’’آپ چپکے سے میری مدد کریں تاکہ ۔ ۔ ۔‘‘ پرویزمشرف کی انتہائی طاقتورامریکی شخص سے خفیہ ملاقات ، ویڈیو نے پورے ملک میں ہلچل مچا دی

(ویب ڈیسک) سابق فوجی صدر پرویز مشرف بیرون ملک مقیم ہیں اور ان کیخلاف غداری کا کیس بھی خصوصی عدالت نے سماعت کیلئے مقرر کردیا ہے ، ایسے میں سابق صدر کی ایک ویڈیو سامنے آگئی ہے جس میں وہ اعلیٰ امریکی حکام سے چپکے سے مدد کی درخواست کررہے ہیں۔
اس ویڈیو کلپ کی تاریخ واضح نہیں تاہم 29سیکنڈ کی ویڈیو میں پرویزمشرف سوالات کے جواب دے رہے ہیں اور خفیہ طریقے سے اقتدار میں واپسی میں مدد دینے کو کہہ رہے ہیںتاکہ امریکا دہشتگردی اور انتہا پسندی سے محفوظ ہوجائے۔پرویز مشرف کو ایک سوال سننے کے موقع پر ڈسپوزل گلاس سے گھونٹ بھرتے بھی دیکھا جاسکتا ہے ،سوال پوچھنے والا سابق صدر سے پوچھتاہے کہ ہمیں کیا تبدیلی کرنی ہوگی کہ ہمارا پیسہ دہشتگردی ، اسلام اور القاعدہ سے امریکہ کو تحفظ کیلئے ایک مثبت راستے میں استعمال ہو، ہمارے لیے ایسا کون کرسکتا ہے؟؟؟مشرف نے اپنے فوری جواب میں کہا کہ میراماضی موجود ہے، مجھے دوبارہ اقتدار میں آنے کی ضرورت ہے اور میری مدد کی جائے ، مجھے کھلم کھلا نہیں بلکہ خفیہ طریقے سے حمایت کی ضرورت ہے تا کہ ہم دوبارہ جیت جائیں۔نجی روزنامہ کے ذرائع کے مطابق امریکی لابی کرنے والے اور امریکی یہودی کانگریس کے طاقتور چیئرمین جیک روزن نے اس کا اہتمام کیا تھا ،کلپ میں دیکھا جاسکتا ہے کہ سابق چیئرمین پی سی بی اور نیشنل کمیشن فار ہیومن ڈیولپمنٹ کے سربراہ ڈاکٹر نسیم اشرف بھی صدر کے ہمراہ ہیں۔اس کلپ سے متعلق ٹوئٹر پر بحث ہورہی ہے ایک صحافی مرتضیٰ سولنگی نے لکھا کہ سب ٹھیک ہے
اور قومی سلامتی کو کوئی خطرہ نہیں ہے۔دوسری جانب ایک خبر کے مطابق سابق صدر پرویز مشرف نے کہا ہے کہ میں سویلین حکومت کے خلاف نہیں ہوں اور ہمیشہ ملک کی ترقی اورخوشحالی کی بات کرتا ہوں۔سابق صدر پرویز مشرف نے نجی نیوز کے معروف پروگرام الیونتھ میں میزبان وسیم بادامی کو خصوصی انٹرویو دے رہے تھے اس موقع پر سابق آرمی چیف اور سابق صدر کا کہنا تھا کہ پاکستان میں مارشل لا نہیں لگنے چاہئیں بلکہ جمہوری کا سائیکل جاری رہنا چاہیئے۔میزبان وسیم بادامی کے سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ منتخب حکومت کو ہٹانا مناسب نہیں بلکہ جمہوری عمل چلتا رہے اور صرف الیکشن کے ذریعے حکومت کی تبدیلی بہترین طریق ہے اسے جاری رہنا چاہیئے۔اکتوبر 1999 میں نواز شریف کی حکومت کا دھڑن تختہ کرنے کے حوالے سے پوچھے گئے سوال کے جواب میں سابق صدر کا کہنا تھا تھا کہ نوازشریف نے خود فوج سے ٹکرلی تھی اور ان حکومت کے خاتمے کے پیچھے ان کا اپنا رویہ تھا۔(ف،م)
