تحریک انصاف کے رہنما عارف علوی کو کونسا عہدہ دیا جانے کا امکان ہے؟ جان کر آپ یقین نہیں کریں گے
اسلام آباد (ویب ڈیسک) تحریک اںصاف نے عارف علوی کو صدر مملکت کا عہدہ سونپنے پر غور شروع کردیا، موجودہ صدر مملکت ممنون حسین کے عہدے کی مدت ستمبر میں ختم ہو جائے گی، عمران خان کی جانب سے عہدے کیلئے کئی ناموں پر غور۔ تفصیلات کے مطابق تحریک انصاف کی جانب
سے 25 جولائی کے عام انتخابات میں کامیابی حاصل کرنے کے بعد سے مختلف حکومتی عہدوں پر تقرریاں کیے جانے کا سلسلہ جاری ہے۔تحریک انصاف اب تک پنجاب،، خیبرپختوںخواہ اور سندھ کے گورنرز، جبکہ خیبرپختوںخواہ کے وزیراعلی اور قومی اسمبلی کے اسپیکر و ڈپٹی اسپیکر کے ناموں کا اعلان کیا جا چکا ہے۔ اب تحریک انصاف نے صدر مملکت کے نام پر بھی غور شروع کردیا ہے۔ موجودہ صدر مملکت ممنون حسین کے عہدے کی مدت ستمبر میں ختم ہو جائے ۔تحریک انصاف نے ممنون حسین کے بعد ملک کے آئندہ صدر مملکت کیلئے کراچی سے منتخب ہونے والے رکن قومی اسمبلی عارف علوی کے نام پر غور شروع کردیا ہے۔اس حوالے سے سندھ کے نامزد گورنر عمران اسماعیل کی جانب سے تصدیق کی گئی ہے۔ تاہم تاحال اس حوالے سے کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔ عمران خانصدر مملکت کیلئے مختلف ناموں پر غور کر رہے ہیں۔ جبکہ عارف علوی کو صدر مملکت کیلئے منتخب کیے جانے پر انہیں اپنی قومی اسمبلی کی نشست خالی کرنا ہوگی۔ دوسری جانب ایک خبر کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے سنئیر رہنما ڈاکٹر عارف علوی نے پاکستان مسلم لیگ نواز کے رہنما اور سابق وزیر داخلہ چودھری نثار کو پارٹی میں شمولیت کی دعوت دیدی۔حیدرآباد میں میڈیا سے بات چیت کرتے
ہوئے عارف علوی کا کہنا تھا کہ میں چوہدری نثار کو پارٹی میں آنے کی دعوت دیتا ہوں۔ چوہدری نثار اچھے آدمی ہیں برے لوگوں میں پھنسے ہوئے ہیں۔ ن لیگ متنازع قانون بنانے کے باعث گھر کی لونڈی بنی۔ان کا کہنا تھا کہ ن لیگ اور پاکستان پیپلز پارٹی کا ڈردرست ہے کہ اگلی حکومت ان کی نہیں ہوگی،عارف علوی نے دعویٰ کیا کہ اگلی حکومت تحریک انصاف بنائیگی۔ ن لیگی رہنمائوں کی جانب سے عدلیہ مخالف بیانات سے متعلق سوال کے جواب میں پی ٹی آئی رہنماکا کہنا تھا کہ اگر حکومت کچھ نہیں کرگی تو عدالتیں ہی کام کرینگی۔پی ٹی آئی رہنماعارف علوی کی پریس کانفرنس کےدوران سینئرکارکن نےنظراندازکرنے پراحتجاج کرتےہوئےخودکشی کی دھمکی دےدی۔ ذرائع کےمطابق حیدرآباد میں پی ٹی آئی رہنماء ڈاکٹرعارف علوی کی پریس کانفرنس جاری تھی جب ایک کارکن نے نظراندازہونےپراحتجاج کیا۔ اس دوران دیگرکارکنان احتجاج کرنےوالے کارکن کوکمرےسےباہرلےگئے۔ پی ٹی آئی کارکن عارف علوی کی گاڑی کےپاس بھی دہائی دیتارہا۔کارکن کاکہناتھاکہ ڈاکٹرصاحب میری بات سنیں،میں خودکوآپ کےسامنےماردونگا۔ کارکن نے مزید دہائی دی کہ میرےساتھ ظلم ہورہا ہے،میں 25 سال سے پارٹی میں ہوں، میری بات نہیں سننی جارہی۔(ف،م)