محمود خان کو وزارت اعلیٰ کیسے ملی؟ بالآخر اندرونی کہانی سامنے آ گئی

اسلام آباد (ویب ڈیسک) محمود خان عمران خان کی پہلی ترجیح نہیں تھے بلکہ یہ فیصلہ ایک مناسب وقت تک کے لیے کیا گیا۔تفصیلات کے مطابق طویل انتظار کے بعد تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے بالآخرگزشتہ روز وزیراعلی خیبرپختونخواہ کے نام کا باضابطہ اعلان کردیا ہے۔تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے،

سابق صوبائی وزیر برائے سیاحت محمود خان کو خیبرپختونخواہ کے وزیراعلی کیلئے نامزد کردیا ہے۔ محمود خان پی کے 9 سوات سے انتخابات میں کامیاب ہوئے تھے۔ محمود خان خیبرپختوںخواہ اسمبلی کے پہلے اجلاس میں ہی ممکنہ طور پر وزارت اعلی کے عہدے کا حلف اٹھا لیں گے۔تاہم اس حوالے سے خبر یہ ہے کہ نامزد وزیر اعلیٰ خیبرپختونخواہ عمران خان کی پہلی ترجیح تھے ہی نہیں بلکہ عمران خان چاہتے تھے کہ عاطف خان ہی کو وزیر اعلیٰ خیبرپختونخواہ بنایا جائے تاہم عمران خان چاہ کر بھی اپنی یہ خواہش پوری نہ کرسکے۔اس موقع پر پارٹی ذرائع کا کہنا تھا کہ محمود خان عمران خان کی پہلی ترجیح نہیں تھے بلکہ یہ فیصلہ ایک مناسب وقت تک کے لیے کیا گیا ہے۔یہ خبریں بھی گزشتہ روز سے ہی گردش میں تھیں کہ تمام افراد کو اپنی تین ماہ کی کارکردگی کا مظاہرہ کرنا ہوگا اور اگر کوئی نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ نہ کر سکا تو ان سے عہدہ واپس بھی لیا جا سکتا ہے۔یاد رہے کہ محمود خان گزشتہ دور حکومت میں خیبر پختونخواہ کی صوبائی کابینہ کا حصہ بھی تھے۔2014 میں محمود خان خیبرپختونخواہ کی صوبائی کابینہ میں کھیل،،سیاحت ،میوزیم اور ثقافت کے وزیر تھے۔2013 میں انہوں نے اپنی وزارت کا حلف اٹھایا اور 2014 میں ان پر کرپشن کے الزامات لگے۔ان پر 18 لاکھ روپے اپنے ذاتی اکونٹ میں منتقل کرنے کا الزام تھا جس کے بعد ان سے وزارت واپس لے لی گئی۔تاہم اس کے بعد پھر انکوائری میں وہ کلئیر ہو گئے اور انکی وزارت میں کام کرنے والے کچھ بیوروکریٹ اس میں ملوث تھے۔جس کے بعد انہیں ایک بار پھر وزارت دے دی گئی جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان پر الزامات کلئیر ہو گئے تھے۔جون 2014 میں انکو ابلاغیات کا اور بعد ازاں داخلہ اور قبائلی امور کا وزیر بنادیا گیا تھا۔(س)

Source

You might also like