معاملات طے ۔۔۔۔بلوچستان میں حکومت سازی کے حوالے سے بڑی بریکنگ نیوز آگئی

کوئٹہ(ویب ڈیسک ) بلوچستان میں حکومت سازی کے معاملات طے پاگئے ،بلوچستان نیشنل پارٹی اورمتحدہ مجلس عمل بھی حکومت کا حصہ ہونگے ، ڈپٹی سپیکر کا عہدہ ایم ایم اے اور بی این پی مینگل کو دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے ۔ اتحادیوں کے درمیان وزارتوں کی تقسیم کا فارمولا تیار ہو گیا،

“باپ “پارٹی کو وزارت اعلیٰ ،سپیکر 6 وزارتیں اور دومشیر، بی این پی مینگل اور ایم ایم اے کو 3 وزارتیں دو مشیر اور ڈپٹی سپیکر،پی ٹی آئی کو ایک وزارت اور ایک مشیر جبکہ اے این پی، بی این پی عوامی اور ہزارہ ڈیموکریٹک پارٹی کو ایک ایک وزارت ملنے کا امکان ہے ۔مخلوط اتحاد کو 65 کے ایوان میں سے 60 ارکان کی حمایت حاصل ہونے کا امکان ہے جبکہ بلوچستان میں اپوزیشن کا کردار پشتونخواملی عوامی پارٹی اور مسلم لیگ (ن) ادا کرینگی۔جبکہ دوسری جانب ا یک اور خبر کے مطابق تحریک انصاف کے محمود خان نئے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا منتخب ہوگئے۔ اسپیکر خیبرپختونخوا اسمبلی مشتاق غنی کی زیرصدارت اجلاس کے دوران نئے قائد ایوان کا انتخاب عمل میں لایا گیا۔وزیراعلیٰ کا انتخاب اراکین کو 2 لابی میں تقسیم کر کے کیا گیا جس کے لیے محمود خان کے حامی اراکین لابی نمبر دو اور متحدہ اپوزیشن کے مشترکہ امیدوار میاں نثار گل کے حامی لابی نمبر ایک میں جمع ہوئے۔اراکین کے لابی میں جمع ہونے کے بعد اراکین کی گنتی کی گئی جس کے بعد اسپیکر نے محمود خان کی کامیابی کا اعلان کیا جنہوں نے 77 ووٹ حاصل کیے جب کہ ان کے مدمقابل میاں نثار گل نے 37 ووٹ حاصل کیے۔

نومنتخب وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کل گورنر ہاوس میں منعقدہ تقریب کے دوران اپنے عہدےکا حلف اٹھائیں گے جب کہ نگران وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا جسٹس (ر) دوست محمد خان نے وزیراعلیٰ ہاوس بھی خالی کردیا۔سندھ اسمبلی دوسری جانب اسپیکر سندھ اسمبلی آغا سراج درانی کی زیرصدارت اسمبلی اجلاس جاری ہے جس میں اراکین صوبے کے نئے وزیراعلیٰ کے لیے خفیہ رائے شماری کے ذریعے انتخاب کر رہے ہیں۔وزیراعلیٰ سندھ کے عہدے کے لیے سید مراد علی شاہ پیپلز پارٹی کے امیدوار ہیں جب کہ مشترکہ اپوزیشن کے امیدوار شہریار مہر ہیں۔اسپیکر نے اراکین کو ہدایت کی ہے کہ مراد علی شاہ کو ووٹ دینے والے اراکین دائیں دروازے کی نشستوں کی جانب جائیں اور شہریار مہر کو ووٹ دینے والے اراکین بائیں جانب دروازے پر کھڑے ہوں۔اسمبلی میں پیپلز پارٹی کی پوزیشن مستحکم ہے اور امکان ظاہر کیا جارہا ہے کہ مراد علی شاہ ایک مرتبہ پھر واضح اکثریت سے قائد ایوان منتخب کرلیے جائیں گے۔(ز،ط)

یہ بھی پڑھیں :کل قومی اسمبلی کے فلور پر تحریک انصاف اور اپوزیشن جماعتیں جس طرح باہم شیر وشکر بنی رہیں اور تحمل و برداشت کا مظاہرہ کرتی رہیں یہ اس بات کا اشارہ ہے کہ ۔۔۔۔۔ یہ شاندار خبر پڑھیے اور اپنی رائے بھی دیجیے

یہ بھی پڑھیں : مقبول ترانے’’ دل دل پاکستان‘‘ کا تخلیق کار اس وقت کہاں اور کس حال میں ہے؟ جان کر آپ کو بھی دکھ ہو گا

Source

You might also like