جب جنرل مشرف عمران خان کو گورنر بنانا چاہتے تھے۔۔۔۔ نامور کالم نگار کی دنگ کر ڈالنے والے واقعات پر مبنی ایک تحریر ملاحظہ کیجیے

لاہور(ویب ڈیسک)ضروری بات کرنی ہے کل تم صبح سویرے آجانااورشاہ جی کو بھی ساتھ لیتے آنا”یہ جناب عمران خان تھے جو اس کالم نگار کو اپنے گھر زمان پارک بلارہے تھے اور سیدوالاتبار اپنے شاہ جی عباس اطہر کوبھی ساتھ لانے کا کہہ رہے تھے یہ 2000کے اوائل کا واقعہ ہے

نامور کالم نگار محمد اسلم خان اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں۔۔۔۔۔ جنرل مشرف کا مارشل لا تازہ دم تھا اورکمانڈوجرنیل کے احتساب اورقومی سطح صفائی کے عزائم بڑے بلند تھے۔ اگلی صبح یہ کالم نگار شاہ جی کے ساتھ زمان پارک پہنچا۔ عمران خان ہمارے منتظرتھے انہوں نے بلا تمہید انکشاف کیاکہ جنرل مشرف مجھے گورنر پنجاب بناناچاہتے ہیں تاکہ میں افسر شاہی کے ساتھ کام کرنے کا تجربہ حاصل کرسکوں اورملک میں صاف شفاف اوربے داغ قیادت لائی جاسکے۔ آپ کا کیا مشورہ ہے اللہ تعالیٰ شاہ جی کے درجات بلند کرے ‘ بولے مجھے اس معاملے سے باہر رکھیں کیونکہ جرنیلوں کے ساتھ جوڑ توڑ پر کچھ نہیں کہناچاہتا مجھے کہنے لگے تم بتاﺅ کیاکرنا چاہیے۔ میں نے عرض کی کہ جنرل صاحب کی پیش کش فوراًقبول کرلیں۔ جنرل مشرف پاکستان کے ساتھ مخلص ہیں۔ وہ پاکستان سے لوٹ مار کا بازاربند کراناچاہتے ہیں وغیرہ وغیرہ، ہم بھی کیا سادہ تھے۔ جناب عمران خان نے ‘سادہ اورپروقار چائے’ سے ہماری تواضع کی۔ عمران خان نے بتایا کہ اگلے ہفتے جنرل مشرف سے ان کی ملاقات ہوگی جس کے بعد ہم دوبارہ ملیں گے۔ دو ہفتے بعد ہونے والی ملاقات میں خان صاحب نے جنرل مشرف ملاقات کی تفصیلات بتائیں۔

وہ بہت خوش تھے۔ پاکستان اب سیدھے راستے پر چلنے والاہے کیونکہ اس وقت وہ فوجی جنرنیلوں کے حصار میں تھے اور اقتدارپر اپنی گرفت مضبوط کررہے تھے۔ جنرل جی اے کی ناگہانی موت کے بعد طارق عزیز جیسے شاطر حواری ایسے چھائے کہ جنرل سب کچھ بھول بھال گیا۔

عمران خان نے بتایا کہ انہوں نے آہنی احتساب پر زوردیا کہ 4،5 سو افراد پاکستان کو لوٹنے کے ذمہ دار ہیں ان کو لٹکادیاجائے توباقی قوم خود بخود سیدھی ہوجائے گی۔ سرسری سماعت کے عدالتی مقدمات چلائیں اور چوروں اورلٹیروں کوٹانگ دیاجائے جس پر جنرل مشرف نے استفسار کیا کہ انہوں نے چوروں اورلیٹروں کی کوئی فہرست تیارکی ہوئی جس پر عمران خان نے بتایاکہ ان کے پاس فہرست تیار ہے۔ اس کے بعد خان صاحب،جنرل سے دوبارہ ملاقات کے منتظررہے لیکن ریفرنڈم تک ایسی کوئی ملاقات نہ ہوسکی۔

شاید جنرل صاحب عمران خان کے عزائم دیکھ کر گھبراگئے تھے کہ ایساکڑااحتساب کرنا ان کے لیے ممکن نہیں تھا کہ وہ امریکہ اور عالمی برادری کوبھی جواب دہ تھے جیسے چند دن بعد وزیراعظم عمران خان جواب دہ ہوں گے۔ جناب عمران خان کے حوالے سے دوسرا دلچسپ واقعہ بھی شاہ جی کے ساتھ ہی رونما ہوا تھا۔ ہوایوںکہ یہ کالم نگار شاہ جی کے ساتھ

ماڈل ٹاون میں ایک بلند پایہ تجزیہ نگار ‘شاعراور کالم نگار کے گھرملنے گئے جو ان دنوں ہمارامعمول تھا۔ ہمہ وقت اپنی پرستش میں مصروف نرگیست کاشکاریہ صاحب بیماری کی حدتک اپنے پجاری آپ بنے ہوئے ہیں ہم ان کے باہر آنے کے منتظرتھے غیرمعمولی تاخیرہورہی تھی۔ میں نے شاہ جی سے کہا اندرکوئی گڑبڑہے۔ اتنی دیرکبھی نہیں لگی۔ وہ صاحب اسی اثنامیں باہر آگئے۔ ان کے چہرے کے تاثرات کچھ عجیب سے تھے ہمارا روز کا آنا جانا تھا۔ہمارے مہربان پھر واپس اندرچلے گئے شاہ جی نے مجھے کہاتمہارااندازہ ٹھیک ہے کوئی کڑبڑضرورہے میں نے بچوں کوبلانے کے لیے آوازیں دیں تو بھابھی نے اندرسے پوچھا تمہیں کیا ہوا ہے، شورکیوں مچارہے ہو اندر آکربات کرو،اندرجاکر پوچھا بھائی صاحب کدھر گئے ہیں۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ بغلی کمرے میں ابھی عمران بھائی کو لے کرگئے ہیں۔ آپ شاید بعد میں آئے ہیں اس طرح ہم نے جناب عمران خان کو ان کی حراست سے برآمد کرلیا جونہیں چاہتے تھے کہ ہماری عمران خان سے ملاقات ان کے گھر پر ہو، جہاں دیدہ عمران صورت حال سمجھ گے تھے لیکن میزبان کی کمینگی پر زیرلب مسکراتے رہے، بولے کچھ نہیں۔ جمائماخان سے عمران کی شادی کی خبر نجی شعبے میں

کام کرنے والی نیوزایجنسی”این این آئی”نے سب سے پہلے جاری کی تھی۔ عالمی ذرائع ابلاغ بھی یہ خبر ”این این آئی ”کے حوالے ہی جاری کرسکے تھے۔ ہوا کچھ یوں کہ ہمارے پیارے انجینئرمنصورصدیقی پیرس سے بتارہے تھے۔ جمائما خان کا نکاح انجام گیاہے جس میں ہمارے سفیرسعید احمد خان اور دیگر احباب گواہ تھے۔ ‘پاپارازی’ رپورٹروں اورفوٹوگرافروں سے تنگ آئے ہوئے عمران خان یہ طے کررکھا تھا کہ شادی کی خبر پاکستان سے جاری ہوگی۔ اس لیے ساراعالمی میڈیا ٹامک ٹوٹیاں مارتا پھررہا تھا۔خبر این این آئی اسلام آباد سے جاری ہوئی نجی خبررساں اداروں سے شہرت پانے والے برق رفتار جاوید اقبال قریشی نے فوری طور پر انگریزی ترجمہ کرواکے”سٹاپ پریس” چلایاتھا۔ اس حوالے تنازع ایک ہفتے بعد پیدا ہوا ہمیں موتیوں والی سرکارکے نام سے مشہور انجینئر منصورصدیقی نے بتایاکہ عمران خان نے جمائما خان کا اسلامی نام حائقہ خان رکھا ہے اس کی خبربھی پاکستان سے جاری کی گئی جس کی ایک دودن بعدجمائما نے بی بی سی سے انٹرویو میں تردید کردی تھی جسے عمران خان نے بھی خاموشی سے قبول کرلیا تھا اوراس حوالے سے کوئی طوفان نہیں اٹھ کھڑا ہوا تھا کہ عمران خان ابھی سیاسی عزائم سے بہت دور تھے ۔ وہ اس پہلے فورٹریس سٹیڈیم میں ”یوم عوام” کے موقع پر زندہ دلان لاہور سے خطاب کرچکے تھے جوکہ اصل میں شوکت خانم ہسپتال کے لیے جاری چندہ مہم کے خاتمے کا اعلان تھا۔ اب چند روز میں عمران خان پاکستان کے وزیراعظم ہوں گے مکمل با اختیار اور طاقتور سربراہ مملکت’ پھر انہیں اندازہ ہوگا کہ بظاہر بااختیار دکھائی دینے والے عہدے اندر سے کتنے کمزور ہوتے ہیں۔

Source

You might also like