تمام دعوے مسترد: پی ٹی آئی کی جانب سے وزیر اعلیٰ کی فہرست میں شامل کیا جانے والا رہنما کون سے غیر قانونی کاموں میں ملوث رہا؟ انکشاف ہو گیا

لاہور (ویب ڈیسک) پی ٹی آئی کے نومنتخب رکن پنجاب اسمبلی پنجاب کی وزارت اعلیٰ کی دوڑمیں شامل راجایاسرہمایوں سزایافتہ نکل آئے،میں ممنوع ادویات کی فروخت پرڈرگ کورٹ نے سزا سنائی تھی ۔ نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے راجا یاسر ہمایوں کا کہناتھا کہ ماضی میں مخالفین نے سیاسی انتقام کانشانہ بنایا،

یہ بھی پڑھیں :‌بلاول، بختاور اور آصفہ بھٹو کی عجب کرپشن کی غضب داستان۔۔۔تینوں بہن بھائی آصف زرداری اور فریال تالپور کی کس طرح مدد کرتے رہے ؟ تہلکہ خیز انکشاف ہو گیا

لاہور ہائیکورٹ ڈرگ کورٹ کے فیصلے کومعطل کرچکی،کیس زیر التوا ہے جبکہ ڈرگ کورٹ کے مقدمے کا حوالہ کاغذات نامزدگی میں موجود ہے۔ واضح رہے کہ راجا یاسر ہمایوں چکوال سے پی ٹی آئی کی ٹکٹ پررکن پنجاب اسمبلی منتخب ہوئے ہیں۔ راجا یاسر کو2015 میں ممنوع ادویات کی فروخت پرڈرگ کورٹ نے سزاسنائی تھی۔ جبکہ دوسری جانب بی این پی رہنما جام کمال کو وزیر اعلیٰ بلوچستان نام زد کرنے پر تحریک انصاف بلوچستان کی پارلیمانی پارٹی ناراض ہو گئی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ عمران خان نے بلوچستان عوامی پارٹی اور تحریک انصاف بلوچستان کے اجلاس میں معاملہ نمٹایا تھا۔ عمران خان نے سردار یار محمد رند اور بی اے پی کے جام کمال کو معاملات مشاورت سے طے کرنے کا اختیار دیا تھا۔ تاہم ذرائع کا بتانا ہے کہ جہانگیر ترین نے اپنے طور جام کمال کی وزیراعلیٰ بلوچستان نامزدگی کا اعلان کیا جس پر پی ٹی آئی بلوچستان پارلیمانی پارٹی اس اعلان سے ناراض ہو گئی۔ پی ٹی آئی بلوچستان کے صدر یار محمد رند کا کہنا ہے کہ بلوچستان میں اپنی حکومت بنا سکتے تھے مگر ،

جہانگیر ترین کے اعلان سے بلوچستان عوامی پارٹی کو حکومت بنانے کا موقع مل گیا ہے۔ یار محمد رند نے کہا کہ عمران خان نے کسی کو وزیر اعلیٰ نامزد نہیں کیا، اتحاد کے معاہدے میں صرف یہ طے ہوا ہے کہ جس کے پاس اکثریت ہو گی وہی حکومت بنائے گا۔ دوسری جانب ترجمان تحریک انصاف فواد چودھری نے کہا ہے کہ جام کمال کے نام پر کسی کو کوئی اعتراض نہیں، وہ تحریک انصاف کے اتحادی ہیں۔ بعد ازاں نجی ٹی وی چینل سے بات کرتے ہوئے یار محمد رند کا کہنا تھا کہ پارٹی کے اندر کوئی اختلافات نہیں ہے، بی اے پی سے مرکز میں حمایت کے بدلے صوبائی حکومت میں تعاون کی بات ہوئی ہے۔ یار محمد رند نے کہا کہ پارٹی جس کو منتخب کرے گی وہی وزیراعلیٰ بلوچستان بنےگا۔ان کا کہنا تھا کہ عمران خان نے کہا تھا کہ مل بیٹھ کر بات کر لیں گے، عمران خان جو فیصلہ کریں گے وہی حتمی ہو گا، حکومت بنانے کا حق پارلیمنٹ میں بیٹھے ارکان اور چیئرمین کا ہوتا ہے۔انہوں نے کہا کہ جام کمال کی بطور وزیراعلیٰ نامزدگی پر کوئی اعتراض نہیں کیا لیکن وزیراعلیٰ جام کمال کو بنانا ہے یا کسی اور کو، اس کا فیصلہ باہمی مشاورت سےکریں گے۔(س)

Source

You might also like