سپریم کورٹ؛ قابضین سے سرکاری مکان خالی کرانے کا حکم

ہم 20سال سے کوارٹرز میں مقیم ہیں،رٹائرڈ ملازمین، اگر کوئی100 سال سے رہ رہا ہو تو قبضہ قانونی نہیں ہوجائے گا ،جسٹس مشیر عالم کے ریمارکس
فوٹو:فائل
کراچی: سپریم کورٹ نے مارٹن کوارٹرز سمیت دیگر سرکاری مکانات خالی کرانے سے متعلق حکم امتناع کی درخواست مسترد کردی.
عدالت نے پاکستان کوارٹرز اور پاکستان سیکریٹریٹ کے مکینوں کا معاملہ اسٹیٹ آفیسر کو10 دن میں نمٹانے اور ریٹائرڈ ملازمین اور دیگر غیر قانونی طور مقیم افراد سے کوارٹرز خالی کرانے کا حکم دیدیا، جسٹس مشیر عالم نے ریمارکس دیے کہ اگر کوئی 100 سال سے کہیں رہ رہاہو تو اس کا قبضہ قانونی نہیں ہوجائے گا۔
سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں جسٹس مشیر عالم کی سربراہی میں 2 رکنی بینچ کے روبرو مارٹن کوارٹرز سمیت دیگر سرکاری مکانات خالی کرانے سے متعلق معاملے کی سماعت ہوئی، عدالت کے روبرو ڈپٹی اٹارنی جنرل نے رپورٹ پیش کردی، رپورٹ کے مطابق کراچی میں4168 سرکاری کوارٹرز پر قبضہ ہے، رپورٹ میں بتایا گیا کہ مارٹن کوارٹرز میں 639 اور پٹیل پاڑہ میں 301 مکانوں پر قبضہ ہے، گارڈن اور پاکستان کوارٹرز میں 49 مکانوں پر قبضہ ہے۔
باتھ آئی لینڈ سے قبضہ ختم کرالیاگیا ہے، مکینوں کو حتمی نوٹسز جاری کرکے اشتہارات بھی شائع کرادیے گئے ہیں ، سپریم کورٹ نے سرکاری کوارٹرز کے انخلا کے خلاف حکم امتناع کی درخواست مسترد کرتے ہوئے حکومت کو سرکاری رہائش گاہیں خالی کرانے کا عمل جاری رکھنے کی ہدایت کی، سپریم کورٹ نے پاکستان کوارٹرز اور پاکستان سیکریٹریٹ کے مکینوں کا معاملہ اسٹیٹ آفیسر کو 10 دن میں نمٹانے اور اسٹیٹ آفیسر کو مکینوں کی انفرادی درخواستیں سن کر فیصلہ کرنے کا حکم بھی دیا، رٹائرڈ ملازمین نے عدالت کے روبرو کہا کہ ہم 20، 20 سال سے کوارٹرز میں مقیم ہیں۔
جسٹس مشیر عالم نے ریمارکس دیتے ہوئے کہاکہ اگرکوئی100 سال سے بھی رہ رہا ہو تو اس کا قبضہ قانونی نہیں ہوجائے گا، حاضر سروس ملازمین کے سوا کسی کا سرکاری مکان پر حق نہیں، سپریم کورٹ نے سندھ حکومت کی رہائش گاہوںکے مکینوں کی درخواستیں سیکریٹری جنرل ایڈمنسٹریشن کو سننے کی ہدایت کردی،دوسری جانب سرکاری کوراٹرزکے رہائشیوں نے سپریم کورٹ رجسٹری کے باہر احتجاج کیا،احتجاج میں بچے،خواتین اوربزرگوں اورمردوں کی بڑی تعداد شریک تھی،مظاہرین نے پلے کارڈ اٹھا رکھے تھے جس پر چیف جسٹس آف پاکستان کے حق پر نعرے درج تھے،مظاہرین نے کہا کہ ہمیں2006میں الاٹمنٹ لیٹر جاری کیا گیا تھا،بے گناہوں کو سزا کیوں دی جارہی ہے،انصاف فراہم کریں۔
Source