اگر عمران خان وزیراعلیٰ پنجاب کے لیے اس شہر سے کسی بھی شخص کو منتخب کر لیں تو اس کا انہیں پاکستان اور تحریک انصاف کو بے تحاشا فائدہ ہو گا ۔۔۔۔ صف اول کے تجزیہ کار نے کپتان کو مشورہ دے دیا

لاہور (وی ب ڈیسک ) سینئر تجزیہ کار ہارون الرشید نے کہاہے کہ عمران خان کے کاروباری طبقے کے ساتھ تعلقات نہیں ہیں اور ملکی معیشت کی بہتری کے لئے کاروباری طبقے سے تعلقات ہونا بہت ضروری ہیں۔ پروگرام تھنک ٹینک میں میزبان عائشہ ناز سے گفتگو کرتے ہوئے ہارون الرشید نے کہا

کہ آئی ایم ایف پیسے نہیں روک سکتا ، آئی ایم ایف سے نہ ملے تو چین سے مل گئے ۔ انہوں نے کہا کہ اگر پنجاب میں وزیر اعلیٰ اور کابینہ ٹھیک بن جاتی ہے تو اتنا بڑا مسئلہ نہیں ۔ وزیر اعلیٰ کے انٹرویوز اس طرح کئے جارہے ہیں جیسے کوئی مکینیکل انجینئر رکھنا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اس لئے تین چار ناموں سے کوئی کسی ایک کا انتخاب کرلیں اور کام شروع کریں،قوم اس وقت تعاون کرنے کے موڈ میں ہے اور دوسرااپوزیشن کا رویہ بہت اچھا ہے ۔انہوں نے کہا کہ جنوبی پنجاب میں اگر کوئی اچھا آدمی ہے تو ٹھیک ہے لیکن اگر نہیں تو ایک سیکرٹریٹ وہاں بنائیں اور ایک سینئر وزیر وہاں سے لیں۔ڈاکٹر یاسمین راشد وزیر اعلیٰ پنجاب کے لئے بہترین ہیں ۔سیاسی تجزیہ کار،روزنامہ دنیا کے گروپ ایگزیکٹو ایڈیٹر سلمان غنی نے کہا کہ عمران خان مضبوط اپوزیشن کو مصیبت سمجھنے کے بجائے مثبت ردعمل اختیار کریں تو اس سے حکومت کی کارکردگی ٹھیک ہوگی ۔وزیر اعلیٰ کے لئے جنوبی پنجاب سے نام آنے کا امکان ہے اور اس کے لئے دو تین نام گردش کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ بظاہر نظر آرہاہے کہ اب یہ سیٹ جنوبی پنجاب کودینی پڑے گی ۔

لاہور کے چیف منسٹر کے مقابلے میں لاہور کا چیف منسٹر ہوتا تو بہت بہتر تھا ۔معروف تجزیہ کار ایاز امیر نے کہا کہ متوقع وزیر خزانہ اسد عمر کا کہنا ہے معیشت کی صورتحال خراب ہے ،دوست ملکوں یا آئی ایم ایف سے رجوع کرنا پڑے گا۔اس حوالے سے میری تجویز ہے کہ اسحاق ڈار کو بلا لیں ، ان سے بہتر قرضے لینے والا نہیں ملے گا یا اسد عمر اسحاق ڈار کی شاگردی اختیار کر لیں ۔اسلام آباد سے دنیا نیوز کے بیورو چیف خاور گھمن نے کہا کہ عمران خان پنجاب کے معاملے میں بہت حساس ہیں ،پاکستان کی سیاست پنجاب کی سیاست ہے عمران خان اس بارے میں کافی مشاورت کر رہے ہیں ان کی کوشش ہے ایسا شخص لایا جائے جو ان کے وژن کے مطابق صوبے کی خدمت کرسکے ۔جنوبی پنجاب سے کوئی شخص وزیر اعلیٰ نامزد ہوتا ہے تو یہ اچھا اشارہ ہوگا۔ان کا کہنا تھا شہباز شریف کا اپوزیشن لیڈر بننا تحریک انصاف کے لئے سانحہ ہوگاوہ کمر درد کا بہانہ کر کے باہر چلے جائیں گے ،اپوزیشن کو مل بیٹھ کر کوئی اور شخص لانا چاہئے ۔(ز،ط)

بھی پڑھیں: بس چند دنوں کی بات ہے پھر لندن فلیٹس کی چابی حکومت پاکستان کے پاس ہو گی اور انہیں بیچ کر حاصل ہونے والا پیسہ قومی خزانے میں جمع کروا دیا جائے گا ۔۔۔۔یہ دعویٰ ٹرک کی بتی کے سوا کچھ بھی نہیں کیونکہ ۔۔۔۔۔نامور کالم نگار نے حقیقت قوم کے سامنے رکھ دی

Source

You might also like