اتحاد کے چند روز بعد ہی پی ٹی آئی اور (ق) لیگ میں اختلافات شروع۔۔۔ پنجاب میں حکومت سازی کے لیے نئی مشکل کھڑی ہو گئی

لاہور(ویب ڈیسک)تحریک انصاف نے مسلم لیگ (ق) کے رہنما پرویز الٰہی کو اسپیکر پنجاب اسمبلی بنانے سے انکار کردیا ہے جس کے نتیجے میں دونوں سیاسی جماعتوں کا شراکت اقتدار کا معاہدہ خطرے میں پڑگیا۔ دوسری جانب پرویزالٰہی کا دعویٰ ہے کہ عمران خان نے انہیں خود اسپیکر کے عہدے کی پیشکش کی ہے اور،
یہ بھی پڑھیں :جب صحافی مخیر سلطان کے سامنے کلمہ ناحق کے بدلے نائب تحصیلدار اور اے ایس آئی بھرتی کرارہے تھے تو اس وقت صحافت کو ملٹی وٹامن کے انجکشن لگ رہے تھے یا اس کی تاج پوشی ہورہی تھی۔۔۔۔ صف اول کے صحافی نے اپنی ہی برادری کو کیوں دھو ڈالا ؟ یہ خبر ملاحظہ کیجیے
گرین سگنل دیدیاہے۔ذرائع کے مطابق تحریک انصاف نے اسپیکر کے عہدے کیلئے ق لیگ سے پرویز الٰہی کے بجائے دوسرا نام مانگ لیا ہے‘ممکنہ حکمران جماعت پرویز الٰہی کو مرکز میں رکھنا چاہتی ہے،نمبر گیم کے حوالے سے بھی پرویز الٰہی کی وفاق میں ضرورت ہے۔اس سے پہلے پی ٹی آئی اور ق لیگ کی قیادت کے درمیان پرویز الہی کو اسپیکر بنانے پر اتفاق ہوگیا تھا۔ذرائع کا کہنا ہے کہ تحریک انصاف مسلم لیگ (ق)کو وفاق اور پنجاب میں 2 ، 2 وزارتیں بھی دے گی اور وزارتوں کا فیصلہ اسپیکر کے انتخاب کے بعد کیا جائے گا،ایک مشیر کا عہدہ دینے کی بھی پیشکش کی گئی ہے ۔دوسری جانب مسلم لیگ (ق) کے سینئر رہنما و سابق وزیراعلیٰ پنجاب پرویز الٰہی نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی کے ساتھ چلنے کیلئے کوئی شرائط نہیں رکھ رہے، وزیراعلیٰ پنجاب پی ٹی آئی سے ہی ہوگا، عمران خان نے مجھے صوبے کی سیٹ چھوڑنے سے منع کیا ہے اور خود اسپیکر پنجاب اسمبلی کے عہدے کی آفر کی۔
ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے پرویز الٰہی نے کہا ہے کہ عمران خان نے مجھے پنجاب اسمبلی کا اسپیکر بنانے کے لئے گرین سگنل دے دیا ہے اور صوبائی نشست چھوڑنے سے منع کیا ہے۔ ہم تحریک کی غیر مشروط حمایت کریں گے، کچھ لوگ عمران خان کو کامیاب ہوتے نہیں دیکھنا چاہتے ‘انشاءاللہ ہمیں ضرورت سے زیادہ نمبرز مل جائیں گے۔پرویز الٰہی نے کہا کہ مسلم لیگ ن کے نومنتخب ممبران صوبائی اسمبلی مجھ سے رابطے میں ہیں اور حمایت کا یقین دلایا ہے وقت آنے پر نام بھی سامنے لائوں گا ۔ جبکہ دوسری جانب قومی اسمبلی میں تحریک انصاف کو ٹف ٹائم دینے کے لیے متحدہ اپوزیشن کی آل پارٹیز کانفرنس (اے پی سی) آج اسلام آباد میں ہوگی، جس کے دوران سیاسی صورتحال، اپوزیشن کی طرف سے وزیراعظم، اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر کے لیے مشترکہ امیدوار لانے سمیت مختلف امور پر مشاورت کی جائے گی۔متحدہ اپوزیشن کی یہ اہم بیٹھک آج سابق اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کے گھر پر ہوگی، جس میں مسلم لیگ (ن)، پاکستان پیپلز پارٹی، متحدہ مجلس عمل اور دیگر اتحادی جماعتوں کے ارکان شرکت کریں گے۔اجلاس میں سیاسی صورتحال، انتخابی نتائج، آئندہ کی حکمت عملی، اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر کے الیکشن میں حصہ لینے اور اپوزیشن لیڈر کی نامزدگی کے فیصلے کے ساتھ ساتھ مبینہ دھاندلی پر وائٹ پیپر بھی جاری کیا جائے گا۔اجلاس میں بلاول بھٹو زرداری، آصف زرداری، شہباز شریف، اسفند یار ولی، محمود خان اچکزئی، حاصل بزنجو ، فضل الرحمان، سراج الحق، ساجد میر، لیاقت بلوچ، اویس نورانی، مصطفیٰ کمال، راجا ظفر الحق، سعد رفیق، خواجہ آصف، احسن اقبال، خورشید شاہ، قمر زمان کائرہ، شیری رحمان، یوسف رضا گیلانی اور پرویز اشرف بھی شرکت کریں گے ۔اس سے قبل ہونے والی اے پی سی میں حزب اختلاف کی جماعتوں نے قومی اسمبلی میں بھرپور احتجاج کا فیصلہ کیا تھا جب کہ اپوزیشن جماعتوں کا کہنا تھا کہ عمران خان کو اتنے آرام سے وزیراعظم نہیں بننے دیں گے۔(س)
Source