شہباز شریف کا ایک اور اسکینڈل بے نقاب۔۔۔بنک آف پنجاب کے خرانے کو کتنے اربوں کا چونا لگا گئے؟ تہلکہ خیز انکشاف ہو گیا
لاہور (ویب ڈیسک) شہباز شریف دور کا ایک اور کارنامہ بے نقاب ہو گیا، بینک آف پنجاب کے اربوں روپے کمرشل بینکوں میں منتقل کر کے خزانے کو اربوں روپے کا نقصان پہنچایا گیا۔تفصیلات کے مطابق سابق وزیرِ اعلیٰ پنجاب کے دور کا ایک اور اسکینڈل بے نقاب ہو گیا ہے، بینک آف پنجاب سے اربوں
کے فنڈز نکال کر مختلف بینکوں میں جمع کرائے گئے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ بینک آف پنجاب سے نکال کر غیر قانونی طور پر 35 ارب 70 کروڑ روپے کمرشل بینکوں میں رکھے گئے، اس کے لیے مختلف بینکوں میں 1200 سے زائد اکاؤنٹ کھولے گئے۔ذرائع کے مطابق دیگر کمرشل بینکوں میں اکاؤنٹس مختلف محکموں کے نام سے کھولے گئے جن میں پینتیس ارب روپے منتقل کر کے ملکی خزانے کو بہت بڑا نقصان پہنچایا گیا۔اربوں روپے کمرشل بینکوں میں منتقل ہونے کا انکشاف کرنے والی دستاویز کے مطابق جن اداروں کے نام سے اکاؤنٹس کھولے گئے ان میں وزیرِ اعلیٰ سیکرٹریٹ اور گورنر ہاؤس بھی شامل ہیں۔دستاویز کے مطابق محکمہ صحت، محکمہ تعلیم سمیت 19 ایسے محکمے ہیں جن کے نام سے کمرشل بینکوں میں غیر قانونی اکاؤنٹس کھولے گئے ہیں۔خیال رہے کہ کمرشل بینکوں میں اکاؤنٹ کھلوانے کے لیے محکمہ خزانہ اور کابینہ کی اجازت ضروری ہوتی ہے، ذرائع کا کہنا ہے کہ محکمہ خزانہ معاملات چھپانے کی کوششیں کر رہی ہے تاکہ یہ معلوم نہ ہوسکے کہ فنڈز کہاں استعمال ہوئے۔ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ بینک آف پنجاب سے فنڈز بلاک ایو لوکیشن سے کمرشل بینکوں میں منتقل کیے گئے۔ اس سلسلے میں اسٹیٹ بینک نے کمرشل بینکوں کے اکاؤنٹس اور فنڈز کی تفصیلات طلب کرلی ہیں۔
دوسری جانب ایک خبر کے مطابق صاف پانی سمیت دیگر کمپنیوں میں مبینہ کرپشن سے متعلق از خود کیس میں چیف جسٹس نے کمپنیوں اور مختلف منصوبوں کے لیے ڈیپوٹیشن پر جانے والے افسران کی تمام تر تفصیلات نیب کو فراہم کرنے کا حکم دے دیا۔تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں صاف پانی سمیت دیگر کمپنیوں میں مبینہ کرپشن سے متعلق ازخود نوٹس کیس کی سماعت ہوئی۔نیب کی جانب سے تفصیلی انکوائری رپورٹ پیش نہ کرنے اور سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کے نیب سے عدم تعاون پر چیف جسٹس نے سخت برہمی کا اظہار کیا۔چیف جسٹس نے ہدایت کی کہ چئیرمین نیب کو عدالتی تشویش سے آگاہ کریں، اس کیس میں نیب کی کارکردگی مایوس کن ہے۔عدالت نے کمپنیوں اور مختلف منصوبوں کے لیے ڈیپوٹیشن پر جانے والے افسران کی تمام تر تفصیلات نیب کو فراہم کرنے کا حکم دے دیا۔چیف جسٹس نے کہا کہ عدالتی احکامات پر عمل نہ کرنے کی صورت میں وفاقی سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ ڈویژن ذاتی حیثیت میں عدالت میں پیش ہوں۔ جسٹس ثاقب نثار نے استفسار کاا کہ کمپنواں کے سی ای اوز اور افسران کے اثاثوں کی انکوائری سے متعلق کا بنا ؟ جس پر نبہ پراسیکیوٹر نے عدالت کو آگاہ کاخ کہ چھ سی ای اوز کے اثاثہ جات سے متعلق انکوائری مکمل کرلی ہے، پنجاب کی جانب سے 22 جولائی کو افسران کی فہرست موصول ہوئی، جس کے باعث انکوائری مںس تاخری ہوئی۔(ف،م)