نواز شریف اور مریم نواز اڈیالہ جیل میں قید مگربیگم کلثوم نواز اس وقت کس حال میں ہیں ؟ لندن کے (ن) لیگی کارکنوں کے لیے بڑی بریکنگ نیوز آ گئی

لندن (ویب ڈیسک) خاندانی ذرائع کا کہنا ہے کہ بیگم کلثوم نواز کی صحت میں بتدریج بہتری آ رہی ہے، وینٹی لیٹر کو روزانہ چند گھنٹوں کے لئے اتارا جاتا ہے۔ سابق وزیرِاعظم میاں محمد نواز شریف کی اہلیہ بیگم کلثوم کی صحت بتدریج بہتر ہو رہی ہے۔ خاندانی ذرائع کے مطابق،

ان کا وینٹی لیٹر روزانہ چند گھنٹوں کے لئے اتارا جاتا ہے۔ نارمل سانس لینے تک وینٹی لیٹر چند گھنٹوں کیلئے ہٹانے کا عمل جاری رکھا جائے گا۔ خیال رہے کہ بیگم کلثوم نواز چند ماہ سے لندن کے ہارلے سٹریٹ کلینک میں زیرِ علاج ہیں، انھیں کینسر کی تشخیص کے بعد ہسپتال میں داخل کرایا گیا تھا، تاہم حالت بگڑنے کے بعد انھیں وینٹی لیٹر پر منتقل کر دیا گیا۔ سابق وزیرِاعظم میاں محمد نواز شریف اور ان کی صاحبزادی مریم صفدر ان کی تیمارداری کیلئے لندن میں ہی تھے جب احتساب عدالت نے انھیں ایون فیلڈ ریفرنس میں سزا سنائی۔ نواز شریف اور ان کی صاحبزادی مریم اور کیپٹن ریٹائرڈ صفدر ان دنوں راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں قید اپنی سزا کاٹ رہے ہیں۔ جبکہ دوسری جانب سابق وزیراعظم اور مسلم لیگ نواز کے قائد نواز شریف کے اصرار پر انہیں پمز اسپتال سے اڈیالہ جیل منتقل کیا جارہا ہے۔ذرائع نے کو بتایا کہ نواز شریف کی جانب سے فوری اڈیالہ جیل منتقل کیے جانے کے مطالبے کے بعد انہیں سخت سیکیورٹی میں جیل منتقل کیا جارہا ہے۔ذرائع کا کہنا تھا کہ ڈاکٹرز کا مشورہ تھا کہ نواز شریف مزید کچھ روز اسپتال میں قیام کریں تاہم سابق وزیراعظم کا اصرار تھا کہ،

انہیں جیل منتقل کیا جائے۔ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ نواز شریف کی حالت ابھی بھی مستحکم نہیں اور ان کے مختلف ٹیسٹوں میں نتائج مختلف آرہے ہیں۔نواز شریف کی منتقلی کے بعد پمز اسپتال نے ان کی میڈیکل رپورٹ جاری کیا ہے جس میں ان کی صحت کو تسلی بخش قرار دیا گیا۔رپورٹ میں ڈاکٹرز نے تجویز دی کہ نواز شریف بار بار جیل بھیجنے کا اصرار کررہے ہیں لہٰذا ان کو جیل بھیج دیا جائے۔رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ نواز شریف کی بائیں ٹانگ اور سینے کے درمیان آپریشن کے نشانات واضح ہیں۔خیال رہے کہ نواز شریف کو سینے میں تکلیف کے باعث اتوار کو پمز اسپتال کے کارڈک سینٹر منتقل کیا گیا تھا۔یاد رہے کہ احتساب عدالت نے 6 جولائی کو ایون فیلڈ ریفرنس کا فیصلہ سناتے ہوئے سابق وزیراعظم کو مجموعی طور پر 11 سال قید کی سزا کا حکم دیا تھا جس کے بعد 13 جولائی کو لندن سے وطن واپسی پر انہیں ایئرپورٹ سے ہی گرفتار کر کے اڈیالہ جیل منتقل کردیا گیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: جب صحافی مخیر سلطان کے سامنے کلمہ ناحق کے بدلے نائب تحصیلدار اور اے ایس آئی بھرتی کرارہے تھے تو اس وقت صحافت کو ملٹی وٹامن کے انجکشن لگ رہے تھے یا اس کی تاج پوشی ہورہی تھی۔۔۔۔ صف اول کے صحافی نے اپنی ہی برادری کو کیوں دھو ڈالا ؟ یہ خبر ملاحظہ کیجیے

Source

You might also like