میری دلی خواہش تو یہ ہے کہ ۔۔۔۔ نئی حکومت بنانے کے حوالےسے تحریک انصاف کے رہنما چوہدری سرور نے دل کی بات کہہ ڈالی

لاہور(ویب ڈیسک) سابق گورنر پنجاب اور تحریکِ انصاف کے رہنما چوہدری محمد سرور نے کہا ہے کہ انھیں دوبارہ گورنر بننے کی خواہش نہیں ہے، ویسے بھی اب گورنر ہاؤس پنجاب نہیں رہے گا۔میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے پی ٹی آئی رہنما نے کہا کہ وہ پہلے بھی گورنر رہ چکے ہیں،

اب عمران خان نے کہا ہے کہ گورنر ہاؤس کو عوام کے لیے مختص کیا جائے گا۔برطانوی پارلیمنٹ کے تین بار رکن منتخب ہونے والے چوہدری محمد سرور نے پی ٹی آئی میں ہر قسم کی گروپنگ کی تردید کرتے ہوئے کہا ’پی ٹی آئی کی پوری جماعت عمران خان کے ساتھ ہے۔‘چوہدری سرور نے مزید کہا ’پی ٹی آئی کے پاس پنجاب میں واضح اکثریت ہے، اب زیادہ وقت انتظار نہیں کرنا پڑے گا، عمران خان جو بھی فیصلہ کریں گے پارٹی اسے قبول کرے گی۔‘ان کا کہنا تھا کہ تحریکِ انصاف میں فارورڈ بلاک بننے کی خبر میں کوئی صداقت نہیں، پارٹی اتحادیوں کو ساتھ لے کر چلنا چاہتی ہے، پنجاب اور مرکز میں حکومت بنانے میں کوئی پریشانی نہیں ہوگی۔چوہدری سرور نے پارٹی پالیسی دہراتے ہوئے کہا کہ کرپٹ افراد اور پیسا باہر بھیجنے والوں کا کڑا احتساب ہوگا، کرپشن کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی پر عمل کیا جائے گا، ان کا کہنا تھا پی ٹی آئی ملک میں تبدیلی چاہتی ہے اس لیے ملک کو لوٹنے والوں کے لیے یہاں کوئی جگہ نہیں۔واضح رہے کہ عمران خان نے ابھی گورنر پنجاب کے عہدے کے لیے کسی نام کا انتخاب نہیں کیا ہے تاہم چند ناموں پر ضرور غور کیا گیا ہے جن میں پیپلز پارٹی کے

سابق وزیرِ قانون بابر اعوان ایڈووکیٹ، اسحاق خاکوانی اور اعجاز چوہدری شامل ہیں۔دوسری جانب ایک خبر کے مطابق پاکستان تحریک انصاف نے حکومت سنبھالتے ہی چاروں صوبوں کے گورنرز تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔تفصیلات کے مطابق پی ٹی آئی نےحکومت سنبھالنے کے بعد سندھ، پنجاب، خیبرپختونخوا اور بلوچستان کے گورنرز کو ہٹانے کا فیصلہ کیا ہے۔پاکستان تحریک انصاف نے گورنرزتبدیلی کا فیصلہ پارٹی کے مشاورتی اجلاس میں کیا۔خیال رہے کہ صوبہ پنجاب مسلم لیگ ن کےرہنما ملک رفیق رجوانہ، سندھ میں محمدزبیر،خیبرپختونخواہ میں اقبال ظفرجھگڑا گورنر کی حیثیت سے فرائض سرانجام دے رہیں جبکہ بلوچستان کے گورنرمحمد خان اچکزئی پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے صدر محمود خان اچکزئی کے بھائی ہیں۔واضح رہے کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان نے قومی اسمبلی کی 251 نشتوں کے نتائج جاری کردیے جس کے مطابق تحریک انصاف قومی اسمبلی میں 110 نشتوں کے ساتھ سرفہرست ہے۔الیکشن کمیشن کے جاری کردہ نتائج کے مطابق قومی اسمبلی اور خیبرپختونخواہ اسمبلی میں تحریک انصاف پنجاب اسمبلی میں مسلم لیگ ن، سندھ اسمبلی میں پیپلزپارٹی جبکہ بلوچستان اسمبلی میں بلوچستان عوامی پارٹی کو برتری حاصل ہے۔الکشن کمشنی کی جانب سے قومی اسمبلی کے 19، پنجاب کے 6 سندھ کے 11، خبر پختونخواہ اور بلوچستان کے 5 حلقوں کے نتائج جاری نہںخ کے گئے۔(ف،م)

Source

You might also like