نامزد وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان کو ماضی میں کن مشکلات اور الزامات کا سامنا کرنا پڑا؟ ناقابل یقین انکشاف ہو گیا

اسلام آباد (ویب ڈیسک) پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین عمران خان نے محمود خان کو وزارت اعلیٰ خیبر پختونخوا کیلئے امیدوار نامزد کردیا ہے تاہم وہ ماضی میں وزیر کھیل و آبپاشی رہ چکے ہیں جس دوران انہیں18 لاکھ روپے کی کرپشن کے الزامات کا سامنا کرنا پڑا۔

محمود خان سابق وزیر اعلیٰ کے پی کی کابینہ میں وزیر کھیل و آبپاشی رہ چکے ہیں جبکہ مٹہ کے ناظم بھی رہے، وہ حالیہ انتخابات میں خیبرپختونخواہ اسمبلی کے حلقہ پی کے 9 مٹہ سوات سے منتخب ہوئے اور آج عمران خان نے انہیں خیبرپختونخواہ کے وزیراعلیٰ کے طور پر نامزد کیا ہے۔2013ءکے انتخابات میں تحریک انصاف نے خیبرپختوانخواہ میں حکومت بنائی تو محمود خان کو صوبے کا وزیر کھیل مقرر کیا گیا جس دوران انہیں 18 لاکھ روپے کرپشن کا سامنا کرنا پڑا اور بعد ازاں انہیں وزارت سے ہٹا دیا گیا تھا۔عمران خان کی جانب سے انہیں وزیراعلیٰ خیبرپختونخواہ نامزد کئے جانے پر سوشل میڈیا پر ایک طوفان سا برپا ہے اور اپوزیشن جماعتیں کرپشن کے الزامات پر وزارت سے ہٹائے جانے والے شخص کو وزیراعلیٰ خیبرپختونخواہ نامزد کرنے پر تنقید کر رہی ہیں۔دوسری جانب ایک خبر کے مطابق اس سے قبل وزیر اعلیٰ خیبر پختونخواہ کے لیے سابق وز یراعلیٰ پرویز خٹک، سابق وزیر تعلیم عاطف خان اور سابق سپیکر اسد قیصر کے نام سامنے آئے تھے تاہم اس اہم عہدے کیلئے محمود خان کو چنا گیا۔پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے سوات سے صوبائی اسمبلی کا انتخاب جیتنے والے محمود خان کو وزیراعلیٰ

خیبرپختونخوا کا امیدوار نامزد کردیا۔ محمود خان کا تعلق سوات سے ہے۔ خیال رہے کہ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کے لیے پرویز خٹک، اسد قیصر اور عاطف خان کے نام لیے جا رہے تھے۔وزیر اعلیٰ کیلئے محمود خان کا نام پرویز خٹک نے پیش کیا۔ محمود خان پی کے 9 سے رکن صوبائی اسمبلی منتخب ہوئے۔ محمود خان دوسری بار خیبر پختونخوا اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے ہیں۔ محمود خان خیبر پختونخوا حکومت میں وزیر کھیل و ثقافت رہے۔محمود خان کا تعلق سوات کے تحصیل مٹہ سے ہے۔ وہ 1972 کو ڈاکٹر محمد خان کے گھر پیدا ہوئے۔ انہوں نے ابتدائی تعلیم سوات کے علاقہ خوازہ خیلہ میں سرکاری سکول سے لی، بعد میں میٹرک اور ایف ایس سی کی تعلیم پشاور پبلک سکول سے حاصل کی۔ انہوں نے ایم ایس سی ایگریکلچر کی ڈگری پشاور یونیورسٹی سے مکمل کی۔وہ 2008ء میں بلدیاتی انتخابات میں آزاد حثیت سے یونین کونسل ناظم یو سی خریڑئی منتخب ہوئے۔ ان کا خاندان پہلے پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) میں تھا لیکن 2012ء میں انہوں نے پی ٹی آئی میں شمولیت اختیار کر لی۔2013ء میں پی ٹی آئی کی نشست سے صوبائی اسمبلی کے حلقہ پی کے 84 سے رکن منتخب ہوئے، جو اب نئے مردم شماری میں حلقہ پی کے 9 بن گیا ہے۔2013ء کے دوران محمود خان دو ماہ کیلئے صوبائی وزیرِ داخلہ رہے۔ 2013ء سے 2015ء تک صوبائی وزیر ایریگیشن رہے۔ 2013ء سے 2018ء تک وہ صوبائی وزیر کھیل وثقافت، سیاحت اور یوتھ افیر بھی رہے۔ ان کا ایک بھائی عبداللہ تحصیل ناظم مٹہ ہے اور دوسرا بھائی احمد خان ضلعی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر ہے۔یاد رہے کہ نجی ٹی وی نیوز چینل نے گزشتہ دنوں ہی محمود خان کے وزیرِاعلیٰ بننے کی پیشگوئی کر دی تھی جو سچ ثابت ہوئی۔(ف،م)

Source

You might also like