جگنو محسن نے عمران خان نے سے ملاقات کے لیے کوشش کی مگر پھر کیا ہوا؟ معروف صحافی نے دھماکہ خیز انکشاف کر دیا
لاہور (ویب ڈیسک)پنجاب کے علاقے اوکاڑہ سے صوبائی نشست پر کامیاب ہونے والی امید وار جگنو محسن نے اعلان کر رکھا ہے کہ پنجاب میں جوبھی جماعت حکومت بنانے جارہی ہوگی ،میں اسے ہی اعتماد کا ووٹ دوں گی تاہم ایک صحافی نے انکشاف کیا کہ جگنو محسن نے عمران خان
سے ملنے کی کوشش کی تاہم عمران خان نے ان سے ملنے سے انکار کردیا ۔مائیکرو بلاگنگ ویب سائٹ ٹوئٹر پر صحافی اظہر جاوید نے بتا یا کہ ذرائع کا کہنا ہے کہ جگنو محسن نے عمران خان سے ملاقات کے لیے سر توڑ کوشش کی اور اس سلسلے میں جہانگیر ترین سے بھی رابطے ہوئے لیکن عمران خان نے ملنے سے انکار کردیا ۔ان کا کہنا تھا کہ جگنو محسن نے ابھی تک ہمت نہیں ہاری اور کوششیں جاری رکھی ہوئی ہیں ۔دوسری جانب نجی نیوز چینل جیو نیوز کے پروگرام”کیپٹل ٹاک “میں گفتگو کرتے ہوئے جگنو محسن کا کہنا تھا کہ اگر تحریک انصاف نے حکومت بنائی تو میں ووٹ تحریک انصاف کو دوں گی کیونکہ میرے حلقے نے مجھے کہا ہے کہ جو بھی حکومت بنانے میں کامیاب ہو ،اس کے لیے ووٹ کریں ،اگر مسلم لیگ ن حکومت بنانے میں کامیاب ہوئی تو اس جماعت کو ووٹ دوں گی۔دوسری جانب ایک خبر کے مطابق الیکشن 2018ء میں بطور آزاد امیدوار منتخب ہونے والی ایم پی اے جگنو محسن کا کہنا ہے کہ میںپاکستان تحریک انصاف سے یہ امید رکھوں گی کہ اور میں خود بھی اس قانون سازی کا حصہ بنوں گی جس میں پولیس کے محکمہ میں شفافیت لائی جائے۔
میرے خیال میں عمران خان نے خیبرپختونخوا میں پولیس ریفارمز میں بہتری لانے کی کوشش کی ہے۔اور میں نے سنا ہے کہ انہیں اس سلسلے میں کافی حد تک کامیابی بھی حاصل ہوئی ہے۔تومیری اور میرے ووٹرز کو بھی یہ امید ہے کہ پولیس کے محکمہ کے اندر اس قسم کی اصلاحات ہوں کہ اس میں شفافیت ہو۔اور تھانہ کلچر کو سیاست سے پاک کرنا بہت ضروری ہے۔یعنی کے کسی ایم این اے اور ایم پی اے کے کہنے پر وہاں پر پرچے نہیں کٹنے چاہیے۔اور وہاں میرٹ ہونا چاہئیے۔یاد رہے اس سے قبل یہ خبر بھی سامنے آئی تھی کہ نجم سیٹھی کی اہلیہ جگنو محسن نے اپنا ووٹ تحریک انصاف کو دینے کا عندیہ دے دیا،نجم سیٹھی کی اہلیہ جگنو محسن کا کہنا تھا کہ میں اسمبلی میں آزاد رہوں گی تاہم مجھے لگتا ہے کہ ہمیں آنے والی حکومت کا اعتماد کا ووٹ دینا چاہیے تاکہ ایک مظبوط حکومت بن کر سامنے آ سکے۔ پنجاب اس وقت حکومت سازی کے لیے 2 بڑی جماعتوں کی جانب دیکھ رہا ہے۔25جولائی کو انعقاد پذیر ہونے والے انتخابات میں مسلم لیگ ن نے 129 نشستیں حاصل کی تھٰیں جبکہ پاکستان تحریک انصاف 123 نشستیں حاصل کر کے دوسرے نمبر پر موجود ہے۔اس حوالے پاکستان میں تحریک انصاف اور مسلم لیگ ن کے مابین تخت لاہور کے لیے بڑا میچ پڑچکا ہے جو بظاہر مسلم لیگ نہارتی ہوئی نظر آرہی ہے۔س وقت تحریک انصاف کے دعوے کے مطابق انہیں 153 اراکین کی حمایت حاصل ہے جب پنجاب میں حکومت بنانے کے لیے 149 کی اکثریت چاہیے ہے۔ نمبر گیم کے اس سارے سلسلے میں آزاد اراکین کا کردار انتہائی اہم تھا ۔اب 25 میں سے 18 آزاد امیدوار تحریک انصاف کی حمایت کرنے کا اعلان کر چکے ہیں۔(ف،م)