محمود خان کا نام بطور وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا فائنل۔۔۔ مگرعمران خان نے یہ نام کیوں اور کس کے دباؤ میں فائنل کیا؟ تہلکہ خیز حقیقت سامنے آ گئی

اسلام آباد (ویب ڈیسک) نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں بات کرتے ہوئے سیاسی تجزیہ کار نصرت جاوید نے کہا کہ عمران خان نے محمود خان کو پشاور کے وزیراعلیٰ کے لیے نامزد کر دیا ہے۔ انہوں نے ایسا کیا اور پرویز خٹک کا دل نہیں توڑ ا۔ نصرت جاوید نے بتایا کہ،

پرویز خٹک کا بس ایک ون پوائنٹ ایجنڈا تھا کہ کسی صورت عاطف خان کو وزیر اعلیٰ خیبرپختونخواہ نہیں بننے دینا ۔خان صاحب کا پرویز خٹک کو یہ پیغام تھا کہ میں آپ کی وجہ سے خیبرپختونخواہ میں نہیں جیتا، آپ کی گورننس اور مینجمنٹ نے مجھے خیبرپختونخواہ میں دو تہائی اکثریت نہیں دلوائی۔ اگر کسی چیز نے خیبرپختونخواہ میں جتوایا ہے تو وہ میری فلاسفی اور پارٹی کا منشور ہے۔ سیاسی تجزیہ کار کا کہنا تھا کہ عمران خان نے محمود خان کو وزیر اعلیٰ خیبرپختونخواہ نامزد کر کے پرویز خٹک کا دل رکھا ہے لیکن یہ سہولت شاہ محمود قریشی کو میسر نہیں ہوئی۔یاد رہے کہ پرویز خٹک نے پی ٹی آئی رہنما عاطف خان کو وزیراعلیٰ خیبرپختونخواہ بنانے کی مخالفت کی تھی، اور وہ خود دوبارہ خیبرپختونخواہ کے وزیراعلیٰ بننے کے خواہشمند تھے جس پر عمران خان نے صاف انکار کر دیا تھا۔ تاہم اب پرویز خٹک کو وفاقی کابینہ میں شامل کیے جانے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔ میڈیا ذرائع کا کہنا ہے کہ سابق وزیر اعلیٰ خیبرپختونخواہ کو مرکز میں اہم وزارت دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے لیکن اس کا اعلان پارٹی چئیرمین عمران خان چند روز میں خود کریں گے۔سابق وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا پرویز خٹک کے قریبی ساتھی کا کہنا ہے کہ،

پرویز خٹک اپنی تمام تر کوششوں کے باوجود صوبائی وزارت اعلیٰ کا عہدہ دوبارہ حاصل کرنے میں ناکام ہوگئے اور اب انہیں مرکز میں اہم وزارت ملنے کا امکان ہے ۔ امکان ظاہر کیا جا رہا ہے ہے کہ سابق وزیر اعلیٰ خیبرپختونخواہ پرویز خٹک کو مرکز میں وزارت داخلہ یا وزارت پیٹرولیم کی ذمہ داری سونپی جائے گی۔ جبکہ دوسری جانب تحریک انصاف اور بی این پی کے درمیان مذاکرات کامیاب ہوگئے ، سردار اختر مینگل مرکز میں عمران خان کی حمایت پر رضا مند ، دونوں جماعتوں نے معاہدے پر دستخط کر دیئے۔تفصیلات کے مطابق پاکستان تحریک انصاف اور بی این پی کے درمیان مذاکرات کامیاب ہو گئے ہیں ، بی این پی کے سربراہ سردار اختر مینگل نے مرکز میں عمران خان کی حمایت کرنے پر رضا مندی ظاہر کر دی ہے۔ اس سلسلے میں دونوں جماعتوں کے رہنمائوں نے تحریری معاہدے پر دستخط کیے ، تحریک انصاف کی جانب سے جہانگیر ترین ، شاہ محمود قریشی نے سردار اختر مینگل کے ساتھ چھ نکاتی ایجنڈے پر اتفاق کیا ۔بی این پی کے سربراہ نے کہا کہ بلوچستان کی حکومت کو ہمیشہ وفاق کے لیے قربان کیا گیا ، آج گوادر میں پینے کے لیے صاف پانی اور بجلی تک میسر نہیں ہے ۔تحریکِ انصاف کے رہنما نے کہا کہ ہم نے تفصیلی نشست میں ایک دوسرے کا نقطۂ نظر سمجھنے کی کوشش کی، بلوچستان وفاق کی اہم اکائی ہے۔ آگے بڑھنا ہے اور بلوچستان کے دیرینہ مسائل حل کرنے ہیں، یہ ملاقات مسائل کے حل کی جانب بہت بڑا قدم ہے , ہم معاہدہ کرنے میں کام یاب ہوگئے ہیں، بی این پی کی قیادت وفاق میں سپیکر و ڈپٹی سپیکر اور وزارتِ عظمیٰ کے لیے ہمیں سپورٹ کرے گی۔ (س)

Source

You might also like