عمران خان وزیر اعظم منتخب ہو جائیں گے کیونکہ۔۔۔۔ معروف صحافی نے ایسی بات کہہ دی کہ سن کر ٹائیگرز خوشی سے نہال ہو جائیں گے

اسلام آباد(ویب ڈیسک) کیا عمران خان اپنی سادہ اکثریت حاصل کرکے وزیر اعظم بن سکیں گے؟ وہ غالباً ملکی تاریخ میں واحد وزیر اعظم ہوں گے ، جن کا بطور وزیر اعظم انتخاب لازمی سادہ اکثریت یا قومی اسمبلی کے کل ارکان کے 51فیصد ووٹ سے تھوڑے کم ووٹ کی بنیاد پر ہوگا۔

معروف تجزیہ کار طارق بٹ اپنی رپورٹ میں لکھتے ہیں۔۔۔۔ارکان پر مشتمل پارلیمنٹ کے ایوان زیریں میں وزیراعظم منتخب ہونے کے لیے کم ازکم 172ارکان کی حمایت ضروری ہوتی ہے۔پی ٹی آئی کے سینئر رہنمائوں کے دعوئوں کے مطابق ، وہ اب تک 170ارکان کی حمایت حاصل کرچکے ہیں ۔پی ٹی آئی کے پاس اب بھی کم از کم ایک ہفتہ ہے ، جس میں وہ مزید ارکان کو اپنا حمایتی بنا سکتے ہیں ۔اب تک حزب اختلاف کی کسی بھی جماعت سے کسی بھی رکن نے پی ٹی آئی کی حمایت نہیں کی ہے۔سپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس ، افتخا ر محمد چوہدری کی رائے کے مطابق، عمران خان ووٹنگ کے پہلے مرحلے میں جو کہ آرٹیکل 91(4) کے تحت ہوگا، کامیاب نہیں ہوں گے۔جس کے بعد حزب اختلاف کی جماعتوں سے اپنے نامزد امیدوار کو منتخب کرانے کہا جائے گا۔ظاہر ہے مطلوبہ تعداد کے مطابق ارکان نہ ہونے کے باعث انہیں ناکامی ہوگی ۔تاہم، تیسرے مرحلے میں عمران خان وزیر اعظم منتخب ہوجائیں گے کیوں کہ وہ اپنے مخالف سے زائد ووٹ حاصل کرلیں گے ، تاہم وہ کل ارکان کے 51فیصد سے کم ہوں گے۔ یہ ممکن ہے کہ ضمنی انتخابات کے بعد قومی اسمبلی میں پی ٹی آئی سادہ اکثریت حاصل کرلے ۔سادہ اکثریت کے

بغیر منتخب ہونے کی صورت میں آئین کے تحت عمران خان کو صرف تحریک عدم اعتماد کے ذریعے ہی عہدے سے ہٹایا جاسکتا ہے، جس میں قومی اسمبلی کے کل ارکان کے 51فیصد کی حمایت ضروری ہوگی۔ تحریک عدم اعتماد کی کامیابی کے لیے قرار داد پیش کرنے والے کو 172ارکان کی حمایت حاصل کرنا ہوگی۔قومی اسمبلی میں عددی کھیل کی مکمل تصویر اسی وقت سامنے آئے گی جب تمام 342ارکان منتخب ہوجائیں گے۔2002سے اب تک قومی اسمبلی میں وزرائے اعظم کے حاصل کردہ ووٹوں کا اگر جائزہ لیا جائے تو میر ظفر اللہ جمالی کو صر ف ایک ووٹ کی برتری حاصل ہوئی تھی ۔ان سے جبری طور پر استعفیٰ لینے کے بعد ق لیگ کے صدر چوہدری شجاعت حسین کو عارضی طور پر وزیر اعظم بنایا گیا کیوں کہ شوکت عزیزکو ضمنی انتخابات میں اٹک سے ایم این اے منتخب کرایا جانا تھا، بعد ازاں شوکت عزیز 2004میں 191ووٹوں سے کامیاب ہوکر وزیر اعظم منتخب ہوئے۔(ف،م)

یہ بھی پڑھیں : ” ہیلو ! میں چودھری شجاعت بات کررہا ہوں اور عمران خان سے ملنا چاہتا ہوں۔۔۔۔۔” کپتان کو بنی گالہ فون کیا تو آگے سے ایسا کیا جواب ملا کہ سینئر سیاستدان کے 14 طبق روشن ہو گئے؟ راؤف کلاسرا نے دھماکے دار انکشاف کر دیا

Source

You might also like