ہیں۔شہباز شریف نےنواز شریف کے لئے این آر او کے ضمن میں افتراپردازی کی سختی کے ساتھ تردید کی اور کہا کہ نہ تو کسی نے این آر او کی فرمائش کی ہے اور نہ ہی کوئی دے رہا ہے ۔(ز،ط)

Source

You might also like