فرانسیسی فٹ بال ٹیم کے سات مسلمان کھلاڑی جنہوں نے جیت میں اہم کردار ادا کیا

حالیہ ورلڈ کپ ٹورنامنٹ کے دوران فرانس کے مشہور مسلمان فٹبال کھلاڑی، پاؤل پوگبا نے ایک گول کرنے پر سجدہ شکر ادا کیا تھا۔ فوٹو : فائل

حالیہ ورلڈ کپ ٹورنامنٹ کے دوران فرانس کے مشہور مسلمان فٹبال کھلاڑی، پاؤل پوگبا نے ایک گول کرنے پر سجدہ شکر ادا کیا تھا۔ فوٹو : فائل

وسط جولائی 2018 ء میں فرانس کی فٹبال ٹیم فیفا ورلڈ کپ کی ٹرافی گھر لانے میں کامیاب رہی۔

بیس سال بعد فرانس نے یہ کامیابی کروشیا کو 4-2سے ہرا کر حاصل کی۔ خاص بات یہ کہ اس موقع پر جہاں فرانسیسی مداح اپنے ملک کی کامیابی کا جشن زور شو ر سے مناتے رہے، وہیں سوشل میڈیا پر اس جیت کے متعلق کچھ الگ رائے سامنے آئی۔اس دوران فرانس میں جاری اسلامو فوبیا اور دوہرا معیار موضوع بحث رہے کیونکہ فرانس کی ٹیم میں سات مسلمان کھلاڑی شامل تھے جنہوں نے آخر ی مقابلے کے دوران بہترین کھیل کا مظاہرہ کیا۔سوشل میڈیا کا استعمال کرنے والے ایک ٹوئٹر صارف نے لکھا:

’’ یورپ کے کئی ممالک میںمسلمانوں کی ستائش اسی وقت کی جاتی ہے جب وہ ہمیں تفریح بہم پہنچاتے یا قومی مفادات کیلئے کام کرتے ہیں۔مگر جب کوئی ایک مسلمان جرم کرتا ہے توتمام ایک ارب اسی کروڑ اسلام کے ماننے والوں پر اس کا الزام عائد کردیاجاتا ہے ۔ انہیں ذلیل کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ ‘‘

حالیہ ورلڈ کپ ٹورنامنٹ کے دوران فرانس کے مشہور مسلمان فٹبال کھلاڑی، پاؤل پوگبا نے ایک گول کرنے پر سجدہ شکر ادا کیا تھا۔اس تصویر کو یورپی میڈیا نے نمایاں طور پہ شائع کیا۔یاد رہے، پوگبا کو 2014ء کے ورلڈکپ کے دوران سب سے کم عمر کھلاڑی کے ایوارڈ سے بھی نوازا گیاتھا ۔پھر دوسرے مسلم فٹبال کھلاڑی، دیبریل سیڈیبی کے ہمراہ سجدہ شکر ادا کرتے ہوئے دونوں کی تصویرسوشل میڈیا پر تیزی کے ساتھ وائرل ہوئی۔ فرانس کی ٹیم میں موجود دیگر مسلمان فٹبال کھلاڑیوں میں عادل رامی‘ بنجامن مینڈی‘ این گولو کانٹے‘ نابیل فیکر‘ اور عثمان ڈامبلے شامل ہیں۔

دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا کی سب سے بڑے رفیو جی بحران ‘ آئی ایس ائی ایس اور داعش کی موجودگی کی وجہ سے اسلام اور مسلمانوں پر مغربی سیاست دانوں کے حملوں میں اضافہ ہوا ہے۔یورپ میں دائیں بازو کے لیڈر اپنے اسلاموفوبیا کو کئی طرح سے درست قراردینے کی کوشش کرتے ہیں۔مثال کے طور پر فرانس کی انتہا پسند خاتون لیڈر مارائن لی پین جو 2017ء میں فرانسیسی صدارتی الیکشن میں دوسرے نمبر پر رہی ۔اس پر 2015ء میں مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز تقریر کی وجہ سے مقدمہ چلایا گیا تھا۔ لی پین نے 2010ء میں مسلمانو ں کا تقابل نازی قابضین سے کیا تھا۔ تاہم عدالت نے اسے تمام الزامات سے بری کر دیا۔

مارائن لی پین فرانس میں حجاب اور نقاب کی شدید مخالفت کرنے والوں میں شمار کی جاتی ہے۔ اسی طرح حلال گوشت پر امتناع اور کام کی جگہ پر نماز گاہ کو بھی اس نے تنقید کا نشانہ بنایا ۔فرانس کے دورے پر لبنان کے مفتی اعظم سے ملاقات کے دوران 2017ء میں ہیڈ اسکارف کے استعمال کرنے سے انکار کے بعد وہ سرخیوں میں آئی۔ سال2011ء اور 2015ء میں لی پین ملک کی سو طاقتور لوگوں میں شمار کی جانے لگی تھی۔

فرانس کے قوم پرست سیاستدانوں کے برخلاف ملک کے موجودہ صدر، امانیول مارکون نے کبھی مسلم لباس بشمول حجاب اوربرقعہ کی مخالفت نہیں کی۔صدر بنانے سے قبل مارکون نے کہاکہ فرانس نے غیرمنصفانہ طور پر مسلمانوں کو نشانہ بناکر بڑی غلطی کی ہے‘ اور مشورہ بھی دیا کہ ملک میں سکیولرزم کو کارگر بنانے کی ضرورت ہے۔انہوں نے 2016ء میں اپنی انتخابی مہم کے دوران کہاتھا ’’ آج کے فرانس میں کوئی بھی مذہب ہمارے لیے مسلئے کی حیثیت نہیں رکھتا۔ اگر ملک کی حکومت مذہبی طور پہ غیرجانبدار ہوجائے ‘ تو ہم پر یہ ذمہ داری عائدہوتی ہے کہ ہر کسی کو اس کے مذہب پر ایمانداری کے ساتھ عمل کرنے کاموقع فراہم کریں‘‘۔

اس کے باوجود حالیہ برسوں میں اسلاموفوبیا یا اسلام سے خوف فرانس میں کئی مسلمانوں پر ایک ہتھیار کی طرح متعدد مرتبہ استعمال ہوا ہے۔2016ء میں فرنچ ریویرا مئیرس نے کئی شہروں بشمول کناس‘ فریجوس‘ ویلاینویو لوبیٹ اور روکوبرینا کیپ مارٹن میں برقع پر پابندی عائد کردی تھی۔بعدازاں ملک کی بڑی عدالت نے یہ کہتے ہوئے کہ’’یہ حکم بنیادی حقوق کی خلاف ورزی‘‘ ہے، امتناع کو برخواست کردیا تھا۔

ساؤتھ فرانس کے ساحلی شہر، مارسیلی کی ایک خانگی رہائش میں2017ء کے دوران ایک مسلم عورت نے برقع پہن کر تیراکی کی۔اس کے بعد پول کی صفائی کے لیے پیسہ ادا کرنے کو اس سے کہاگیا۔اسی سال ایک عرب عورت کو فرانس کی شہریت دینے سے محض اس لیے انکار کر دیا گیا کیونکہ اس نے ایک تقریب کے دوران سینئر عہدیدار سے ہاتھ ملانے سے انکار کیا تھا۔

 ضیا بٹ

You might also like