تمام الزامات مسترد: نندی پور پاور پراجیکٹ میں کرپشن پنجاب حکومت نے نہیں کی بلکہ کون ملوث ہے؟ چیف جسٹس ثاقب نثار کو پیش کی گئی تحقیقا تی رپورٹ میں ناقابل یقین انکشاف ہو گیا

اسلام آباد(ویب ڈیسک) چیف جسٹس ثاقب نثار نے اصغرخان کیس 15اگست کو سماعت کے لئے مقرر کردیا۔چیف جسٹس کی سربراہی میں جسٹس عمر عطا بندیال اور جسٹس اعجازالاحسن پر مشتمل 3 رکنی بینچ کیس کی سماعت کرے گا۔اس ضمن میں سابق وزیراعظم نواز شریف، سابق آرمی چیف مرزا اسلم بیگ،

سابق ڈی جی آئی ایس آئی اسد درانی، اٹارنی جنرل خالد اختر، ڈی جی ایف آئی اے بشیر میمن، مہران بینک کے مالک یونس حبیب اوردیگر فریقین کو نوٹس جاری کردیے گئے ۔اس کے علاوہ عدالت نے مذکورہ کیس کے تفتیشی افسر بشیر میمن کو رپورٹ جمع کرانے کا حکم بھی دے دیا۔ادھرجعلی بینک اکائونٹس کیس کی سماعت کل (پیر) ہوگی جبکہ انور مجید ،خواجہ عبدالغنی مجید اور دیگر نے اپنا جواب عدالت عظمٰی میں جمع کرا دیاہے ۔آئی این پی کے مطابق ایف آئی اے نے منی لانڈرنگ سے متعلق اپنی رپورٹ تیار کرلی ہے ، جسے کل (پیر) سپریم کورٹ میں پیش کیا جائے گا۔ذرائع کے مطابق سپریم کورٹ کی ہدایت پر تیار کئی گئی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 10 سے زائد سیاسی جماعتیں مجموعی طور پر ساڑھے 3کروڑ ڈالرز کی غیر قانونی ٹرانزیکشن میں ملوث ہیں۔ذرائع کے مطابق ایف آئی اے نے غیر قانونی ٹرانزیکشن کرنے والے کئی جعلی اکاؤنٹس کا پتہ چلالیا ہے ۔ادھرسندھ ہائی کورٹ میں فریال تالپور کے خلاف ایف آئی اے کے عبوری چالان کے خلاف دائر درخواست پر سماعت ہوئی۔وکیل صفائی فاروق نائیک نے کہا کہ ایف آئی اے کی ایف آئی آر میں منی لانڈرنگ کا ذکر نہیں، فریال تالپور کا ایف آئی آر میں کوئی کردار واضح نہیں۔

علاوہ ازیں نیب نے نندی پور پاور پلانٹ منصوبہ سے متعلق مقدمہ میں عبوری رپورٹ عدالت عظمیٰ میں جمع کرادی جس میں انکشاف کیا گیاہے کہ وزارت قانون کے حکام اور افسران معاملہ میں کرپشن کے مرتکب ہوئے ہیں۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پراجیکٹ کے حوالے سے وزارت قانون اور وزارت پانی بجلی و خزانہ کے درمیان واضح اختلافات موجود تھے ،ان اختلافات کی وجہ سے منصوبہ بروقت شروع نہیں ہوسکا اور 2سال کی تاخیر ہوئی ، وزارت پانی وبجلی اوروزارت خزانہ کے بار بار رابطہ کرنے کے باوجود وزارت قانون نے معاملہ کو کلیئر نہیں کیا، وزارت قانون کے افسر قانونی ذمہ داری ادا کرنے میں ناکام ہوئے اوروزارت قانون نے معاملہ پر قانونی رائے دینے میں جھوٹے بہانے بنائے ۔ رپورٹ کے مطابق وزارت قانون نے 4 مارچ کووزارت خزانہ اور پانی و بجلی کو منصوبے سے متعلق فیصلوں کااختیار دیا،اختیار ملنے کے بعد نندی پور منصوبے کے معاہدے پر17 مارچ 2009ء کو دستخط ہوئے ۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ نندی پور منصوبہ کا ریکارڈ مل گیا ہے ،اس معاملہ میں ملوث ملزمان اور گواہان کے بیان ریکارڈ کئے جا رہے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق منصوبے میں تاخیر سے 20 ارب لاگت بڑھی، 71کروڑ80لاکھ روپے منصوبے کی مشینری کو سنبھالنے پر پورٹ اتھارٹیز کو ادا کرنے پڑے جبکہ 4 ارب 36 کروڑ چینی کمپنی اور 2 ارب 19 کروڑ بنک کو قرضہ پر سود ادا کرنا پڑا۔

Source

You might also like