تحریک انصاف کے ساتھ معاہدہ ان کی سیاسی موت کا پروانہ ہے کیونکہ۔۔۔۔سہیل وڑائچ نے کپتان کی اتحادی جماعت کے لیے خطرے کی گھنٹی بجا دی

لاہور(ویب ڈیسک) سینئر تجزیہ کار سہیل وڑائچ نے کہا ہے کہ متحدہ کاپی ٹی آئی سے معاہدہ سیاسی موت کے پروانے پردستخط ہیں، پی ٹی آئی نے کراچی میں ایم کیوایم کی سیٹیں جیتیں، باقی سیٹیں بھی حاصل کرنے کی کوشش کرے گی، دونوں جماعتوں میں سیاسی پوائنٹ اسکورنگ ہوگی اور معاہدہ ناکام ہوجائیگا۔

انہوں نے نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ متحدہ نے اپنی سیاسی موت کے پروانے پردستخط کیے ہیں۔ایم کیوایم نے اپنی سیاسی موت کے پروانے پراس لیے دستخط کیے ہیں کہ کراچی میں ان کا مقابلہ ہی تحریک انصاف کے ساتھ ہے۔الیکشن میں تحریک انصاف نے کراچی میں ایم کیوایم کی ہی سیٹیں جیتی ہیں۔ آئندہ بھی پی ٹی آئی کی کوشش ہوگی کہ کراچی میں متحدہ کی باقی نشستیں بھی جیت لے۔جبکہ ایم کیوایم کی کوشش ہوگی کہ آئندہ الیکشن میں پی ٹی آئی کو کراچی سے نکالا جائے۔انہوں نے کہا کہ ایم کیوایم اور تحریک انصاف ایک دوسرے کی سیاسی حریف جماعتیں ہیں یہ اب دونوں ایک دوسرے کیخلاف پوائنٹ سکورنگ کی کوشش کریں گے۔جس سے یہ معاہدہ توناکام ہوگیا ہے۔ سہیل وڑائچ نے کہا کہ دوسری طرف ایم کیوایم کے پاس یہ چوائس تھی کہ وہ سندھ حکومت میں پیپلزپارٹی کے ساتھ معاہدہ کرتے۔ایم کیوایم عرصہ دراز سے جو ووٹ لے رہی ہے۔تووہ سندھ میں اینٹی پیپلزپارٹی ووٹ لیتی ہے۔اسی طرح ہمیشہ کہتے ہیں کہ وہ ہمارے پیسے کھا جاتے ہیں یا ہمیں حصہ نہیں دیتے۔انہوں نے کہا کہ میرا خیال تھا کہ ایم کیوایم حکومت میں بیٹھنے کا معاہدہ تحریک انصاف سے نہیں کرے گی بلکہ

ایم کیوایم پیپلزپارٹی سے معاہد ہ کرے گی ،یا پھر دونوں سے دور رہے گی لیکن اب بھی مجھے لگتا ہے کہ یہ معاہدہ زیادہ دیر چلنے والا نہیں ہے۔ ایم کیوایم کا حکومت سازی میں شریک ہونا اس لیے ہے کہ وہ کچھ مفادات حاصل کرسکیں ۔تاہم پی ٹی آئی نے 30سالوں بعد متحدہ کوچیلنج دیا ہے ۔یہ دونوں جماعتیں ایک دوسرے کی جگہ لینے والی ہیں۔اس لیے بھی یہ معاہدہ کامیاب نہیں ہوگا۔دوسری جانب ایک خبر کے مطابق پی ٹی آئی کے سینئر رہنما جہانگیر ترین نے کہا ہے کہ ایم کیوایم سے معاہدہ ہوگیا ہے.ان خیالات کا اظہار انھوں نے ایم کیو ایم وفد کی تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان سے ملاقات کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا.جہانگیر ترین نے کہا کہ 9 آزاد ایم این ایز پی ٹی آئی میں شامل ہوگئے ہیں، فاٹا اراکین سے بات چل رہی ہے.ان کا کہنا تھا کہ 28 میں سے 25 آزادایم پی ایزپی ٹی آئی میں آگئے ہیں، اب ایم کیوایم سے معاہدہ طے پا گیا.جہانگیر ترین کا کہنا تھا کہ کراچی میں بھی ایم کیوایم سےمثبت مذاکرات ہوئے تھے، ایم کیوایم نےرابطہ کمیٹی اورپی ٹی آئی نےکورکمیٹی سے مشاورت کی.ان کا کہنا تھا کہ ایم کیوایم وفد کی خان صاحب سے ملاقات بہت مثبت رہی.

کراچی کے لئے اسپیشل فنانشل پیکج دیں گے.زیادہ سے زیادہ یونیورسٹیاں بنائیں گے.اس موقع پر ایم کیو ایم کے کنوینر خالد مقبول صدیقی نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی اورایم کیوایم میں جومعاہدہ طے ہوا، وہ آئینی تقاضاہے۔انھوں نے کہا کہ عمران خان نے جمہوریت کوآگےلی کر چلنےکاکہا تھا، یہ اس کی کڑی ہے، آج بھی کراچی پاکستان کےریونیوکا65سے70فیصدحصہ دیتاہے۔خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ بلدیاتی نظام کےحل کے لئے مل کر جدوجہد کریں گے، کراچی میں دوبارہ مردم شماری کاجائزہ لیاجائےگا۔ مضبوط مالیاتی، سیاسی خودمختاری، بلدیاتی نظام کے لئےجدوجہدکریں گے۔ ایم کیو ایم کے کنوینر کا کہنا تھا کہ کراچی آپریشن کابھی جائزہ لیاجائےگا، کراچی آپریشن کوبھی منطقی انجام تک پہنچایاجائےگا، کچھ چیزیں باقی ہیں ان پربھی بات چیت جاری ہے۔انھوں نے کہا کہ سیاسی جماعتوں کےمینڈیٹ کااحترام ہے،ہمارابھی احترام کیاجائے، تمام شک وشبہات کوسامنےرکھتے ہوئےبات کی ہے۔ایم کیوایم اور پی ٹی آئی میں 9نکاتی سمجھوتہ طے پاگیا، جس کے تحت کراچی میں مردم شماری پرقومی اسمبلی کی قرارداد پر عمل کیا جائے۔سمجھوتے کے مطابق کراچی مردم شماری پرسی سی آئی کے فیصلے پرفوری عمل کیا جائے گا، پی ٹی آئی سندھ، پنجاب بلدیاتی نظام پر ایم کیوایم پٹیشن کی حمایت کرے گی۔دونوں جاعتوں میں طے پایا ہے کہ تمام اسٹیک ہولڈرزکے ساتھ بیٹھ کر کراچی آپریشن کا جائزہ لیا جائے گا، حکومت کی تمام تعیناتیاں خود مختارقابلیت نظام کےتحت کی جائیں گی۔ (ف،م)

Source

You might also like