عمران خان کی راہ میں اور کوئی رکاوٹ نہیں مگر سائے کی طرح ساتھ رہنے والی یہ چیز انہیں ناکام بنا سکتی ہے ۔۔۔خصوصی تبصرہ ملاحظہ کیجیے
اسلام آباد (ویب ڈیسک) عمران خان اپنے سیاسی ماضی کے خراب وقت کو بھلانا اور ساتھ ہی اُن لوگوں کو معاف کرنا چاہتے ہیں جنہوں نے انہیں تکلیف پہنچائی تاکہ وہ اصلاحات اور اداروں کی از سر نو ڈھانچہ سازی کے اپنے پرجوش ایجنڈے پر عمل کر سکیں۔ وہ پراعتماد ہیں کہ وہ ملک کی
معروف تجزیہ کار انصار عباسی اپنی رپورٹ میں لکھتے ہیں۔۔۔۔ سمت تبدیل کر دیں گے، اور آج کل بنی گالا آنے والوں کو بتا رہے ہیں کہ آپ کو 3؍ سے 6؍ ماہ کے دوران فرق نظر آنا شروع ہو جائے گا۔ وہ یا تو زیادہ پراعتماد ہیں یا پھر معصوم ہیں یا پھر ان کے پاس جادو کی چھڑی ہے جس کی مدد سے ملک کی طرز حکمرانی، معیشت، صحت، تعلیم، بیوروکریسی وغیرہ جیسے پیچیدہ مسائل جلد حل کر دیں گے اور سمجھتے ہیں کہ اُن کے پاس ہر مسئلے کا حل موجود ہے۔ لیکن لوگ ان کے رویے میں 180؍ ڈگری کی تبدیلی چاہتے ہیں یعنی وہ انہیں ناراض مخالف شخص، جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ جو گزشتہ پانچ سال سے منہ پھٹ ہے، سے مدبر ریاست دان (Statesman) بنتا دیکھنا چاہتے ہیں۔ بڑے پیمانے پر لوگ یہ قیاس آرائیاں کر رہے ہیں کہ اپنے سیاسی مخالفین، جو قومی اسمبلی میں نہ صرف واضح قوت کے طور پر سامنے آئیں گے بلکہ سینیٹ میں بھی واضح اکثریت میں ہیں، کے تعاون اور مدد کے بغیر، عمران خان کا اصلاحاتی ایجنڈا اور اداروں کی از سر نو ڈھانچہ سازی کی اسکیم دور کے ڈھول ہی ثابت ہوں گے۔ اس طرح عمران خان کیلئے سب سے بڑا چیلنج
مسلم لیگ ن، پیپلز پارٹی اور ایم ایم اے جیسی سیاسی جماعتوں کی مدد حاصل کرنا ہوگا، یہ وہ جماعتیں ہیں جن سے وہ ماضی میں نفرت کرتے اور مذمت کرتے آئے ہیں، تاکہ اصلاحات کیلئے متفقہ قومی ایجنڈا مرتب اور اس پر عملدرآمد کیا جا سکے۔ اپوزیشن کو اپنے ساتھ ملا کر چلنے کے سوا کوئی آپشن نہیں۔ جنہیں وہ ماضی میں بدنام کرتے تھے وہ اب اتنی بڑی تعداد میں پارلیمنٹ میں آ گئے ہیں اور ان کی مدد اور حمایت کے بغیر کوئی قانون منظور نہیں کیا جا سکے گا۔ اپنی ایگزیکٹو اتھارٹی استعمال کرتے ہوئے حکومت بمشکل ہی کچھ اصلاحات پر عمل کرا سکے گی لیکن بامعنی اور بڑے اصلاحات پر صرف ایکٹ آف پارلیمنٹ اور کچھ آئینی ترامیم کی صورت میں ہی منظور کی جا سکیں گی۔ کہا جاتا ہے کہ عمران خان کو شک ہے کہ اپوزیشن کی ایسی حمایت ان کے کرپٹ افراد کو سزا دینے اور لوٹے گئے اربوں ڈالرز بیر ون ملک سے واپس لانے کے وعدے پر سمجھوتا ثابت ہو سکتی ہے۔ لیکن جو بات عمران خان کو سمجھنے کی ضرورت ہے وہ یہ ہے کہ ان کی یا کسی اور کی خواہش کے مطابق یہ فیصلہ نہیں ہونا چاہئے کہ کون کرپٹ ہے اور کس نے قومی دولت لوٹی ہے۔
ایف بی آر، ایس ای سی پی، ایف آئی اے اور نیب جیسے اداروں میں اصلاحات لانا اور انہیں غیر جانبدار اور آزاد بنانا اور اس کے بعد ادارو ں کو میرٹ کے مطابق بغیر کسی بیرونی دبائو کے ٹیکس چو ر و ں، کرپٹ افراد اور قومی دولت لوٹنے والوں کیخلا ف کام کرنے دینا ہوگا۔ لیکن، نیب کو مخالفین کیخلا ف غلط انداز سے استعمال کرنے کے ماضی کے تجربات کو دیکھتے ہوئے ضرورت اس بات کی ہے کہ ایسے اداروں پر درست نگرانی رکھی جائے۔ مقصد بلاتفریق احتساب ہونا چاہئے نہ کہ کسی پر دبائو ڈالنا یا کسی کو نشانہ بنانا، بدقسمتی سے یہی باتیں اب تک نیب کی پہچان رہی ہیں۔ معیشت ایک بڑا چیلنج ہے لیکن عمران خان کا اصرار ہے کہ وہ اسے درست کر سکتے ہیں۔ انہیں یقین ہے کہ حکمرانوں کو شاہ خرچیاں بند اور کفایت شعاری اختیار کرتا دیکھ قوم حکمرانوں کو دیکھ کر ٹیکس ادا کرے گی۔ عمران خان کو بیرون ملک مقیم پاکستانیوں پر بہت زیادہ بھروسہ ہے اور سمجھتے ہیں کہ وہ پاکستان میں سب سے زیادہ ضروری سمجھی جانے والی ڈالروں کی سرمایہ کاری اور بزنس لائیں گے تاکہ ملک کی تقدیر بدلی جا سکے۔ امید ہے کہ عمران خان یہ بات سمجھتے ہوں کہ مطلوبہ سرمایہ کاری صرف اس وقت آئے گی جب ملک میں سیاسی استحکام ہو۔ سیاسی استحکام کا تعلق حکومت اور اپوزیشن کے درمیان تعلق سے جڑا ہے۔ اگر حکومت اور اپوزیشن کے تعلقات اچھے نہ رہے، جیسا کہ گزشتہ پانچ سال سے ہو رہا ہے، تو سیاست اور طرز حکمرانی میں استحکام نہیں آئے گا۔ ایسا صرف اس صورت ممکن ہے جب عمران خان بطور وزیراعظم اپوزیشن کو عظیم قومی ایجنڈا برائے اصلاحات اور اداروں کی از سر نو ڈھانچہ سازی میں شامل کریں۔ اس کیلئے انہیں ایک ریاست دان جیسا رویہ اختیار کرنا ہوگا اور ان سب سے معافی مانگنا ہوگی جن پر انہوں نے غلط الزامات لگائے اور ماضی میں جنہیں تکلیف پہنچائی۔ اسلئے عمران خان کیلئے سب سے بڑا چیلنج یہ ہے کہ آیا وہ خود کو ناراض غصیلا شخص بنانا چاہتے ہیں یا ایک مدبر ریاست دان۔(ف،م)