نئی حکومت کے لیے پہلا سب سے بڑا چیلنج کیا ہو گا ؟ صف اول کے میڈیا گروپ کے تھنک ٹینک نے عمران خان کو خبردار کر دیا
لاہور(وی ب ڈیسک )سینئر تجزیہ کار ہارون الرشید نے کہا ہے کہ ساری دنیا میں نیشنلائزیشن کا تجربہ ناکام ہوا ہے ،چین میں جزوی طور پر اس لئے کامیاب ہے کہ وہاں ایک پارٹی ہے ۔ریاست کی رٹ اتنی مضبوط ہے کہ کرپشن پر پھانسی پر لٹکا دیا جاتا ہے ۔اچھی کارکردگی پر
ملازمین کو بونس دیا جاتا ہے لیکن یہ پاکستان میں نہیں ہوسکتاکیونکہ اس قوم کا مزاج مختلف ہے ۔پروگرام ’’تھنک ٹینک ‘‘ میں میزبان عائشہ ناز سے گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ پی آئی اے ،سٹیل مل ،ریلوے ،بجلی کمپنیوں میں کیا ہو رہا ہے ہماری قوم میں صلاحیت اور ذہانت ہے لیکن ریاست کی رٹ قائم ہونی چاہیے ،اسد عمر ذہین اور قابل اعتبار شخص ہیں لیکن ان کو وزیر خزانہ کی حیثیت سے تجربہ نہیں ہے ،ہمارے بغیر امریکہ افغانستان میں کچھ حاصل نہیں کرسکتا،معروف تجزیہ کار ایاز امیر نے کہا ہے کہ نئی حکومت کی پہچان اس کی سمت اور معاشی پالیسی ہوگی ،عمران خان تبدیلی کیلئے آسمان سے ریاست نہیں لائیں گے ۔اگر ٹھیک یا خراب کرنا ہے ،اسی ریاست کو کرنا ہے ،چین کی معاشی ترقی پبلک سیکٹر کی مرہون منت ہے ،ہمارے نام نہاد صنعتکاروں کی ذہنیت تاجرانہ ہے ،یہاں کوئی ٹاٹااور برلا پیدا نہیں ہوا،پی ٹی سی ایل کی نجکاری پرہمارے برادر اسلامی ملک نے 800ملین ڈالر ابھی تک نہیں دئیے ،سیاسی تجزیہ کار،روزنامہ دنیا کے گروپ ایگزیکٹو ایڈیٹر سلمان غنی نے کہا کہ خزانہ، داخلہ اور خارجہ کی تین وزارتیں اہم ہیں ،اس وقت بڑا چیلنج معاشی ہے اور اس سے نمٹنے کیلئے
سب سے اہم چیز سیاسی استحکام ہے ،عمران خان سے عوام کی توقعات بہت ہیں ،ذرائع کے مطابق گزشتہ ڈیڑھ سال میں 15ارب ڈالر پاکستان سے باہر چلے گئے ،حکومت تنہا یہ کام نہیں کرسکتی اس کیلئے اپوزیشن کا تعاون ضروری ہے ،تجزیہ کار خاور گھمن نے کہا کہ اس وقت عمران خان کیلئے اہم ترین چیلنج کابینہ کی تشکیل ہے ،تحریک انصاف کے ساتھ آزاد ارکان کے علاوہ 8 چھوٹی بڑی جماعتیں ہیں ان کے درمیان وزارتوں کی تقسیم اہم معاملہ ہے ۔(ز،ط)