بریکنگ نیوز : سیکیورٹی فورسز کی گاڑی کا ٹائر پھٹ گیا ،بڑے جانی نقصان کی اطلاعات موصول

کوئٹہ (ویب ڈیسک) بلوچستان کے علاقے خاران میں قانون نافذ کرنے والے ادارے کی گاڑی الٹنے سی4سکیورٹی اہلکار شہید جبکہ چھ زخمی ہوگئے۔سرکاری ذرائع کے مطابق منگل کو بلوچستان کے علاقے خاران بسیمہ کی جانب قانون نافذ کرنے والے ادارے کی گاڑی جارہی تھی کہ اچانک ٹائر برسٹ ہونے سے گاڑی الٹ گئی جس کے نتیجے

میں اکبر ،سجاد ،طارق اور نائیک عارف موقع پر ہی شہید ہوگئے جبکہ عاقل ،ستار ،عصمت ،نعیم ،سپاہی اکبر سعید اور سپاہی خدا بخش زخمی ہوگئے۔ سیکورٹی فورسز نے لاشوں اور زخمیوں کو فوری طور پر مقامی ہسپتال منتقل کردیا جہاں زخمیوں کو طبی امداد دی جارہی ہے ۔ جبکہ دوسری جانب ایک خبر کے مطابق اکستان کے صوبہ بلوچستان کے ضلع خاران میں نامعلوم مسلح افراد نے حملہ کر کے موبائل فون کے ٹاور پر کام کرنے والے چھ افراد ہلاک کر دیا ہے۔ان افراد کو خاران شہر سے تقریباً 80 کلو میٹر دور لجے کے علاقے میں نشانہ بنایا گیا۔ لجے خاران شہر کے مشرق میں واقع ہے۔خاران انتطامیہ کے ایک سینئیر اہلکار نے بتایا کہ سات افراد لجے کے پہاڑی علاقے میں ایک موبائل کمپنی کا ٹاور نصب کررہے تھے۔اہلکار کا کہنا تھا کہ نامعلوم مسلح افراد اس علاقے میں آئے اور انھوں نے ٹاور پر کام کرنے والے افراد پر حملہ کیا۔اس حملے کے نتیجے میں چھ افراد ہلاک اور ایک زخمی ہوا۔اہلکار نے بتایا کہ مارے جانے والوں میں مزدور اور ٹیکنیشن شامل ہیں اور ان افراد کا تعلق پنجاب کے علاقے اوکاڑہ سے ہے۔کوئٹہ میں محکمۂ داخلہ کے ایک اہلکار نے بتایا کہ حملے کا نشانہ بننے والے مزدوروں کو یہاں کام کے لیے لانے سے قبل انتظامیہ سے این او سی حاصل نہیں کیا گیا تھا۔خاران کوئٹہ شہر کے جنوب مغرب میں تقریباً تین سو کلومیٹر فاصلے پر واقع ہے۔ماضی میں بھی خاران شہر اور اس کے نواحی علاقوں میں جہاں بدامنی کے واقعات پیش آتے رہتے ہیں وہاں یہ ضلع شورش سے زیادہ متاثرہونے والے اضلاع میں سے ایک آواران سے بھی متصل ہے۔خاران میں اس سے قبل بھی شاہراؤں کے منصوبوں پر کام کرنے والے مزدوروں پر حملے ہوتے رہے ہیں تاہم سرکاری حکام کا کہنا ہے کہ پہلے کے مقابلے میں ان علاقوں میں امن و امان کی صورتحال میں بہتری آئی ہے۔(ش،ز،خ)

Source

You might also like