آج کی بڑی بریکنگ نیوز: بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو مشروط طور پر ووٹ ڈالنے کا حق دے دیا گیا
اسلام آباد(ویب ڈیسک)الیکشن کمیشن نے قومی و صوبائی اسمبلی کی 50 نشستوں پر ضمنی انتخاب میں تارکین وطن کو ووٹ کا حق دینے کا اعلان کر دیا۔ سپریم کورٹ میں تارکین وطن کو ووٹ کا حق دینے سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی۔ سیکرٹری الیکشن کمیشن نے عدالت کو بتایا کہ
قومی و صوبائی اسمبلی کی نشستوں پر ضمنی انتخابات میں تارکین کو ووٹ کا حق دیں گے۔جسٹس اعجاز الااحسن نے سیکرٹری الیکشن کمیشن سے پوچھا آر ٹی ایس سسٹم کیوں کریش ہوا؟۔ جس پر سیکرٹری الیکشن کمیشن نے جواب دیا آر ٹی ایس سسٹم کریش نہیں بلکہ سست روی کا شکار ہوا۔چیف جسٹس نے ریمارکس دئیے خدانخواستہ الیکٹرانک سسٹم میں دوبارہ خرابی سے بچنے کیلئے تارکین وطن کے ووٹ کو الگ رکھا جائے۔ اگر الیکٹرانک سسٹم میں خرابی ہو تو پورا سسٹم آلودہ نہ ہو، شفاف انتخابات کا انعقاد الیکشن کمیشن کے ذمہ ہے۔عدالت نے الیکشن کمیشن سے تارکین وطن کو ضمنی انتخابات میں ووٹ کے حق میں تفصیلی جواب طلب کرتے ہوئے سماعت 15 اگست تک ملتوی کر دی۔دوسری جانب ایک اور خبر کے مطابق الیکشن کمیشن نے عمران خان کے خلاف ووٹ کی رازداری سے متعلق کیس میں بابر اعوان کا تحریری جواب مسترد کردیا جب کہ چیئرمین پی ٹی آئی سے بیان حلفی اور ان کا دستخط شدہ معافی نامہ طلب کرلیاہے۔25جولائی کو ہونے والے عام انتخابات میں چیئرمین تحریک انصاف عمران خان اپنا ووٹ کاسٹ کرنے این اے 53 اسلام آباد کے پولنگ اسٹیشن پر گئے جہاں انہوں نے پولنگ بوتھ کے پیچھے جاکر مہر لگانے کی بجائے
میڈیا کے سامنے ہی بیلٹ پیپر پر مہر لگائی جس کا الیکشن کمیشن نے نوٹس لیا۔یف الیکشن کمشنر سردار رضا کی سربراہی میں 4 رکنی بینچ نے عمران خان کے خلاف ووٹ کی رازداری ظاہر کرنے کے از خود نوٹس کی سماعت کی جس سلسلے میں ان کے وکیل بابر اعوان الیکشن کمیشن میں پیش ہوئے اور اپنے مؤکل کی طرف سے معافی مانگی۔چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ ووٹ کی رازداری افشا کرنا معافی کا معاملہ نہیں، عمران خان نے ووٹ کی رازداری سے متعلق جواب نہیں دیا۔اس پر بابر اعوان نے کہاکہ میں عمران خان کی جانب سے آج ووٹ کی رازداری پرجواب جمع کرادیتا ہوں۔عمران خان کا بذریعہ وکیل تحریری جوابچیئرمین تحریک انصاف کے وکیل بابر اعوان نے عمران خان کی جانب سے تحریری جواب جمع کرایا جس میں کہا گیا ہےکہ عمران خان نے جان بوجھ کرووٹ نہیں دکھایا، ان کی مرضی سے ووٹ کی تصاویر بھی نہیں لی گئیں، رش کے باعث مہر لگانے والی جگہ کا پردہ گرگیا تھا، عمران خان نے پوچھا تھا کہاں کھڑے ہوکر مہرلگاؤں۔جواب میں استدعا کی گئی ہےکہ ووٹ دکھانے میں میرے مؤکل کی مرضی شامل نہیں لہٰذا ووٹ کی رازداری افشا کرنے والا کیس ختم کرکے این اے 53 سے روکا گیا نوٹی فکیشن جاری کیا جائے۔الیکشن کمیشن نے بابر اعوان کی جانب سے تحریری جواب جمع کرانے کے بعد کیس کا فیصلہ محفوظ کرلیا۔