عمران خان مجھے عہدہ دے یا نہ دے میں پھر بھی ۔۔۔۔علیم خان نے شاندار اعلان کر دیا

لاہور(ویب ڈیسک) رہنماپی ٹی آئی عبدالعلیم خان کا کہنا ہے کہ عمران خان کے ساتھ مشکل وقت میں ایک قدم پیچھے نہیں ہٹے،اگر نیب نے پھربلایاتودوبارہ پیش ہوجاوں گا،اگرہماراچیئرمین پیش ہوسکتا ہے توہمیں کیا تکلیف ہے۔نیب میں پیشی کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے رہنماپی ٹی آئی عبدالعلیم خان کا کہنا تھا کہ

میرے خلاف درخواست میئرلاہورنے دی تھی جوایازصادق کے کوآرڈینیٹرتھے اور میں ںیب حکام کو130دستاویزات دے چکا ہوں،نیب نے جوبھی سوال پوچھے جواب دے دیے ہیں،نیب سے پوری قوم نے امیدلگائی ہوئی ہے،کوئی غلط کام نہیں کیا توکسی جگہ پیش ہونے میں حرج نہیں،اگر نیب نے پھربلایاتودوبارہ پیش ہوجاوں گا،اگرہماراچیئرمین پیش ہوسکتا ہے توہمیں کیا تکلیف ہے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ عمران خان 18اگست کو وزیر اعظم کا حلف لیں گے، وزیر اعلیٰ پنجاب بننے کی کوئی خواہش نہیں ۔عہدہ ملے نہ ملے ہم جہدوجہد جاری رکھیں گے،اگرمفادپرست ہوتے توماضی کے حکمرانوں کے ساتھ ہوتے،عمران خان کے ساتھ مشکل وقت میں ایک قدم پیچھے نہیں ہٹے۔ جبکہ دوسری جانب صدر ممنون حسین نے وزیراعظم کی حلف برداری کیلئے نگران وزیر قانون علی ظفر کی درخواست پر غیر ملکی دورہ ملتوی کر دیا ،وہ 18 اگست کو وزارت عظمٰی کے امیدوار عمران خان سے ایوان صدر میں حلف لیں گے ،تقریب حلف برداری میں کرکٹ ورلڈ کپ جیتنے والی قومی ٹیم کے ارکان اور سابق بھارتی کر کٹر کپل دیو ، سنیل گواسکر اور نوجوت سنگھ سدھو کو بھی مدعو کیا گیا ہے جبکہ تحریک انصاف نے اسد قیصر کو سپیکر قومی اسمبلی،چودھری محمد سرور کو گورنر پنجاب اور چودھری پرویز الٰہی کو،

اسپیکر پنجاب اسمبلی نامزد کر دیا،بنی گالہ میں عمران خان کی زیرصدارت مشاورتی اجلاس ہوا جس میں وفاق، پنجاب، خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں حکومت سازی کے حوالے سے فیصلے کئے گئے ، اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے تحریک انصاف کے رہنما شاہ محمود قریشی نے کہا اسد قیصر اسپیکر قومی اسمبلی کے لئے بہترین انتخاب ہیں ، وہ خیبرپختونخوا اسمبلی میں 5 سال سپیکر رہے اور بہت خوبصورتی سے ایوان کو چلایا، وہ پارلیمانی آداب اور روایات سے واقف ہیں، انہوں نے اپوزیشن کے ساتھ اچھے روابط رکھے اور ساتھ چلانے کی کوشش کی، ان کے تمام سیاسی جماعتوں سے اچھے تعلقات ہیں، اسی تجربے اور رویے کو دیکھتے ہوئے انہیں اسپیکر کے عہدے کے لئے نامزد کیا گیا،چودھری سرور سیاسی استحکام کیلئے بہترین کام کریں گے ، وہ پہلے بھی گورنر رہ چکے ہیں اور آئینی کردار سے واقف ہیں،چاہتے تھے ان کے سینئر ہونے کا فائدہ اٹھائیں،پنجاب میں حکومت بنانے کی پوزیشن میں آ گئے ، وزیراعلیٰ کے امیدوار کا اعلان عمران خان کریں گے ، بلوچستان عوامی پارٹی کے سربراہ جام کمال سے اچھی بات چیت ہوئی ، ان کے اتحادیوں سے بھی مذاکرات ہوئے ،کراچی میں پیر پگارا اور گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس کی قیادت سے بھی ملے ،جی ڈی اے نے تحریک انصاف کی غیر مشروط حمایت کا فیصلہ کیا،

13 اگست کو قومی اسمبلی کا اجلاس بلایا گیا ہے ،اسی روز تمام ساتھیوں اور اتحادیوں کو مدعو کیا جائے گا، جن میں بلوچستان نیشنل پارٹی،گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس ،مسلم لیگ ق ،متحدہ قومی موومنٹ پاکستان، عوامی مسلم لیگ اور کچھ آزاد ارکان شامل ہیں ، ان کے ساتھ بیٹھ کر آئندہ کی حکمت عملی طے کی جائے گی ، ارکان قومی اسمبلی سے رابطے کیلئے ذمہ داریاں سونپی گئی ہیں، پرویز خٹک خیبر پختونخوا اور فاٹا ، عارف علوی سندھ ،قاسم سوری اور جان محمد جمالی بلوچستان ،چودھری محمد سرور مغربی پنجاب،شفقت محمود وسطی پنجاب ، عامر کیانی شمالی پنجاب اور شاہ محمود قریشی جنوبی پنجاب سے نو منتخب ارکان قومی اسمبلی سے رابطے میں رہیں گے ، امید ہے پورا پارلیمانی عمل احسن طریقے سے انجام پائے گا، 23 سے زائد آزاد ارکان تحریک انصاف کے ساتھ منسلک ہوئے اور اپنا حلف نامہ الیکشن کمیشن کو جمع کرایا، ایک ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے نامزد سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے کہا زندگی کے 22 سال عمران خان کے ساتھ گزارے ،بہت سے اتار چڑھاؤ دیکھے ،ایک سوچ، وژن اور نظریہ لے کر عمران خان کا ساتھ دیاکسی عہدے کیلئے نہیں، پہلے ہی کہا تھا وہ جو فیصلہ کریں گے قبول کروں گا ،کوشش ہو گی عمران خان کے اعتماد پر پورا اتروں، حکومت اور اپوزیشن کو ساتھ لے کر چلوں گا۔(س)

Source

You might also like