مشکل وقت میں پی ٹی آئی کاساتھ نبھانے کے بدلے کون سی وزارت چاہیے؟

اسلام آباد(ویب ڈیسک) عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید احمد نے کہا ہے کہ وہ عمران خان کے برے وقت کے دوست اورسینئر سیاستدان ہیں مگر وزارت نہیں مانگیں گے،چیف جسٹس پاکستان، چیف الیکشن کمشنراورآرمی چیف کی وجہ سے ملک میں ایسے شفاف الیکشن ہوئے۔اسلام آباد میں سپریم کورٹ کے باہرمیڈیا سے بات کرتے ہوئے،

شیخ رشید نے کہا کہ این اے 60 پرمیرا ایک مخالف امیدوار نااہل ہوگیا تھا جب کہ دیگر امیدواروں کی اکثریت میرے حق میں دستبردار ہوچکی تھی۔ جبکہ دوسری جانب پاکستان کے متوقع وزیراعظم اور چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے کہا ہے کہ منی لانڈرنگ کے ذریعے برطانیہ منتقل کی گئی دولت کی وطن واپسی ہمارا عزم ہے۔پاکستان تحریک انصاف کے ٹوئٹر اکاؤنٹ سے جاری بیان کے مطابق برطانوی ہائی کمشنر تھامس ڈریو نے عمران خان سے بنی گالہ میں ان کی رہائش گاہ پر ملاقات کی۔برطانوی ہائی کمشنر نے انتخابات میں کامیابی پر عمران خان کو مبارکباد دی اور نئی حکومت کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔ تھامس ڈریو کا اس موقع پر کہنا تھا کہ الیکشن میں کامیابی کے بعد کیے گئے عمران خان کے خطاب نے برطانیہ میں نہایت مثبت اثرات چھوڑے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ برطانوی حکومت تحریک انصاف کی حکومت سے مکمل تعاون کے لیے تیار ہے۔برطانوی ہائی کمشنر نے کہا کہ 22 لاکھ بچوں کو اسکول بھجوانے کے لیے حکومت پاکستان کی مدد کی جائے گی اور دیگر شعبوں میں بھی تعاون کے لیے تیار ہیں۔عمران خان نے مبارکباد اور نیک تمناؤں کے اظہار پر برطانوی حکومت کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ پاک برطانیہ تعلقات نہایت اہمیت کے حامل ہیں۔چیئرمین تحریک انصاف کا کہنا تھا کہ پاکستانیوں کی ایک بڑی تعداد برطانیہ میں مقیم ہے اور منی لانڈرنگ کے ذریعے برطانیہ منتقل کی گئی دولت کی وطن واپسی ہمارا عزم ہے۔

جبکہ دوسری جانب قومی اسمبلی میں تحریک انصاف کو ٹف ٹائم دینے کے لیے متحدہ اپوزیشن کی آل پارٹیز کانفرنس (اے پی سی) آج اسلام آباد میں ہوگی، جس کے دوران سیاسی صورتحال، اپوزیشن کی طرف سے وزیراعظم، اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر کے لیے مشترکہ امیدوار لانے سمیت مختلف امور پر مشاورت کی جائے گی۔متحدہ اپوزیشن کی یہ اہم بیٹھک آج سابق اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کے گھر پر ہوگی، جس میں مسلم لیگ (ن)، پاکستان پیپلز پارٹی، متحدہ مجلس عمل اور دیگر اتحادی جماعتوں کے ارکان شرکت کریں گے۔اجلاس میں سیاسی صورتحال، انتخابی نتائج، آئندہ کی حکمت عملی، اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر کے الیکشن میں حصہ لینے اور اپوزیشن لیڈر کی نامزدگی کے فیصلے کے ساتھ ساتھ مبینہ دھاندلی پر وائٹ پیپر بھی جاری کیا جائے گا۔اجلاس میں بلاول بھٹو زرداری، آصف زرداری، شہباز شریف، اسفند یار ولی، محمود خان اچکزئی، حاصل بزنجو ، فضل الرحمان، سراج الحق، ساجد میر، لیاقت بلوچ، اویس نورانی، مصطفیٰ کمال، راجا ظفر الحق، سعد رفیق، خواجہ آصف، احسن اقبال، خورشید شاہ، قمر زمان کائرہ، شیری رحمان، یوسف رضا گیلانی اور پرویز اشرف بھی شرکت کریں گے ۔اس سے قبل ہونے والی اے پی سی میں حزب اختلاف کی جماعتوں نے قومی اسمبلی میں بھرپور احتجاج کا فیصلہ کیا تھا جب کہ اپوزیشن جماعتوں کا کہنا تھا کہ عمران خان کو اتنے آرام سے وزیراعظم نہیں بننے دیں گے۔یاد رہے کہ 30 جولائی کو مسلم لیگ (ن)، پیپلزپارٹی، عوامی نیشنل پارٹی اور متحدہ مجلس عمل کے درمیان قومی اسمبلی میں گرینڈ اپوزیشن الائنس کے قیام پر اتفاق ہوا تھا۔(س)

Source

You might also like