شہباز شریف تحریک انصاف کیخلاف کیا کردار ادا کرنے والے ہیں؟ مسلم لیگ (ن) سب واضح کر دیا،حیران کن خبر آگئی

اسلام آباد( ویب ڈیسک) مسلم لیگ ن نے فیصلہ کیا ہے کہ شہبازشریف قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر ہوں گے، دوسری جانب پیپلزپارٹی نے قائد ایوان کے الیکشن کے روز احتجاج کی مخالفت کردی۔ پیپلزپارٹی کا کہنا ہے کہ اس دن اگراحتجاج کیا گیا توغیرمئوثر رہے گا،دوسرے روز بھر پوراحتجاج کرنا چاہیے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کی رہائشگاہ پرہم خیال جماعتوں کی جوائنٹ ایکشن کمیٹی کا اجلاس ہوا۔اجلاس میں مسلم لیگ ن ، پیپلزپارٹی اور ایم ایم اے و دیگر جماعتوں نے شرکت کی۔ دھاندلی پراکٹھی ہم خیال جماعتوں نے اجلاس میں قائد ایوان، اپوزیشن لیڈر اور اسپیکر قومی اسمبلی و ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی سمیت احتجاجی لائحہ عمل سے متعلق مشاورت کی۔پیپلزپارٹی نے قائد ایوان کے الیکشن کے روز احتجاج کی مخالفت کردی۔ پیپلزپارٹی نے مئوقف اختیار کیا ہے کہ اس دن اگر احتجاج کی گیا تووہ غیرمئوثر رہے گا۔قائد ایوان کے انتخاب کے دوسرے روز بھر پور احتجاج کرنا چاہیے۔ تاہم مسلم لیگ ن نے فیصلہ کیا کہ شہبازشریف ہی قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر ہوں گے۔ واضح رہے گزشتہ روز اپوزیشن جماعتوں نے آئندہ کے لائحہ عمل پرعملدرآمد کیلئے 16رکنی کمیٹی بنائی تھی۔ کمیٹی میں سعد رفیق،، احسن اقبال، مشاہد حسین سید، شیری رحمان، قمر زمان کائرہ، اویس نورانی ، لیاقت بلوچ، گوہر حیدری، غلام احمد بلور، میاں افتخار، عثمان کاکڑ، رضا محمد، امیر کبیر، ملک ایوب سمیت دیگر شامل ہیں۔ترجمان مریم اورنگزیب نے کہا کہ مشترکہ حکمت عملی کیلئے کمیٹی تشکیل دے دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کمیٹی آئندہ کے لائحہ عمل اورایوان کی کاروائی کے حوالے سے حکمت عملی طے کرے گی۔
تمام جمہوری جماعتوں کا الائنس ہوا ہے۔تحریک انصاف کو بتائیں گے کہ اپوزیشن کیا ہوتی ہے؟۔دوسری جانب ایک خبر کے مطابق اپوزیشن جماعتیں مسلم لیگ ن کے صدر محمد شہباز شریف کو قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف بنانے پر رضا مند ہوگئیں۔متحدہ مجلس عمل نے پہلی ملاقات میں شہباز شریف کو حمایت کی یقین دہانی کرادی تھی جبکہ اب پیپلزپارٹی نے بھی متفقہ اپوزیشن لیڈر کے لئے ہاں کردی ہے۔نجی نیوز سے بات کرتے ہوئے قمر زمان کائرہ نے کہا کہ بلاول بھٹو اپوزیشن لیڈر کے امیدوار نہیں، مسلم لیگ ن کو مینڈیٹ ملا ہے اس لئے اپوزیشن لیڈر بھی انہیں کا ہوگا۔شہباز شریف پہلے ہی پنجاب چھوڑ کر مرکز میں جانے کا اعلان کرچکے تھے۔ متفقہ اپوزیشن لیڈر کا باضابطہ اعلان کل اے پی سی اجلاس کے بعد متوقع ہے۔حالیہ انتخابات 2018 میں تحریک انصاف کو قومی اسمبلی میں اکثریت حاصل ہوئی ہے جس کے بعد پاکستان کے متوقع وزیراعظم چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان ہوں گے۔(ف،م)