امریکا کا میانمار سے صحافیوں کی رہائی کا مطالبہ

دونوں صحافیوں کو روہنگیا میں سرکاری سرپرستی میں قتل عام کے ثبوت افشاء کرنے پر حراست میں لیا گیا تھا۔ فوٹو: فائل

دونوں صحافیوں کو روہنگیا میں سرکاری سرپرستی میں قتل عام کے ثبوت افشاء کرنے پر حراست میں لیا گیا تھا۔ فوٹو: فائل

امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے میانمار میں قید دو صحافیوں کو فوری طور پر رہا کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے سنگاپور میں جنوبی ایشیائی ممالک کی تنظیم ’آسیان‘ کے اجلاس کے دوران میانمار کے وزیر خارجہ ’کیا تن‘ سے خصوصی ملاقات کی، جس میں انہوں نے میانمار میں قید بین الاقوامی خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘کے لیے کام کرنے والے دو صحافیوں کو فوری طور پر رہا کرنے کا مطالبہ کیا۔

امریکی وزارت خارجہ سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ مائیک پومپیو نے میانمار کے وزیر خارجہ سے ملاقات میں صحافیوں کی گرفتاری اور 14 سال قید کی سزا پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے اس اقدام کو آزادی اظہار رائے کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔

واضح رہے کہ میانمار میں ’رائٹرز‘ کے دو مقامی صحافیوں 32 سالہ وا لون اور 28 سالہ کیو سیو او کو ’آفیشل سیکریٹس ایکٹ‘ کی خلاف ورزی کے الزام میں 14، 14 سال قید کی سنائی گئی تھی۔ دونوں صحافیوں نے پیشہ ورانہ ذمہ داریاں نبھاتے ہوئے 2017 میں دس روہنگیا مسلمانوں کی سرکاری سرپرستی میں جنونیوں کے ہاتھوں قتل کو افشاء کیا تھا۔

You might also like