پاکستان کو مسائل کی دلدل سے نکالنے اور بیرونی قرضوں کی ادائیگی کے لیے کل کتنی رقم درکار ہے ؟ ماہرین نے اعداد وشمار پیش کر دیے

کراچی(ویب ڈیسک) اقتصادی ومالیاتی ماہرین کا کہنا ہے کہ نئی حکومت کو سب سے بڑا اور نہایت کٹھن چیلنج بیرونی ادائیگیوں کے توازن کو درست رکھنے کی غرض سے 12ارب سے زائد زرمبادلہ کا حصول ہوگا اور اس سلسلے میں نئی حکومت کو انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ (آئی ایم ایف) کے قرضوں کے ناگزیر پروگرام میں

جانے کا جلدازجلد فیصلہ کرنا ہوگا۔ ماہرین کا اس سلسلے میں استدلال یہ ہے کہ آئی ایم ایف سے بیل آئوٹ پیکیج لینے میں تاخیر کی صورت میں پاکستانی کرنسی کی شرح مبادلہ پر خطرناک منفی اثرات مرتب ہوں گے جبکہ درآمدات اور قرضوں کی اقساط کی ادائیگی میں شدید مشکلات پیش آئیں گی۔ مالیاتی ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان کا بجٹ خسارہ پچھلے پانچ سال میں جی ڈی پی کی نسبت 4 فیصد سے بڑھ کے 10فیصد ہو چکا ہے۔ دسمبر2017 سے اب تک روپے کے مقابلے میں ڈالر کی قیمت میں 4مرتبہ متنازعہ اضافہ کیا جا چکا ہے جس سے مہنگائی میں تشویشناک حد تک اضافہ ہوگیا ہے۔دوسری جانب ایک اور خبر کے مطابق سپریم کورٹ آف پاکستان میں نندی پور منصوبہ کرپشن کیس کی سماعت کے دوران عدالت عظمیٰ نے قومی احتساب بیورو (نیب) کے سابق چیئرمین قمر زمان چوہدری کی سرزنش کی اور نیب کے پاس زیرِ التواء ریفرنسز کی تفصیلات بھی طلب کرلیں۔واضح رہے کہ گزشتہ روز ہی سپریم کورٹ نے نندی پور منصوبے سے متعلق کرپشن کیس ری اوپن کرنے کا حکم جاری کیا تھا۔نندی پور پاور پراجیکٹ پنجاب میں گزشتہ دورِ حکومت میں تعمیر کیا گیا تھا جس کے ذریعے 525 میگاواٹ بجلی حاصل کرنے کا

دعویٰ کیا گیا تھا، تاہم مختلف سیاسی جماعتوں کی جانب سے منصوبے میں کرپشن کے الزمات عائد کیے گئے۔ رپورٹس کے مطابق 2005 میں بننے والے نندی پور پاور پراجیکٹ کی لاگت 22 ارب روپے سے 58 ارب روپے تک جاپہنچی تھی۔چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 3 رکنی بینچ نے آج نندی پور منصوبہ کرپشن کیس کی سماعت کی۔سماعت کے دوران نیب پراسیکیوٹر پیش ہوئے اور عدالت عظمیٰ کو آگاہ کیا کہ نندی پور منصوبے کے خلاف انکوائری زیر التوا ہے۔چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ انکوائری کب سے زیر التواء ہے؟ اور نیب میں مجموعی طور پر کتنی تحقیقات زیر التواء ہیں؟نیب پراسیکیوٹر نے بتایا کہ 20 فروری 2017 کو انکوائری شروع ہو چکی تھی، وزارت قانون نے 2 سال تاخیر کی، لیکن اب انکوائری آخری مراحل میں ہے۔انہوں نے مزید بتایا کہ نندی پور منصوبہ آؤٹ سورس کرنے کی انکوائری جون 2018 میں شروع ہوئی وزارت قانون نے 2 سال تاخیر کی، لیکن اب انکوائری آخری مراحل میں ہے۔انہوں نے مزید بتایا کہ نندی پور منصوبہ آؤٹ سورس کرنے کی انکوائری جون 2018 میں شروع ہوئی۔ منصوبہ آؤٹ سورس کرنے کی انکوائری جون 2018 میں شروع ہوئی۔ اور اب تک تمام ثبوت مل گئے ہیں۔(ش۔ز۔م)

Source

You might also like