نئی تاریخ رقم۔۔۔۔قومی اسمبلی میں کم عمر ترین ممبر اسمبلی نے حلف اٹھا لیا، یہ کون ہیں ؟ جانیے
اسلام آباد (ویب ڈیسک) الیکشن 2018ء کے بعد آج قومی اسمبلی کے اراکین نے بطور ممبر اسمبلی حلف اٹھا لیا ہے۔اس پر پارلیمنٹ میں ہمیں کئی نئی چہرے دیکھنے کو ملیں گے۔جو پہلی بار ممبر قومی اسمبلی آ رہے ہیں۔لیکن نوجوان پارلیمنٹیرینز میں سے سب سے کم عمر پارلیمنٹیرین کا اعزاز چوہدری حسین الہیٰ
نے اپنے نام کر لیا ہے۔جن کا تعلق پاکستان مسلم لیگ ق سے ہے۔میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ پاکستان مسلم لیگ کی ٹکٹ پر منتخب ہونے والے چوہدری حسین الہیٰ قومی اسمبلی کی تاریخ میں سب سے کم عمر رکن اسمبلی بن گئے ہیں۔ 26 سالہ چوہدری حسین صدر مسلم لیگ (ق) چوہدری شجاعت حسین کے چھوٹے بھائی چوہدری وجاہت کے صاحبزادے ہیں، اور وہ قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 68 گجرات سے کامیاب ہوئے تھے۔چوہدری حسین الہیٰ قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 68 گجرات سے کامیاب ہوئے تھے۔واضح رہے کہ آئین کے تحت قومی و صوبائی اسمبلی کے لیے انتخابی عمل میں حصہ لینے کے لیے کم سے کم عمر 25 برس ہے۔چوہدری حسین الہی کا میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا کہ میری کوشش ہے کہ میں حلقے کی عوام کی امیدوں پر پورا اتروں۔ہمارا خاندان ہمیشہ سے اسمبلی کا حصہ رہا اور میری کوشش تھی کہ میں بھی اسمبلی میں اپنا حصہ ڈالوں۔اور میری کوشش ہے کہ اب اگر مجھے اللہ اور اس حلقے کی عوام نے موقع دیا ہے تو میں اس ملک میں ایسا کردار ادا کر سکوں کہ میرے حلقے کے عوام بھی مجھ سے خوش ہوں۔اور میں اپنے حلقے کےعوا م کو بھی جواب دے
سکوں کہ اگر میں پانچ سال ان کے ووٹوں کی وجہ سے اسمبلی میں بیٹھوں گا تو میں ان کے ووٹوں کا حق ادا کروں۔یاد رہے اس پر پارلیمنٹ میں آدھے سے زیادہ تعداد نئے ممبران قومی اسمبلی کی ہے جن میں بلاول بھٹو زرداری،، زرتاج گل اور ناز بلوچ سمیت اور کئی اہم نام شامل ہیں۔دوسری جانبایک خبر کے مطابق تحریک انصاف اور ق لیگ کے درمیان گجرات، چکوال اور بہاولپور کی نشستوں پر انتخابی ایڈجسٹمنٹ خطرے میں پڑ گئی، تحریک انصاف کے ناراض مقامی رہنمائوں و کارکنان نے (ق) لیگ کے امیدواروں کی حمایت کرنے کی بجائے اپنی ہی پارٹی کے آزاد امیدواروں جن کے پاس جیپ کا نشان ہے ان کی حمایت کر دی، جس کے بعد (ق) لیگ کے رہنما چوہدری پرویز الٰہی نے عمران خان اور پارٹی کے دیگر رہنمائوں سے رابطے قائم کرلئے۔ ق لیگ اور تحریک انصاف کے درمیان گجرات میں قومی اسمبلی کی 2، چکوال سے قومی اسمبلی کی ایک اور بہاولپور سے قومی اسمبلی کی ایک نشست پر انتخابی ایڈجسٹمنٹ ہوئی تھی اور تحریک انصاف نے اپنے امیدواروں کو ٹکٹ جاری نہیں کئے تھے، مقامی قیادت کو ہدایت جاری کی تھی کہ (ق) لیگ کے امیدواروں کو کامیاب بنائیں تاہم تحریک انصاف کے مقامی رہنمائوں اور کارکنان نے مرکزی قیادت کا فیصلہ مسترد کر دیا اور جیپ کا نشان حاصل کرنے والے آزاد امیدواروں کی حمایت کا اعلان کر دیا ہے جس کے بعد ان حلقوں میں (ق) لیگ کیلئے سیاسی مشکلات پیدا ہو گئی ہیں اور ان کی کامیابی مشکوک نظر آرہی ہے۔(ف،م)
