’’ یہ سب عارضی ہے ، گھبرانا نہیں، ہم سب اکٹھے ۔۔۔۔۔‘‘ طلال چوہدری سپریم کورٹ میں 2 گھنٹے کی سزا بھگتنے کے بعد اڈیالہ جیل گئے تو نواز شریف نے انہیں گلے لگاتے ہوئے کیا کہا؟ جواب جان کر آپ بھی دنگ رہ جائیں گے

راولپنڈی (مانیٹرنگ ڈیسک )سپریم کورٹ کی جانب سے توہین عدالت کیس میں پانچ سال نا اہلی کے بعد لیگی رہنما طلال چوہدری نے اڈیالہ جیل میں جا کر نواز شریف اور مریم نواز سے ملاقات کی ۔نجی نیوز چینل ”24نیوز“کے مطابق ملاقات کے موقع پر نواز شریف نے طلال چوہدری کو گلے لگا
کر پیار کیا ۔اس موقع پر نواز شریف نے طلال چوہدری کو تسلی دیتے ہوئے کہا کہ یہ سب عارضی ہے ،مصنوعی چیزوں کی مدت زیادہ نہیں ہوتی ،میں اور آپ اکھٹے اسمبلی جائیں گے ۔واضح رہے کہ آج سپریم کورٹ نے لیگی رہنما طلال چوہدری کو توہین عدالت کیس میں سزا سناتے ہوئے عدالتی برخاستگی تک قید رکھا اور ایک لاکھ روپے جرمانہ کیا جبکہ عدالتی فیصلے کے نتیجے میں طلا ل چوہدری پانچ سال کے لیے نا اہل بھی ہوگئے۔ جبکہ دوسری جانب ایک خبر کے مطابق مسلم لیگ ن کی ایک اور اہم وکٹ گر گئی، نہال ہاشمی اور دانیال عزیز کے بعدسابق وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چودھری بھی سیاست سے آؤٹ، سپریم کورٹ آف پاکستان نے طلال چودھری کو توہین عدالت کا مرتکب قرار دیتے ہوئے پانچ سال کیلئے نااہل قرار دے دیا،، جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں 3 رکنی بنچ نے طلال چودھری کی نا اہلی کا محفوظ فیصلہ سنایا۔ سابق وزیر مملکت برائے داخلہ کو عدالت برخاست ہونے تک قید کی سزا اور ایک لاکھ روپے جرمانے کی سزا بھی دی گئی،،۔ طلال چودھری کو تریسٹھ ون جی کے تحت نااہل کیا گیا، عدالت عظمیٰ نے ان کو حکم دیا کہ جب تک
عدالت برخاست نہیں ہوجاتی آپ عدالت میں ہی موجود رہیں گے۔ طلال چوہدری 5 سال کے لیے کسی بھی عوامی عہدے کے لیے بھی نااہل قرار پائے ہیں۔ طلال چودھری نے رواں برس جنوری میں جڑانوالہ میں منعقدہ ایک جلسے میں مبینہ طور پر ججز کے خلاف توہین آمیز زبان استعمال کی تھی، وہ اس سے قبل بھی پاناما کیس کے سلسلے میں شریف خاندان کے مالی اثاثوں کی تحقیقات کرنے والی جے آئی ٹی اور عدلیہ پر تنقید کرچکے ہیں۔ یکم فروری کو عدلیہ مخالف تقریر پر آرٹیکل 184 (3) کے تحت چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ثاقب نثار نے طلال چودھری کو توہین عدالت کا نوٹس جاری کیا تھا۔ کیسز کی سماعت کے بعد جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 3 رکنی بنچ نے توہین عدالت کا فیصلہ 11 جولائی کو محفوظ کیا تھا۔ سپریم کورٹ آف پاکستان نے پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنما اور سابق وزیرِ مملکت طلال چوہدری کو توہینِ عدالت کا مرتکب قرار دیتے ہوئے انہیں عدالت برخاست ہونے تک قید کی سزا سنائی ہے۔
سپریم کورٹ نے طلال چوہدری پر ایک لاکھ روپے جرمانہ بھی کیا ہے۔ عدالتی فیصلے کے نتیجے میں طلال چوہدری پانچ سال کے لیے کوئی بھی عوامی عہدہ رکھنے کے لیے نااہل ہو گئے ہیں۔چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ثاقب نثار نے عدلیہ مخالف تقاریر پر طلال چوہدری کو یکم فروری کو توہینِ عدالت کا نوٹس جاری کیا تھا۔لیگی رہنما نے ایک ریلی کے دوران سپریم کورٹ کے لیے توہین آمیز الفاظ استعمال کیے تھے۔طلال چوہدری کے خلاف اس نوٹس کی سماعت جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں سپریم کورٹ کا تین رکنی بینچ کر رہا تھا جس نے اس مقدمے کا فیصلہ 11 جولائی کو محفوظ کیا تھا جو بدھ کو سنایا گیا۔طلال چوہدری توہینِ عدالت کے الزام میں سزا پانے والے مسلم لیگ (ن) کے تیسرے رہنما ہیں۔ان سے قبل سپریم کورٹ نے 28 جون کو مسلم لیگ (ن) کے دانیال عزیز کو توہینِ عدالت کے جرم میں عدالت برخاست ہونے تک سزا سنائی تھی جس پر وہ بھی پانچ سال کے لیے نااہل ہوگئے تھے۔دانیال عزیز سے قبل عدالتِ عظمیٰ نے یکم فروری 2018ء کو نہال ہاشمی کو بھی ایک ماہ قید کی سزا سنائی تھی جو انہوں نے اڈیالہ جیل میں پوری کی۔بعد ازاں جیل سے باہر آنے پر ان کی صحافیوں سے گفتگو کو بھی سپریم کورٹ نے توہینِ عدالت قرار دے کر ان کے خلاف کیس دوبارہ سننا شروع کیا تھا لیکن نہال ہاشمی کی غیر مشروط معافی پر عدالت نے انہیں معاف کردیا تھا۔(ش،ز،خ)