عدلیہ اور سیکیورٹی اداروں کے خلاف نازیبا زبان کاالفاظ کس نے کیا؟ کارروائی کا اعلان ہوتے ہی پیپلز پارٹی کاایسا فیصلہ کہ گرینڈ اپوزیشن میں بڑی دراڑ پڑ گئی

اسلام آباد(ویب ڈیسک) ترجمان پاکستان پیپلزپارٹی چوہدری منظور نے کہا کہ اسلام آبادکے حتجاج میں عدلیہ مخالف استعمال کی گئی زبان سے لاتعلقی کا اظہارکرتے ہیں۔نجی ٹی وی چینل کے مطابق ترجمان پاکستان پیپلزپارٹی چوہدری منظور نے کہا کہ اسلام آبادکےا حتجاج میں عدلیہ مخالف استعمال کی گئی زبان سے لاتعلقی کا اظہارکرتے ہیں،

پارٹی سیاست میں ذاتی عناد اورہتک آمیز زبان کے خلاف ہے اوررہے گی،پیپلزپارٹی اصولوں کی سیاست کرتی ہے،پیپلز پارٹی عوامی مسائل پر رائے دینے کے ساتھ ساتھ انکے حل کیلئے کوششیں کرتی ہے، پارٹی کبھی بھی نازیبا زبان کے استعمال کی حمایت نہیں کرتی۔واضح رہے انتخابات میں دھاندلی کیخلاف اپوزیشن جماعتوں کے احتجاج کے دوران عدلیہ مخالف نعرے لگانے جانے پر مقدمہ درج کیا گیا تھا جس میں میں دہشتگردی کی دفعات شامل بھی شامل کی گئی تھی۔ جبکہ دوسری جانب عام انتخابات میں دھاندلی کیخلاف سیاسی جماعتوں کے احتجاج میں چیف جسٹس آف پاکستان کیخلاف نعرے بازی اور نازیبا الفاظ استعمال کرنے پر مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔اسٹنٹ کمشنر آفس کے ملازم شیراز سلیم کی مدعیت میں تھانہ سیکرٹریٹ میں مقدمہ درج کیا گیا۔ ایف آئی آر میں انسداد دہشتگردی ایکٹ کی دفعہ شامل کی گئی ہے، مقدمے میں محمد امتیاز راجہ اور خاتون کوثر گیلانی کو نامزد کیا گیا۔ دونوں نے سیاسی جماعتوں کے احتجاج کے دوران چیف جسٹس آف پاکستان میاں ثاقب نثار کیخلاف نعرے بازی اور نازیبا الفاظ کا استعمال کئے، موقع کی ویڈیو حاصل کر لی گئی ہے۔ ابتدائی شناخت کے بعد اس بات کا پتہ چلایا جا رہا ہے کہ دونوں ملزمان کا تعلق کس سیاسی جماعت سے ہے۔

خیال رہے گزشتہ روز اپوزیشن اتحادی جماعتوں نے مبینہ دھاندلی کے خلاف احتجاجی تحریک شروع کرتے ہوئے الیکشن کمیشن کے سامنے احتجاج کیا اور دھرنا دیا۔ متحدہ اپوزیشن نے انتخابات کے نتائج کو مسترد کرتے ہوئے نئے شفاف انتخابات کرانے، چیف الیکشن کمیشن کے مستعفی ہونے اور پارلیمانی انکوائری کمیشن بنانے کا مطالبہ کیا اور کہا ہے کہ دھاندلی اورجمہوریت پرشب خون کسی صورت تسلیم نہیں کیا جائیگا، پارلیمنٹ کے اندر اور باہر بھی مسلسل احتجاج جاری رکھا جائے گا۔الیکشن کمیشن کے سامنے احتجاج میں پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری ، چیئرمین بلاول بھٹو ، مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف شریک نہیں ہو ئے جبکہ راجہ ظفر الحق، یوسف رضا گیلانی، مولانا فضل الرحمان ، راجہ پرویز اشرف ، شیری رحمن، خورشید شاہ ، میاں افتخارحسین، محمودخان اچکزئی اور دیگر رہنمائوں نے شرکت کی۔

یہ بھی پڑھیں :مشیر وزیراعظم بننے کی پیشکش : 28 جولائی کو مجھے عمران خان کا فون آیا ، بولے، بٹ صاحب : تم ادھر بیٹھے کیا کر رہے ہو واپس پہنچو اور ۔۔۔۔توفیق بٹ نے عمران خان کی اس بات کا کیا جواب دیا ؟ جان کر آپ کا دل خوش ہو جائیگا

یہ بھی پڑھیں :ایک شخص اٹھے گا جو لوگوں کی رائے اور قسمت اپنے ہاتھ میں لے گا ۔۔۔۔ پاک آرمی سمیت دنیا کی زیادہ تر افواج کے نصاب میں شا مل ایک کتاب میں کی گئی پیشگوئی کا عمران خان سے کیا تعلق ہے ؟ پاک فوج کے ایک اعلیٰ ریٹائرڈ افسر کا شاندار انکشاف

Source

You might also like