ایک کروڑ سرکاری نوکریاں کیسے دیں گے ۔۔۔؟ نوجوانوں کو کیا کرنا پڑے گا؟ اسد عمر نے پیشگی بتا دیا

لاہور(ویب ڈیسک)پاکستان تحریک انصاف کے رہنماءاسد عمر نے کہا ہے کہ ایک کروڑ سرکاری نوکریاں نہیں بانٹیں گے، تعلیم وصحت کے شعبوں میں بھی نوکریاں ہوں گی،لیکن بنیادی طور پریہ نجی شعبے کے ذریعے کیا جائے گا، سمال اینڈ میڈیم مینوفیکچرنگ یونٹس ،ہیں، اٹورازم انڈسٹری ، سوشل سیکٹر، انفارمیشن ٹیکنالوجی ، ایجوکیشن ہیلتھ، یہ سب

جاب پیدا کرنے والے سیکٹرز ہیں۔وہ نجی ٹی وی کے پروگرام میں سینئر تجزیہ کار کامران خان کے ساتھ گفتگو کررہے تھے۔۔اسد عمر نے ایک سوال ”پی ٹی آئی کا سب سے بڑا وعدہ ،ایک کروڑ ملازمتیں اور 500 لاکھ گھردینے کا ہے،یہ نعرہ ہے یا اس کے پیچھے کوئی ٹھوس منصوبہ بندی ہے؟“ جس پر اسد عمرنے کہا کہ اس وقت سالانہ 20لاکھ نوجوان مارکیٹ میں روزگار کی تلاش میں آتے ہیں۔ہمارا آئین کہتا ہے کہ جوبھی روزگار کی تلاش میں نکلے اس کوروزگار دیا جائے۔مجھے خوشی ہے کہ ہم الیکشن لڑا تواولین ترجیح بنائی کہ نوجوانوں کوروزگار بھی دینا ہے۔ہم نے اس کے اندر جوچیزیں دیکھی اور جائزہ لیا ان میں ہمارے نزدیک وہاں زیادہ توجہ دینی ہے ۔جن سیکٹر ز میں سب سے زیادہ ملازمتیں پیدا کرنے کی صلاحیت موجود ہو۔سمال اینڈ میڈیم مینوفیکچرنگ یونٹس ہیں،ان میں چھوٹے اور درمیانے مینوفیکچرنگ یونٹس،ٹورازم کی انڈسٹری ہے۔سوشل سیکٹر، ایجوکیشن ہیلتھ،یہ سب جاب پیدا کرنے والے سیکٹرز ہیں۔اسی طرح انفارمیشن ٹیکنالوجی کی پوری پالیسی ہے کہ اس میں کس طرح جاب دینی ہے۔انہوں نے کہا کہ گھروں کے بارے میں جو ہم کہا کہ اس میں یہ کہ لوگوں کوچھت چاہیے پاکستان میں ایک کروڑ لوگوں کے پاس اپنا گھر نہیں ہے۔ہاؤسنگ کا کم ازکم 32صنعتوں کے اوپر اثرپڑتا ہے۔جب ہم بڑے پیمانے پرگھر بنائیں گے توپھر اس کے ساتھ 322صنعتیں اٹھیں گی اور ملازمتیں بھی پیدا ہوں گی۔انہوں نے کہا کہ ایک بات واضح کردو ں کہ یہ بات نہیں کہ عمران خان ایک کروڑ سرکاری نوکریاں بانٹ رہے ہوں گے۔ سرکاری محکموں میں بھی تعلیم صحت کے شعبوں میں نوکریاں ہوں گی۔لیکن بنیادی طور پریہ نجی شعبے کے ذریعے کیا جائے گا۔انہوں نے ایک سوال پرکہ اب ہم یہ حکومت کے فوری بعد تین ہفتوں میں ان پرعملدرآمد ہوتا ہوا دیکھیں گے؟ جس پراس عمر نے کہا کہ ان کودوحصوں میں تقسیم کرلیں سب سے پہلے ہم زرمبادلہ کے ذخائر جوگرے ہوئے ہیں۔اس سے متعلق فیصلے ہفتوں میں کریں گے۔اس کے بعد دوسرے کام کریں گے۔انہوں نے کہاکہ یہ پروگرام بزنس اور اکنامک ایڈوائزری کے سامنے رکھیں گے۔کیونکہ یہ عمران خان یا اسد عمر کانہیں پورے پاکستان کاپروگرام ہے۔(ش۔ز۔م)

Source

You might also like