میں نے وڈیروں اور جاگیرداروں کے خلاف جدو جہد کرکے جنگ جیتی اور شہباز شریف نے ۔۔۔۔۔ جگنو محسن نے تحریک انصاف کی حمایت کی اصل وجہ قوم کے سامنے رکھ دی

کراچی (ویب ڈیسک) نومنتخب آزاد رکن پنجاب اسمبلی جگنو محسن نے کہا ہے کہ موروثی سیاست اور عوام کے استحصال کیخلاف انتخابات میں حصہ لیا، سیاسی جماعتوں نے ان نشستوں پر عورتوں کو ٹکٹ دیئے جہاں جیتنے کے چانسز کم تھے، پنجاب میں انتظامی اور پولیس اصلاحات کی ضرورت ہے،

شہباز شریف نے پنجاب میں حکومت بنا نے کی کوشش ہی نہیں کی، سنا ہے نواز شریف نے فرمایا ہے ہمیں اس دفعہ حکومت نہیں اپوزیشن کرنی ہے، جو بھی پارٹی پنجاب میں حکومت بنائے گی میرے حلقے نے اسے ووٹ دینے کا اختیار دیا ہے۔وہ جیو کے پروگرام ”کیپٹل ٹاک“ میں میزبان حامد میر سے گفتگو کررہی تھیں۔ پروگرام میں تحریک انصاف کی رہنما زرتاج گل وزیر اور ن لیگ کی رہنما مہناز عزیز بھی شریک تھیں۔زرتاج گل وزیر نے کہا کہ ڈی جی خان میں ستر سال سے مسلط کھوسہ اور لغاری خاندانوں کیخلا ف پانی پت جیسی لڑائی جیتی ، سیاسی جماعتوں نے خانہ پری کرنے کیلئے خواتین کو ٹکٹیں دیں، پی ٹی آئی نے جہاں اسٹیٹس کو کے نمائندوں کو ٹکٹ دیئے وہ نہیں جیتے، لوگوں نے کھمبے کو نہیں پی ٹی آئی کے نظریات کوووٹ دیا، اگلے سو دنوں میں ہم اپنی پالیسیوں کی سمت کا رخ بتادیں گے۔ مہناز عزیز نے کہا کہ پنجاب میں تعلیم اور صحت سمیت دیگر شعبوں میں اچھا کام ہوچکا ہے، پی ٹی آئی پرانے اچھے کاموں کو ختم کر کے نئی چیز کرنے کی غلطی نہ کرے، پنجاب میں نئے لوگ لانے کی کوشش کی گئی تو نقصان ہوگا، پنجاب میں حکومت بنانا یا نہ بنانا پارٹی کا فیصلہ ہوگا ۔

جگنو محسن نےکہا کہ میں نے موروثی سیاست کیخلاف انتخابات میں حصہ لیا ،میرے حریف کے خاندان نے33سال سے کبھی زوال نہیں دیکھا تھا، اس دفعہ عوام میں ان کیخلاف نفرت اور ہمارے لئے پذیرائی تھی، میرا سیاست میں آنے کا ارادہ نہیں تھا عوام کا استحصال دیکھ کر انتخابات میں حصہ لیا، لوگوں کو پینے کا صاف پانی میسر نہیں ہم کس سیاست کی بات کرتے ہیں، سیاست ہوتی رہے گی لوگوں کی زندگیاں بہتر کرنے پر توجہ دی جائے، سیاسی جماعتوں نے ان نشستوں پر عورتوں کو ٹکٹ دیئے جہاں جیتنے کے چانسز کم تھے، جو بھی پارٹی پنجاب میں حکومت بنائے گی میرے حلقے نے اسے ووٹ دینے کا اختیار دیا ہے۔ جگنو محسن کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی نے خیبرپختونخوا میں بلدیاتی نظام کو پختہ کرنے کیلئے اچھا کام کیا، پنجاب کو بھی اسی قسم کے بلدیاتی نظام کی ضرورت ہے، پنجاب میں انتظامی اور پولیس اصلاحات ضرور کرنی چاہئیں، شہباز شریف نے پنجاب میں حکومت بنانے کی کوشش ہی نہیں کی، سنا ہے نواز شریف نے فرمایا ہے کہ ہمیں اس دفعہ حکومت نہیں اپوز یشن کرنی ہے، نئی حکومت کیلئے سب سے بڑا چیلنج معیشت ہوگی، دیکھنا ہے عمران خان ایف بی آر،

ایس ای سی پی ، بورڈ آف انویسٹمنٹ کے سربراہ اور سیکرٹری خزانہ کس کو لگاتے ہیں۔جگنو محسن نے کہا کہ ہم نے لوگوں کے مسائل حل کرنے کیلئے جدوجہد کی اس لئے انہوں نے ہمیں ووٹ دیئے، انتخابات میں فتح یا شکست کا ٹکٹ یا میڈیا کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے۔زرتاج گل وزیر نے کہا کہ میں نے ڈی جی خان میں پانی پت جیسی لڑائی جیتی ہے، ڈی جی خان میں ستر سال سے مسلط کھوسہ اور لغاری خاند ا نو ں کیخلاف میں کامیاب ہوئی ہوں، دونو ں خاندان اہم ترین عہدوں اور وزارتوں پر رہے مگر ڈی جی خان کو کالا پانی بنا رکھا تھا، اویس لغاری نے میرے خلاف ایسی باتیں کی جس سے خود ان کی عزت کم ہوئی، ڈی جی خان کے لوگوں نے اسٹیٹس کو اور سرداروں کو مسترد کردیا ہے، میری فتح میں عورتوں نے بہت اہم کردار ادا کیا، اگلے پانچ سال نیا ڈی جی خان بنانے کی کوشش کروں گی۔(س)

یہ بھی پڑھیں :‌اسلام آباد : اپنے دوست کے ساتھ پارک میں جانیوالی ایک نوجوان اور خوبصورت لڑکی 4 سرکاری ملازمین کے ہتھے چڑھ گئی ، وہ ایسا کیا کر بیٹھی تھی کہ بدنامی کے خوف سے نہ صرف اپنے پاس موجود پیسے انکے حوالے کردیے بلکہ عزت بھی گنوا بیٹھی ۔۔۔۔ بی بی سی پر پبلش ہونے والی رپورٹ نے پوری قوم کو شرما کر رکھ دیا

Source

You might also like