خبردار مجھے اس پر بھروسہ نہیں لہذا۔۔۔ نواز شریف نے اڈیالہ جیل سے ایسا پیغام جاری کر دیا کہ (ن) لیگی قیادت سٹپٹا کر رہ گئی

اسلام آباد (ویب ڈیسک) مسلم لیگ ن کے قائد نواز شریف نے پارٹی قیادت کو جیل سے اہم پیغام جاری کر دیا ہے۔پاکستان تحریک انصاف کے مرکز اور پنجاب میں حکومت بنانے کے فیصلے اور مسلم لیگ ن کے سرنڈر کرنے کے بعد اپوزیشن جماعتوں میں قومی اسمبلی اورصوبائی اسمبلی میں اپوزیشن کے حوالے سے تبادلہ خیال ہوا ۔

متحدہ اپوزیشن کے اجلاسوں اور پارٹی کی حالت کو مد نظر رکھتے ہوئے مسلم لیگ ن کے تاحیات قائدنواز شریف نے بھی پارٹی قیادت کو جیل سےاہم پیغام جاری کر دیا ہے جس میں انہوں نے پیپلز پارٹی پر زیادہ بھروسہ نہ کرنے اور اپوزیشن کو اپنی گرفت میں رکھنے کی ہدایت کی ہے۔ذرائع کے مطابق مسلم لیگ ن کے ایک اجلاس میں یہاں تک گفتگو ہوئی کہ پاکستان پیپلزپا رٹی کے ساتھ اتحاد ضرور کیا جائے لیکن اسمبلی کے اندر کردار ہمارا ہی نظر آ نا چاہئیے۔اور کچھ ایسا ہو کہ اپوزیشن میں صرف ہم ہی سامنے ہوں ۔ با وثوق ذرائع نے بتایا ہے کہ نوازشریف اور شہباز شریف کی الیکشن کے بعد ہونے والی ملاقات میں بھی نواز شریف کی جانب سے یہی پیغام دیا گیا تھا کہ پاکستان پیپلزپا رٹی پر زیادہ بھروسہ نہیں کرنا اور اپوزیشن میں گرفت اپنی ہی رکھنی ہے ۔دوسری جانب پیپلزپا رٹی کے اپنے اجلاسوں میں بھی یہ بات زیر غور آ ئی ہے اور اس بات پر باقاعدہ اہم رہنماؤں نے موقف اختیار کیا ہے کہ ن لیگ کے بجائے ہمیں اپنا اپوزیشن لیڈر لانا چاہئیے اور اگر ن لیگ کا اپوزیشن لیڈر آتا ہے تو پھر ہمیں علیحدہ رہ کر اسمبلی کے اندر ایسا کردار ادا کرنا چاہئیے کہ ہماری پوزیشن ن لیگ سے بہتر ہو اور اپوزیشن میں بھی ہم ہی نظر آ ئیں ۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان پیپلزپا رٹی کے چند رہنما یہ کوشش کر رہے ہیں کہ نمبر گیم کوئی ایسی بن جائے کہ اپوزیشن لیڈر کے لیے پاکستان پیپلزپارٹی سے ہی کوئی سامنے آ ئے ۔ ذرائع نے کہا کہ پیپلزپا رٹی کے اجلاسوں میں یہ بات بھی واضح طور پر کی جا رہی ہے کہ مسلم لیگ ن کا اپوزیشن لیڈر بننے کی صورت میں اگراسمبلی میں سابق وزیر اعظم نوازشریف کے مقدمات کے حوالے سے بات کی گئی تو پاکستان پیپلزپارٹی اس کو سپورٹ نہیں کرے گی ، کیونکہ ایسا کرنے سےپاکستان پیپلزپارٹی کی پوزیشن مزید خراب ہو گی ، اجلاس میں یہ فیصلہ بھی کیا گیا کہ اداروں کے تصادم کے حوالے سے بھی ن لیگ کا اسمبلی میں ساتھ نہیں دیا جائے گا ۔پیپلزپا رٹی اور ن لیگ کی قیادت اپنے اپنے اجلاسوں میں اہم رہنماؤں کو یہ بھی کہہ چکی ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کو کسی صورت ایک سال سے زیادہ نہیں چلنے دینا اور ایک سال کا ٹارگٹ رکھ کر ہی اپوزیشن کرنی ہے ۔ یہاں یہ بات بھی قابل ذکر رہے کہ متحدہ اپوزیشن متحد ہونے سے پہلے ہی انتشار کا شکار ہو گئی ہے۔ پاکستان پیپلزپا رٹی اپنا اپوزیشن لیڈر لانے جبکہ ن لیگ اپنا اپوزیشن لیڈر لانے پر بضد تھی اور متحدہ مجلس عمل کے رہنماؤں نے متحدہ اپوزیشن کا حصہ بننے کے لیے سخت کڑی شرائط رکھی ہیں۔ جس میں مولانا فضل الرحمان ، محمود اچکزئی اور اسفند یار ولی اور تین دیگر رہنماؤں کو ضمنی انتخابات میں مکمل سپورٹ کر نے اور الیکشن جتوانے کی شرط بھی شامل ہے ۔(س)

Source

You might also like