ملک میں 10 ہزار ادویات کی قیمتیں بڑھائے جانے کا انکشاف

18 روپے میں بننے والی دوا کو 400 روپے سے زائد قیمت پر فروخت کیا جارہا ہے، ہیلتھ کمیٹی (فوٹو: فائل)

18 روپے میں بننے والی دوا کو 400 روپے سے زائد قیمت پر فروخت کیا جارہا ہے، ہیلتھ کمیٹی (فوٹو: فائل)

علاج و معالجے کی ناکافی سہولیات کے شکار ملک میں 10 ہزار ادویات کی قیمتیں بڑھائے جانے کا انکشاف ہوا ہے۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے صحت کا اجلاس چیئرمین میاں عتیق کی سربراہی میں ہوا جس میں حکام نے دواؤں کی قیمتوں کے حوالے سے بریفنگ دیتے ہوئے انکشاف کیا کہ  ڈریپ کی طرف سے 10 ہزار دواؤں کی قیمتیں بڑھائیں گئی۔

کمیٹی کی رکن سینیٹر ثمینہ سعید نے  کہا کہ اسلام آباد میں یومیہ بنیادوں پر دواؤں کی قیمتیں بڑھتی ہیں جب کہ کمیٹی چیئرمین میاں عتیق نے کہا کہ ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (ڈریپ) اپنی مرضی سے قیمت بڑھاتی ہے، ہمارا مقصد کسی انڈسٹری کو خراب نہیں کرنا تاہم دواؤں کی قیمتوں پر ایکشن لے سکتے ہیں اور دواؤں کی قیمتیں بڑھانے کا میکنزم بھی بنایا جاسکتا ہے۔

ہیلتھ کمیٹی کا کہنا ہے کہ جو دوا 18 روپے میں بنتی ہے اسے 400 سے زائد قیمت پر فروخت کیا جارہا ہے ہم دیکھیں گے کہ نئے پاکستان میں یہ نظام کیسے کام کرے گا۔

You might also like