دنیا کی طویل ترین پرواز

 نو9 ہزار نو9 میل کا فاصلہ سترہ گھنٹے میں۔فوٹو : فائل

 نو9 ہزار نو9 میل کا فاصلہ سترہ گھنٹے میں۔فوٹو : فائل

ایک خبر کی رو سے سنگاپور ائیرلائنز دنیا کی طویل ترین پرواز متعارف کرانے کے لیے تیار ہے جس کے دوران طیارہ فضا میں ’’انیس گھنٹے‘‘ گزارے گا۔

طیارے بنانے والی معروف امریکی کمپنی، ائیربس کی جانب سے رواں سال کسی وقت نئے اے 350-900 الٹرا لانگ رینج (یو ایل آر) جیٹ متعارف کرائے جائیں گے اور سنگاپور ائیرلائنز پہلی فضائی کمپنی ہوگی جسے یہ طیارے ملیں گے۔

اس فضائی کمپنی نے اس طیارے کی پہلی آزمائشی پرواز رواں ماہ کے شروع میں کی تھی۔یہ فضائی کمپنی سنگاپور اور نیویارک کے درمیان بلاتعطل پرواز کی منصوبہ بندی کررہی ہے جس کے دوران طیارہ 9 ہزار 521 میل کا فاصلہ 19 گھنٹے میں طے کرے گا۔یہ نیا طیارہ فضا میں 11 ہزار 150 میل تک سفر کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے جو عام اے 350 کے مقابلے میں 1800 میل زیادہ ہے۔یہ طیارہ سفر کرنے کے دران چمٹنے والے عام عارضے، جیٹ لیگ سے نمٹنے کے لیے لائٹنگ اور ہوا کے ایسے گردشی نظام سے لیس ہوگا جو ہر دو منٹ میں ہوا کو نیا کرے گا۔

یاد رہے ،اس وقت دنیا کی طویل ترین پرواز قطر ائیرویز کی ہے جو دوحہ، قطر سے نیوزی لینڈ کے شہر آک لینڈ کے درمیان سفر کرتی ہے۔اس پرواز کے دوران 9 ہزار 32 میل کا فاصلہ 18 گھنٹے میں طے کیا جاتا ہے۔

دوسری طویل ترین پرواز بھی آسٹریلین شہر پرتھ سے لندن کے درمیان چلتی ہے جس میں 9 ہزار 9 میل کا فاصلہ 17گھنٹے میں طے کیا جاتا ہے۔سنگا پور نے 7 یو آر ایل جیٹ طیاروں کا آرڈر دیا ہے جو اس فضائی کمپنی کے طویل فاصلوں کی منازل میں اضافہ کرے گا۔یہ فضائی کمپنی اگلے سال سنگاپور سے لاس اینجلس کے درمیان نان اسٹاپ پرواز شروع کرنے کا ارادہ بھی رکھتی ہے جو 15 گھنٹے میں طے ہوگا۔

You might also like