مصر میں دھرنے اور تشدد کے الزام میں 75 افراد کو سزائے موت سنادی گئی

سزا پانے والوں میں اخوان المسلمین کے رہنمامحمد بدیع اورفوٹو جرنلسٹ محمود ابو زید بھی شامل۔ فوٹو: سوشل میڈیا

سزا پانے والوں میں اخوان المسلمین کے رہنمامحمد بدیع اورفوٹو جرنلسٹ محمود ابو زید بھی شامل۔ فوٹو: سوشل میڈیا

قاہرہ: ایک مصری عدالت نے کم از کم 75 افراد کو موت کی سزا سنا دی۔

مصری عدالت سے سزا پانے والوں میں کالعدم اخوان المسلمون کے اعلی ترین لیڈر محمد بدیع سمیت اعلیٰ سطح کے اراکین بھی شامل ہیں۔ ان ملزموں پر مصری دفتر استغاثہ نے سلامتی کے منافی اقدامات، قتل، اقدام قتل اور سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے کے الزامات عائد کیے تھے۔

عدالت نے ایک فوٹو جرنلسٹ محمود ابو زید کو بھی موت کی سزا سنائی ہے۔ جگر کے شدید عارضے میں مبتلا یہ فوٹو جرنلسٹ 2013 سے جیل میں ہے۔ 30برس کے ابوزید کو رواں برس اپریل میں یونیسکو پریس فریڈم کا ایوارڈ بھی دیا گیا تھا۔

واضح رہے کہ ان افراد کو 5 سال قبل ایک دھرنے میں شریک ہونے کے بعد پرتشدد حالات پیدا کرنے کے الزامات کا سامنا تھا۔

 

You might also like