لاہور:لڑکیوں کے بڑے سرکاری کالج نے ایڈمیشن فارم میں طالبات کے لیے ایسی شرمناک شرط عائد کر دی جس نے پورے پاکستان میں نیا ہنگامہ کھڑا کر دیا

لاہور(ویب ڈیسک)لاہور کے معروف سرکاری کالج میں تعلیم کے نام پرجسمانی معذوریوں کا مذاق اڑائے جانے لگا۔ بھینگی ،بہری اور لکنت والی طالبات کا داخلہ نہیں کیا جائے گا،گورنمنٹ کالج ٹاونشپ برائے خواتین نے داخلے کے لیے شرمناک شرائط عائد کردیں۔تفصیلات کے مطابق اس وقت پنجاب میں نئے تعلیمی سیشن کا آغاز ہونے والے ہے۔

میٹرک کے امتحانات کے نتائج آنے کے بعد پنجاب بھر کے تمام سرکاری و غیر سرکاری کالجز میں انٹرمیڈیٹ کے لیے داخلے کھول دئیے گئے ہیں۔جس کے بعد انٹرمیڈیٹ میں داخلہ لینے کے خواہشمند طلبا و طالبات کی بڑی تعداد نے تعلیمی اداروں کا رخ کرلیا ہے۔اس سلسلے میں کالجز کے پراسپیکٹس بھی فروخت کئیے جانے کا سلسلہ بھی جاری ہے۔پراسپیکٹس میں کلاسوں اور ڈگریوں کی تفصیلات بھی دی گئی ہیں تو داخلے کا طریقہ کار بھی وضع کیا گیا ہے ۔علاوہ ازیں داخلے کے لیے کیا کیا اقدامات کئیے جانے کی ضرورت ہے اس بات کا بھی پراسپیکٹس میں تفصیلی تذکرہ کیا گیا ہے۔اس موقع پراسپیکٹس میں داخلہ دئیے جانے کی شرائط بھی درج ہیں۔ایسے میں لاہور کے ایک سرکاری کالج کے پراسپیکٹس نے داخلے کی اہلیت لکھتے ہوئے اخلاقی اقدار کو بھی فراموش کرڈالا۔۔لاہور کے معروف سرکاری کالج میں تعلیم کے نام پرجسمانی معذوریوں کا مذاق اڑائے جانے لگا۔بھینگی ،بہری اور لکنت والی طالبات کا داخلہ نہیں کیا جائے گا،گورنمنٹ کالج ٹاونشپ برائے خواتین نے داخلے کے لیے شرمناک شرائط عائد کردیں۔پراسپیکٹس کئے صفحہ نمبر 22 پر درج سیکشن 3 میں یہ بھی تذکرہ کیا گیا ہے کہ میڈیکل ٹیسٹ میں فیل ہونے والوں کو داخلہ نہیں دیا جائے۔عوام کی جانب سے اس طرح کی حرکت پر شدید غم و غصے کا اظہار کیا جارہا ہے اور کہا جارہا ہے کہ تعلیمی ادارے کے پراسپیکٹس میں موجود یہ انتہائی گھٹیا بات ہے اور جسمانی معذوریوں کا مذاق اڑانے کے مترداف ہے۔اس طرح کے اقدامات سے باصلاحیت مگر جسمانی معذوری کے حامل طلباوطالبات کو نیچا دکھانے کے مترادف ہے۔(ش،ز،خ)

Source

You might also like