امجد صابری قتل کیس: ملزم کو سزائے موت سنائے جانے کے بعد بڑی خوشخبری مل گئی

پشاور(ویب ڈیسک) پشاور ہائیکورٹ نے معروف قوال امجد صابری قتل کے ملزم کی سزائے موت کو معطل کر دیا ہے۔معروف قوال امجد صابری کے قتل کے الزام میں عارش نامی ملزم سرگودھا کا رہائشی ہے جسے فوجی عدالت نے سزائے موت سنائی تھی۔ ملزم کی والدہ کی جانب سے پشاور ہائیکورٹ میں دائر درخواست
میں اس کی سزائے موت معطل کرنے کی درخواست کی گئی تھی۔درخواست گزار کے مطابق ان کے بیٹے کے خلاف کوئی ثبوت نہیں اور اسے صفائی کا موقع بھی نہیں دیا گیا۔ عدالت نے دلائل سننے کے بعد ملزم کی سزائے موت کا فیصلہ معطل کر دیا، کیس کی سماعت بارہ ستمبر تک ملتوی کر دی گئی ہے۔یاد رہے کہ جون 2016ء میں معروف قوال امجد صابری کو موٹر سائیکل پر سوار دو نامعلوم مسلح افراد نے گولیاں مار کر ہلاک کر دیا تھا۔ امجد صابری اپنی سفید رنگ کی کار میں سوار تھے کہ اچانک لیاقت آباد دس نمبر فلائی اوور کے قریب نامعلوم مسلح افراد نے انھیں نشانہ بنایا۔ امجد صابری کا شمار پاکستان مایہ ناز قوالوں میں ہوتا تھا۔ وہ مشہور قوال غلام فرید صابری کے بیٹے تھے۔ جیل میں قائم انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت کو معروف قوال امجد صابری قتل سمیت14 ہائی پروفائل کیسزکی منتقلی کا نوٹیفکیشن موصول ہوگیا ‘عدالت نے ملزمان اسحاق عرف بوبی اور عاصم عرف کیپری کے پروڈکشن آرڈر جاری کر دیئے ہیں۔جمعہ کے روزسینٹرل جیل میں قائم انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت کو معروف قوال امجد صابری قتل سمیت14 مقدمات کی منتقلی کا نوٹیفکیشن موصول ہوگیا ۔جس میں بتایا گیا ہے کہ سندھ ہائی کورٹ نے ہائی پروفائل ٹارگٹ کلر اسحاق بوبی اور عاصم کیپری کے مقدمات اے ٹی سی سے جیل منتقل کردیئے ہیں۔نوٹیفکیشن موصول ہونے کے بعد عدالت نے ملزمان اسحاق عرف بوبی اور عاصم عرف کیپری کے پروڈکشن آرڈر جاری کر دیئے ہیں۔واضح رہے کہ ملزمان کے خلاف ملٹری پولیس کے جوانوں کے قتل، پولیو ورکرز کیس، رینجرز اہلکاروں کے قتل کے مقدمات شامل ہیں۔ ملزمان کے خلاف معروف قوال امجد صابری، فوجی اہلکاروں کے قتل سمیت 22 سے زائد مقدمات زیر سماعت ہیں۔ملزمان کے معروف قوال امجد صابری قتل کیس اور پولیس اہلکاروں کے قتل سمیت 14 مقدمات جیل منتقل کئے گئے ہیں۔(ش،ز،خ)