حکمت عملی تیار۔۔۔عمران خان کے حلف اٹھانے والے دن اپوزیشن جماعتیں کیا کارروائی ڈالنے والی ہیں ؟ بڑا انکشاف ہوگیا

اسلام آباد (ویب ڈیسک) نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں بات کرتے ہوئے مسلم لیگ ن کے رہنما مشاہد اللہ خان نے کہا کہ کچھ لوگوں کو متحدہ اپوزیشن کی رفتار کم لگ رہی ہے لیکن ہمیں ان لوگوں کی رفتار کچھ زیادہ ہی لگ رہی ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ

ابھی حکومت بنی ہی نہیں ہے۔ ابھی بچہ پیدا ہی نہیں ہوا اور آپ سب ان کو کالج میں داخل کروانے کے چکر میں ہیں۔ایسا کیسے ہو سکتا ہے؟ پہلے حکومت بننے دیں ، حلف بننے دیں اس کے بعد ہی اپوزیشن کا آغاز ہو گا۔ اور اس سے پہلے ہم نے جو جو کچھ کرنا ہے وہ ہم حلف والے دن اسلام آباد میں کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ حلف والے دن اسلام آباد میں بہت بڑا اجتماع ہو گا اور ایسا کبھی ہوا نہیں ہوگا۔ مشاہد اللہ خان نے کہا کہ اس کی تمام تر تفصیلات صحیح وقت پر سامنے آ جائیں گی۔مشاہد اللہ خان نےکہا کہ یہ اتحاد بلف کرنے والوں کے خلاف بنایا گیا ہے۔ یاد رہے کہ عام انتخابات 2018ء میں پاکستان تحریک انصاف کو نمایاں برتری حاصل ہوئی تھی۔ جس کے بعد اب پاکستان تحریک انصاف نے وفاق میں حکومت بنانے کے لیے 180 ووٹ حاصل کر لیے ہیں۔ گذشتہ روز موصول ہونے والی خبروں کے مطابق 11 اگست کوقومی اسمبلی کے اجلاس میں نومنتخب ارکان حلف اٹھائیں گے۔11 اگست کو ہی اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکرکے عہدوں کے لیے کاغذات نامزدگی جمع ہوں گے۔12 اگست کوقومی اسمبلی کےاسپیکراور ڈپٹی اسپیکر کے لیے انتخاب ہو گا۔13 اگست کووزیراعظم کےعہدے کے لیے کاغذات نامزدگی جمع کروائےجائیں گے۔

ارکان قومی اسمبلی 15 اگست کو نئے وزیراعظم کا انتخاب کریں گے۔ جس کے بعد 15 اگست کو ہی نومنتخب وزیراعظم اپنے عہدے کا حلف اُٹھالیں گے۔ تاہم اپوزیشن نے حلف برداری کے دن ہی ایک اجتماع کی حکمت عملی تیار کر رکھی ہے ، البتہ اس اجتماع کی تفصیلات سے متعل قابھی کچھ بھی نہیں بتایا گیا۔دوسری جانب ایک خبر کے مطابق مسلم لیگ ن کے رہنماء چوہدری نثار کا کہنا ہے کہ نہ میں نے پارٹی چھوڑی نہ ہی چھوڑنے کا ارادہ ہے۔مسلم لیگ ن کے رہنماء چوہدری نثار کا پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہنا تھا کہ سوالات پہلے کرلیں، جواب پریس کانفرنس میں دوں گا اور میں کسی تحریک کا حصہ ہوں نہ کسی کا آرڈر لیکر آیا ہوں۔چوہدری نثار کا کہنا تھا کہ مجھے معلوم ہے آپ کو پوچھنا ہے ن لیگ میں رہیں گے یا نہیں جبکہ بڑے بڑے امتحان آئے کبھی پارٹی کو نہیں چھوڑا ہے۔ گروپ بنانے والے اور لوگ ہوں گے میں ایسا نہیں ہوں اور کسی آزاد گروپ کا حصہ نہیں ہوں۔مسلم لیگ ن کے رہنماء چوہدری نثار کا کہنا تھا کہ دو نمبرکے لوگوں کی باتوں میں نہ آئیں اور سیاسی فیصلے اپنی مرضی سے کرتا ہوں۔ نوازشریف، عمران خان مجھ سے متعلق سوال پر خاموش رہتے ہیں اور دونوں کی خاموشی سے میرا کیا تعلق ہوسکتا ہے۔چوہدری نثار کا کہنا تھا کہ وضاحت دینے آیا ہوں سیاسی طور پر خود کہاں کھڑا ہوں اور کسی سوال پر بات نہ کروں تو سمجھیں جواب نہیں دینا چاہتا ہوں۔ آزاد میڈیا ہے جس کے جو جی میں آتا ہے چلا دیتا ہے۔مسلم لیگ ن کے رہنماء چوہدری نثار کا کہنا تھا کہ میں پارٹی سے ناراض نہیں ہوں اور میرا پارٹی سے کوئی مطالبہ نہیں ہے۔ میں نے پارٹی سے کسی عہدے کا تقاضہ نہیں کیا ہے اور پی ایم ایل این کے قائم ہونے سے قبل 3 بار وزیر بن چکا تھا۔(ف،م)

Source

You might also like