انتخابات: 2018 جعلی شناختی کارڈ پر غیر ملکی باشندہ رکن اسمبلی منتخب، یہ کون ہے اور اس کا تعلق کس سیاسی جماعت سے ہے؟ انتہائی حیران کن تفصیلات سامنے آ گئیں

کوئٹہ (ویب ڈیسک) کوئٹہ میں بغیر شناختی کارڈ کے ایک افغان شہری عام انتخابات میں حصہ لے کر کامیاب ہو گیا اور رکن بلوچستان اسمبلی بن گیا ۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق 25 جولائی 2018ء بروز بُدھ کر ملک بھر میں پولنگ ہوئی۔ 25 جولائی کو ہونے والی پولنگ نے کوئٹہ کے ایک افغان شہری کو بھی

الیکشن میں کامیاب کروا کر رکن صوبائی اسمبلی منتخب کروادیا۔کوئٹہ سے منتخب ہونے والے افغان شہری علی احمد کا شناختی کارڈ بھی بلاک ہے، نو منتخب علی احمد کہزاد کا تعلق ہزارہ ڈیموکریٹک پارٹی سے ہے۔علی احمد کا شناختی کارڈ غیر ملکی ہونے پر بلاک کیا گیا تھا۔ علی احمد کہزاد کے پاس افغانستان کی شہریت ہے۔ علی احمد کہزاد شناختی کارڈ نہ ہونے کے باوجود رکن صوبائی اسمبلی منتخب ہو گئے۔علی احمد کہزاد بلوچستان کے حلقہ پی بی سے رکن صوبائی اسمبلی منتخب ہوئے۔نو منتخب رکن صوبائی اسمبلی کا حلقے میں اپنا ووٹ بھی رجسٹرڈ نہیں ہے۔ لیکن نہ نادرا نے دھیان دیا اور نہ ہی الیکشن کمیشن نے علی احمد کہزاد کا شناختی کارڈ چیک کرنے کی زحمت کی۔ علی احمد کہزاد کی خبر سامنے آنے پر سیاسی مبصرین نے تشویش کا اظہار کیا ہے اور علی احمد کہزاد کے کیس نے الیکشن کمیشن کی کارکردگی پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔ خیال رہے کہ الیکشن کمیشن کی جانب سے انتخابات سے قبل اُمیدواروں کے شناخی کارڈ، اثاثہ جات اور دیگر تفصیلات بھی طلب کی جاتی ہیں۔رواں برس عام انتخابات سے قبل الیکشن کمیشن آف پاکستان نے انتخابی اُمیدواروں کو حلف نامے بھی جمع کروانے کی ہدایت کی تھی۔ ایسے میں بلوچستان سے منتخب ہوئے رکن صوبائی اسمبلی علی احمد کہزاد کا شناختی کارڈ نہ ہونا اور شناختی کارڈ نہ ہونے کے باوجود بھی انتخابات میں حصہ لے کر کامیاب ہو جانا ایک اہم اور حساس معاملہ ہے جس پر الیکشن کمیشن کو جواب دینا چاہئیے۔

جبکہ دوسری جانب عام انتخابات میں کراچی سے قومی اسمبلی کے 90 فیصد امیدواروں کی ضمانت ضبط ہوئی۔ 319 امیدواروں میں بلاول بھٹو، فاروق ستار، مصطفی کمال، شاہی سید، مفتاح اسماعیل، شہلا رضا اور آفاق احمد بھی شامل ہیں۔کراچی میں قومی اسمبلی کا الیکشن لڑنے والی کوئی جماعت ایسی نہیں جس کے ارکان کی ضمانت ضبط نہ ہوئی ہو۔ تین جماعتوں کے تمام امیدواروں کی ضمانتیں ضبط ہوئیں جن میں پی ایس پی، اے این پی اور ایم ایم اے شامل ہیں۔ ضمانت ضبط کروانے والوں میں علی رضا عابدی، معراج الہدی صدیقی، سلیم ضیاء، عبدالرؤف صدیقی، فوزیہ قصوری، گلوکار جواد احمد، ثروت اعجاز قادری اور ڈاکٹر صغیر احمد بھی شامل ہیں۔پہلی بار ایم کیو ایم کے 16 امیدواروں کی ضمانت ضبط ہوئی۔ ڈاکٹر فاروق ستار دونوں حلقوں سے ضمانت نہیں بچاسکے۔ بلاول بھٹو سمیت پیپلز پارٹی کے 17 امیدواروں کی ضمانت ضبط ہوئی۔ کراچی سے صرف 27 امیدوار ضمانت بچانے میں کامیاب رہے جن میں شہباز شریف بھی شامل ہیں۔ ضمانت بچانے کے لیے کاسٹ کیے جانے والے ووٹوں کا ایک چوتھائی حاصل کرنا لازم ہے۔قومی اسمبلی کے ہر امیدوار کو زر ضمانت کے طور پر 30 ہزار روپے جمع کرانا پڑتے ہیں۔ کراچی سے قومی اسمبلی کی 21 نشستوں کے لیے 322 امیدوار میدان میں تھے۔ 295 (87 فیصد) امیدوار ضمانت ضبط ہونے سے نہ بچاسکے۔ 3 کامیاب امیدواروں کے ووٹ بھی ضمانت ضبط ہونے سے بچنے کی حد کو عبور نہ کرسکے ۔ پیپلز پارٹی کے 21 میں سے 17 امیدوار ضبط نہ بچاسکے ۔ مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف کے سوا پارٹی کا کوئی امیدوار ضمانت نہ بچاسکا۔(س)

Source

You might also like