اسپتال کے باہر چنگ چی رکشہ میں خاتون نے بچے کو جنم دے دیا
لاہور (روز نامہ اوصاف ) معاشرے میں ڈاکٹرز کو ایک خاص عزت و احترام حاصل ہوتا ہے کیونکہ وہ اپنی ذاتی زندگی کو پس پُشت ڈال کر مریضوں کے علاج میں کوئی کسر نہیں چھوڑتے ۔ لیکن حال ہی میں پاکستان میں ہونے والے کچھ ایسے واقعات نے ڈاکٹرز اور اسپتالوں سے متعلق سوچ کا نقشہ ہی تبدیل کر کے رکھ دیا ہے۔سوشل میڈیا پر ایک سرکاری اسپتال کے باہر کھڑے چنگچی رکشہ کی تصویر نے سب کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ۔ یہ تصویر لاہور کے بڑے سرکاری اسپتال جناح اسپتال کی ایمرجنسی وارڈ کے باہر کھڑے اس چنگچی رکشہ کی ہے جس میں موجود ایک حاملہ خاتون نے درد سے کراہتے ہوئے رکشے میں ہی اپنے بچے کو جنم دے دیا۔ اس سے قبل بھی کئی مرتبہ کچھ خواتین اسپتالوں کی سیڑھیوں پر بچوں کو جنم دے چکی ہیں تو کوئی وارڈ میں بیڈ نہ ہونے کی وجہ سے زمین پر ہی دم توڑ چکا ہے۔ ایسے واقعات اس معاشرے کی بے حسی اور حکومت کی بد ترین کارکردگی کا بلاشُبہ منہ بولتا ثبوت ہیں۔ ہسپتال میں سٹریچر موجودہ نہ ہونے کے باعث یہ واقعہ پیش آیا۔مسیحاؤں کی اس جنت میں غریب عوام کو اسٹریچر اور بنیادی میڈیکل سہولیات تو دستیاب ہیں نہیں، اسی لیے ان بے چاروں کو مجبورا چنگچی رکشوں اور اسپتال کی سیڑھیوں پر ہی اپنا لیبر روم اور وارڈ روم بنانا پڑتا ہے۔ افسوس اس بات کا نہیں ہے کہ غریب عوام کے ساتھ یہ سب ہو رہا ہے ، افسوس اس بات کا ہے کہ غریب عوام کے ساتھ ہونے والے اس سلوک کو دیکھ کر سب چپ سادھ کر بیٹھےہیں۔