(ن) لیگ اور پیپلز پارٹی کے درمیان ڈیل طے۔۔۔ نئی حکومت میں شہبازشریف کو کون سا عہدہ دیا جائے گا؟ بڑی بریکنگ نیوز آ گئی

اسلام آباد(ویب ڈیسک) پیپلز پارٹی کی اعلیٰ قیادت مسلم لیگ (ن ) کے صدر میاں شہباز شریف کوقومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر کے طورپر تسلیم کرنے پر آمادہ ہوگئی ہے۔اس سے قبل پیپلز پارٹی نے اعلان کیا تھا کہ بلاول بھٹو اپوزیشن لیڈر کے طور پر پارٹی کی طرف سے امید وار ہونگے۔
یہ بھی پڑھیں: اقتدار میں آنے سے قبل ہی عمران خان کے انتہائی قریبی ساتھی کے گردگھیرا تنگ۔۔۔ نیب کی جانب سے ہونے والی کارروائی نے پی ٹی آئی قیادت کے لیے خطرے کی گھنٹی بجا دی
تاہم پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن)کی اعلیٰ قیادت کے درمیان ہونے والی ملاقاتوں میں اس بات کا فیصلہ کیاگیا کہ مسلم لیگ (ن) کی قومی اسمبلی میں اکثر یت ہےلہٰذا اپوزیشن لیڈر بھی اسی جماعت سے ہوگا۔تاہم اس بات کا امکان ہے بلاول بھٹو زرداری وزارت عظمیٰ کا الیکشن لڑیں گے۔ جبکہ دوسری جانب قومی اسمبلی میں تحریک انصاف کو ٹف ٹائم دینے کے لیے متحدہ اپوزیشن کی آل پارٹیز کانفرنس (اے پی سی) آج اسلام آباد میں ہوگی، جس کے دوران سیاسی صورتحال، اپوزیشن کی طرف سے وزیراعظم، اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر کے لیے مشترکہ امیدوار لانے سمیت مختلف امور پر مشاورت کی جائے گی۔ متحدہ اپوزیشن کی یہ اہم بیٹھک آج سابق اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کے گھر پر ہوگی، جس میں مسلم لیگ (ن)، پاکستان پیپلز پارٹی، متحدہ مجلس عمل اور دیگر اتحادی جماعتوں کے ارکان شرکت کریں گے۔اجلاس میں سیاسی صورتحال، انتخابی نتائج، آئندہ کی حکمت عملی، اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر کے الیکشن میں حصہ لینے اور اپوزیشن لیڈر کی نامزدگی کے فیصلے کے ساتھ ساتھ مبینہ دھاندلی پر وائٹ پیپر بھی جاری کیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں: کم سیٹوں کے باوجود عمران خان پرویز الٰہی کو اتنی اہمیت کیوں دے رہے ہیں ؟ کیا یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ ۔۔۔۔۔ صف اول کے پاکستانی روزنامے کی خصوصی رپورٹ ملاحظہ کیجیے
اجلاس میں بلاول بھٹو زرداری، آصف زرداری، شہباز شریف، اسفند یار ولی، محمود خان اچکزئی، حاصل بزنجو ، فضل الرحمان، سراج الحق، ساجد میر، لیاقت بلوچ، اویس نورانی، مصطفیٰ کمال، راجا ظفر الحق، سعد رفیق، خواجہ آصف، احسن اقبال، خورشید شاہ، قمر زمان کائرہ، شیری رحمان، یوسف رضا گیلانی اور پرویز اشرف بھی شرکت کریں گے ۔اس سے قبل ہونے والی اے پی سی میں حزب اختلاف کی جماعتوں نے قومی اسمبلی میں بھرپور احتجاج کا فیصلہ کیا تھا جب کہ اپوزیشن جماعتوں کا کہنا تھا کہ عمران خان کو اتنے آرام سے وزیراعظم نہیں بننے دیں گے۔یاد رہے کہ 30 جولائی کو مسلم لیگ (ن)، پیپلزپارٹی، عوامی نیشنل پارٹی اور متحدہ مجلس عمل کے درمیان قومی اسمبلی میں گرینڈ اپوزیشن الائنس کے قیام پر اتفاق ہوا تھا۔(س)
یہ بھی پڑھیں: سیاسی تہلکہ : گزشتہ چند گھنٹوں کے دوران جہانگیر ترین کی اپنے ہیلی کاپٹر اور سفید رینج روور کے ذریعے ڈالی گئی سیاسی وارداتوں کی تفصیلات اور اسکے نتیجہ میں بننے والی موجودہ صورتحال اس خبر میں ملاحظہ کیجیے
Source