سندھ حکومت گزشتہ سال ملک کو کتنے ارب کا چونا لگا گئی؟ سینئر ترین صحافی نے گھپلوں کا انکشاف کر دیا
کراچی (ویب ڈیسک) سابقہ سندھ حکومت کی جانب سے گذشتہ سال 274 ارب روپے کے مالی گھپلوں کا انکشاف ہوا ہے، اس انکشاف سے متعلق معروف اینکر کامران خان نے اپنے پروگرام میں بتایا ۔ کامران خان کا کہنا تھا کہ آڈیٹر جنرل کی رپورٹ میں سندھ حکومت کے مختلف محکموں
میں 274 ارب روپے کے مالی گھپلوں کا انکشاف کیا جو آصف علی زرداری کے لیے لمحہ فکریہ ہے۔آڈیٹر جنرل آف پاکستان نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ سندھ کے سرکاری محکمے کرپشن کی دلدل میں دھنسے ہوئے ہیں،کہیں سرکاری ٹینڈرز میں شفافیت نہیں تھی تو کہیں ٹینڈرز جاری کرنےکی زحمت ہی نہیں کی گئی۔ بچوں کی سرکاری کتابوں سے لے کر حفاظتی ٹیکوں تک تمام منصوبوں میں سرکاری خزانے کواربوں روپے کا ٹیکہ لگایا گیا۔زکوۃ اور عشر کے محکموں میں بھی کرپشن عروج پر تھی۔آڈیٹر جنرل کی رپورٹ میں بتایا گیا کہ سندھ کا محکمہ ریونیو 50 ارب روپے کے اخراجات کا حساب تک نہیں دے سکا جبکہ محکمہ خزانہ سندھ نے 8 ارب 25 کروڑ روپے کی پنشن ادائیگیوں میں بے ضابطگیاں کیں۔ محکمہ تعلیم کے پاس 4 ارب روپے کے اخراجات کا کوئی حساب نہیں ہے۔کتابوں کی خریداری پر جامشورو ٹیکسٹ بُک بورڈ نے 21 کروڑ روپے اضافی خرچ کیا۔مختلف اسکولز کی تعمیر سے پہلے ہی 6 کروڑ روپے کا فرنیچر خرید لیا گیا۔جبکہ محکمہ صحت 16 ارب روپے کے اخراجات کا حساب دینے سے قاصر رہا۔ 30 کروڑ روپے کی ادویات بغیر ڈرگ ٹیسٹ کے خریدی گئیں،5 کروڑ روہے کی زائد المیعاد ادویات بھی سندھ کے محکمہ صحت نے
خریدیں، محکمہ سندھ نے غیر منصفانہ طور پر پیپلز پرائمری ہیلتھ کئیر یونٹ کو 2 ارب 25 کروڑ روپے کی ادائیگیاں کیں، اور حفاظتی ٹیکوں کے معاملے میں آخری حکومت میں 8 کروڑ روپے یکمشت خرچ کر دئے گئے، سندھ کا محکمہ توانائی 4 ارب روپے کے اخراجات کا حساب نہیں دے سکا جبکہ عالمی ٹینڈرز جاری کیے گئے تھے،،سندھ کول اتھارٹی نے ساڑے سات ارب روپے کی خریداری کر ڈالی۔محکمہ توانائی نے کے الیکٹرک کو غیر منصفانہ طور پر 5 ارب روپے کی ادائیگی بھی کی۔محکمہ خوراک 1 ارب روپے کا حساب نہیں دے سکا۔ 75 کروڑ روپے کی گندم کھُلے آسمان تلے چھوڑی گئی،صوبائی محکمہ داخلہ کے بجلی کے بلوں کی ادائیگی میں تقریباً ایک ارب روپے کے گھپلے پائے گئے۔ محکمہ ثقافت اور سیاحت ایک ارب 66 کروڑ روپے کے اخراجات کا ریکارڈ نہیں دے سکے۔(ف،م)