حُسین ساگر کی کہانی

ماہرین اور سماجی تنظیموں نے آواز بلند کی تو حکومت نے اسے محفوظ کرنے اور آلودگی سے پاک رکھنے کی کوششیں شروع کیں۔ فوٹو: سوشل میڈیا

ماہرین اور سماجی تنظیموں نے آواز بلند کی تو حکومت نے اسے محفوظ کرنے اور آلودگی سے پاک رکھنے کی کوششیں شروع کیں۔ فوٹو: سوشل میڈیا

مصنوعی جھیل حسین ساگر چار صدی قبل وجود میں آئی تھی۔ حیدرآباد دکن کی اس جھیل کا کنارہ، اس کے ساتھ لگایا گیا باغ اور اس زمانے کی دیگر تعمیرات آج بھی دل کش اور روشن ماضی کی یاد دلاتی ہیں، لیکن اب ان کا حُسن گہنا رہا ہے۔ وقت کے ساتھ فضائی آلودگی اور اس مقام پر جمع ہونے والا کچرا اور گندگی جھیل کی رعنائی اور دل کشی تو چھین ہی چکی ہے، مگر اس کا تمام وجود ہی خطرے میں پڑ گیا ہے۔

یہ مصنوعی جھیل قطب شاہی دور میں حسین شاہ ولی نے بنوائی تھی۔ تاریخ کے صفحات بتاتے ہیں کہ 1559 میں اس جھیل پر کام شروع کروایا گیا جو 1562میں مکمل ہوا۔ اس دور میں جھیل کی تعمیر پر دو لاکھ 54 ہزار روپے خرچ ہوئے جب کہ 3 ہزار سے زائد مزدوروں نے اس کام میں حصّہ لیا تھا۔ اس وقت حسین ساگر 1600 ایکڑ پر محیط تھی۔ جھیل کی گہرائی 32 فٹ ہے۔ یہ جھیل حیدرآباد شہر کو چار صدیوں تک پینے کا پانی فراہم کرتی رہی اور اسی کے ذریعے قریبی علاقوں کی زرعی زمین بھی سیراب ہوتی رہی ہے۔

ماہرین کے مطابق جھیل کی تباہی کا سلسلہ ستّر کی دہائی سے شروع ہوا جب حکومت کی عدم توجہی کے باعث یہاں گندگی اور کچرا پھینکا جانے لگا اور قریبی زمینوں پر مختلف منصوبوں کا آغاز کیا گیا۔ جھیل کے کنارے سڑکیں اور پُل تعمیر کرنے کا سلسلہ شروع ہوا تو یہاں لوگوں کی آمدورفت بھی بڑھ گئی اور اس جھیل کی تاریخی اہمیت اور افادیت کو نظر انداز کر دیا گیا۔

ماہرین اور سماجی تنظیموں نے آواز بلند کی تو حکومت نے اسے محفوظ کرنے اور آلودگی سے پاک رکھنے کی کوششیں شروع کیں، لیکن اس کا خاطر خواہ نتیجہ نہیں نکلا۔ جھیل سے کیچڑ اور مٹی نکالنے کا کام بھی وقتاً فوقتاً کیا جانے لگا، مگر یہ سب آسان نہیں تھا۔ حکومت اور مقامی انتظامیہ کو اس حوالے سے کئی مسائل اور مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ تاہم بڑی حد تک جھیل کی صفائی اور بحالی کا کام انجام پا گیا۔ حیدر آباد میں قطب شاہی اور دورِ آصفیہ میں کئی جھیلیں اور باغات تعمیر کیے گئے تھے جن میں اکثر کھنڈر ہوچکے ہیں۔

اس جھیل کے وسط میں ایک جزیرہ نما کو جبرالٹر راک کا نام دیا گیا ہے۔ اس پر 1992 میں گوتم بدھ کا مجسمہ نصب کیا گیا۔ اسے 1985 میں تراشا گیا تھا اور یہ 200 ہنرمندوں کی کاری گری کا نمونہ ہے۔ اس مجسمے کا وزن 450 میٹرک ٹن ہے۔

You might also like