موتیا سے ہونے والے نابینا پن کا علاج فلیکس سرجری ہے، طبی ماہرین

لیزرکیٹریکٹ سرجری ملک میں نئی ہے،دنیا میں بہت کم لوگ کررہے ہیں،ڈاکٹرزکوآگاہی دینے کی ضرورت ہے،ڈاکٹرشریف ہاشمانی۔ فوٹو: فائل

لیزرکیٹریکٹ سرجری ملک میں نئی ہے،دنیا میں بہت کم لوگ کررہے ہیں،ڈاکٹرزکوآگاہی دینے کی ضرورت ہے،ڈاکٹرشریف ہاشمانی۔ فوٹو: فائل

 کراچی:  طبی ماہرین نے کہا ہے کہ موتیا سے ہونے والا نابینا پن قابل علاج ہے، علاج نہ کرانے سے آنکھوں میں دھندلا پن شروع ہو جاتا ہے جب کہ ملک میں بھی اب موتیا کا لیزر کے ذریعے جدید علاج فلیکس شروع ہوگیا ہے جس کے بہترنتائج سامنے آرہے ہیں۔

طبی ماہرین نے 39 ویں کاروپتھ اور پہلی پاک کورنیا کانفرنس 2018 کے سلسلے میں آپتھلمولوجی سوسائٹی آف پاکستان اور ہاشمانیز اسپتال کے اشتراک سے پری کانفرنس ورکشاپ سے خطاب کیا، مقررین میں پروفیسر میجر جنرل مظہر اسحاق، آئی سرجن ڈاکٹر شریف ہاشمانی، ڈاکٹر عامر اسرار، ڈاکٹر قاسم لطیف، صدر الیکٹ او ایس پی ڈاکٹر قاضی واثق ، ڈاکٹر مصباح عزیز اور دیگر شامل تھے۔

ڈاکٹر شریف ہاشمانی نے سیشن سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اس سیشن کا مقصدآئی اسپیشلسٹ کی تربیت کرنا تھا، لیزر کیٹریکٹ سرجری پاکستان میں نئی ہے۔ دنیا میں بہت کم لوگ کر رہے ہیں یہاں ڈاکٹرز کو بھی آگاہی دینے کی بہت ضرورت ہے، ڈاکٹرز کو چاہیے کہ فلیکس کے لیے وہ صحیح مریضوں کا انتخاب کریں اور ان کی بھرپور کونسلنگ کریں، یہ آپریشن صرف سرجن ہی بہترکر سکتا ہے، کچھ لوگ دوسرے طریقوں سے بھی کرتے ہیں لیکن فلیکس سرجری کا طریقہ سب سے کامیاب ہے 80 فیصد ایسے مریضوں کو اس کی ضرورت نہیں ہوتی لیکن 20 فیصد مریض فلیکس کے قابل ہوتے ہیں جو اچھا دیکھنا چاہتے ہیں۔

آپتھلمولوجی سوسائٹی کے صدر الیکٹ ڈاکٹر قاضی واثق نے خطبہ استقبالیہ میں ڈاکٹر شریف ہاشمانی کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ کاروپتھ اور پہلی پاک کورنیا کانفرنس کے سلسلے میں منعقدہ یہ افتتاحی ورکشاپ آنکھوں کے ماہرین اور جونیئر ڈاکٹرز کے لیے انتہائی مفید ہے۔ لیزر کے ذریعے موتیے کا آپریشن فلیکس کہلاتا ہے جو کراچی میں صرف ہاشمانیز اسپتال میں ہورہا ہے جو بہت خوش آئند ہے، یہ دنیا کی جدید ٹیکنالوجی ہے جو کراچی کے علاوہ لاہور اور راولپنڈی میں بھی اب دستیاب ہے، اس سے مریض چشمے کے نمبروں سے نجات حاصل کر سکتا ہے اور یہ بہت محفوط طریقہ ہے۔

ڈاکٹر مصباح عزیز نے کہا کہ پرانے طریقہ کار سے یہ نیا لیزر آپریشن بہت کامیاب ہے اس کا استعمال بڑھتا جارہا ہے، اس کے نتائج بھی بہت اچھے آرہے ہیں،اس سے بینائی پہلے جیسے فطری ہوجاتی ہے۔ یہ کانفرنس 3 سے 5 اگست تک جاری رہے گی۔

افتتاحی سیشن مقامی ہوٹل میں آج (جمعے) کی شام منعقد ہوگا، کانفرنس کا تھیم ہے’’ آنکھوں کے شعبے میں جدید پیش رفت‘‘ ڈاؤ یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز کے وائس چانسلر پروفیسر سعید قریشی افتتاحی سیشن کے مہمان خصوصی جبکہ انور مقصود اعزازی مہمان ہوں گے۔

پری کانفرنس اور لائیو سرجری ورکشا پس ہاشمانیز آئی اسپتال کلفٹن اور آغا خان یونیورسٹی اسپتال میں منعقد ہورہی ہیں ایونٹ میں ملکی و غیر ملکی طبی ماہرین کے مختلف موضوعات پر سائنسی و تحقیقی مقالے پیش کیے جائیں گے، کانفرنس کے تینوں دنوں میں 24 انٹرایکٹو کورسز اور 29 سمپوزیم منعقد ہوں گے، کانفرنس میں اندرون و بیرون ملک سے 150 مقررین اپنے تجربات پر اظہار خیال کریں گے، اس دوران ایک سائنسی نمائش کا بھی اہتمام کیا گیا ہے جس میں آنکھوں کے شعبے میں خدمات انجام دینے والی ادویہ ساز کمپنیاں اپنے آلات جراحی و سامان کی نمائش کریں گی۔

Source

You might also like