شاہ رُخ جتوئی اِس وقت کہاں اور کس حال میں ہے؟ تازہ ترین خبر آپ کو دنگ کر ڈالے گی

کراچی(ویب ڈیسک)جوڈیشل مجسٹریٹ ملیر نے شاہ رخ جتوئی کے خلاف بیرون ملک فرار کیس کی سماعت ملزم کی عدم حاضری کے باعث ملتوی کردی۔گزشتہ روز سماعت کے موقع پر عدالت کوجیل حکام نے بتایا کہ مجرم شاہ رخ جتوئی کی نقل وحرکت پر پابندی برقرار ہے شاہ رخ جتوئی کو عدالت

میں پیش نہیں کرسکتے محکمہ داخلہ کی جانب سے شاہ رخ جتوئی کی نقل وحرکت پر پابندی عائد ہے محکمہ داخلہ نے مقدمہ کو حساس قرار دیا ہے محکمہ داخلہ نے جیل میں سماعت کرنے کا نوٹیفکیشن جاری نہیں کیا۔پراسیکیوٹر کا کہنا تھا کہ ساڑھے 5 سال سے مقدمہ التوا کا شکار ہے مجرم شاہ رخ جتوئی کی عدم حاضری کے باعث فرد جرم عائد نہ ہوسکی عدالت نے محکمہ داخلہ کی رپورٹ طلب کر لی عدالت نے کارروئی کیے بغیر سماعت ملتوی کردی۔ایف ائی اے کے مطابق مجرم شاہ رخ جتوئی شاہ زیب کو قتل کے بعد بیرون ملک فرار ہوگیا تھا مجرم کو 13مارچ 2012 کو گرفتار کیا تھا مجرم شاہ رخ جتوئی 27 دسمبر 2012 کو غیر قانونی جعل سازی کے ذریعے فرار ہوا تھا۔دوسری جانب وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے ) نے سائبر کرائم کے کیسسز سے بہتر طور پرنمٹنے کے لیے خصوصی اختیارات دیے جانے کی خواہش کا اظہار کردیا۔ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق ایف آئی کی جانب سے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں بتایا گیا کہ برقی جرائم کی روک تھام کا قانون( پِریوینشن آف الیکٹرونک کرائم ایکٹ) اس سلسلے میں ان کی راہ میں رکاوٹیں پیدا کرتا ہے۔واضح رہے کہ کابینہ سیکٹیریٹ

میں پاکستان ٹیلی کمیونکیشن اتھارٹی ( پی ٹی اے) کی جانب سے سوشل میڈیا پر پھیلنے والے توہین آمیز تبصروں کے خلاف جرمانہ عائد کرنے پر غور کے لیے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا۔اجلا س میں ایف آئی اے کے شعبہ سائبر کرائم کے ڈائریکٹر انچارج نے بتایا کہ پہلے کے برعکس اب ہمیں کوئی بھی اقدام اٹھانے سے قبل متعلقہ عدالت سے اجازت لینی پڑتی ہے، جو کچھ معاملات میں ٹھیک ہے، لیکن اس سے تحقیقات میں تعطل پیدا ہوتا ہے جبکہ اس پر عمل درآمد میں کافی وقت بھی صرف ہوتا ہے۔ایف ائی اے حکام نے کمیٹی سے پرزور درخواست کی کہ برقی جرائم کی روک تھام کے قانون (پی ای سی اے) پر نظر ثانی کر کے ترمیم کرکے وفاقی تحقیقاتی ادارے کو مزید اختیارات تفویض کیے جائیں۔خیال رہے کہ پی ای سی کی تشکیل اور بعد ازاں اس میں کی گئی ترمیم پر ڈیجٹل حقوق کے اداروں کی جانب سے اعتراض کیا گیا تھا کہ مذکورہ قانون فطری طور پر بہت بنیادی حیثیت کاحامل ہے، جس سے اسکی طویل مدتی افادیت پر بھی خدشات کا اظہار کیا گیا۔کمیٹی اجلاس میں ایف آئی اے کی جانب سے بتایا گیا کہ 2012 سے اب تک متنازع اور توہین آمیز مواد کے باعث ہزاروں ویب سائٹس کے یو آر ایل بلاک کیے جاچکے ہیں۔(ذ،ک)

Source

You might also like