عمران خان شہباز شریف سے کب ہاتھ ملائیں گے ؟ تحریک انصاف کے اہم رہنما نے بڑا دعویٰ کردیا

لاہور(ویب ڈیسک )تحریک انصاف کے رہنما ملک احمد حسن نے کہاہے کہ عمران خان آصف زرداری اور شہبازشریف دونوں کے ساتھ ہاتھ ملائیں گے ۔عمران خان کی ترجیح عدلیہ اور نیب کا آزاد ہوناہے ۔نجی نیوز چینل کے پروگرام ’’آن دا فرنٹ ‘‘ میں گفتگو کرتے ہوئے ملک احمد حسن نے کہاہے کہ

عمران خان کی سیاست عزت ملنے پر جھکنے والی ہے ۔ہماری توجہ مسائل کے حل کی طرف ہونی چاہئے ۔احتساب کے لئے عدلیہ اور نیب دونوں موجود ہیں۔عمران خان آصف زرداری اور شہبازشریف دونوں سے ہاتھ ملائیں گے ۔عمران خان کی ترجیح ہے کہ نیب ، عدلیہ کو آزاد ہونا چاہئے ۔ ہم نے اپوزیشن کے ساتھ ملکر ملک کے مسائل حل کرنے ہیں۔ ہم نے غریب عوام کیلئے ڈلیور کرناہے ۔ پاکستان کو ایک فلاحی ریاست بنانا ہے ۔ ہم الجھنا نہیں چاہتے کہ کسی کوگرفتار کروادیں ۔ ہم چاہتے ہیں کہ عوام کو اداروں پر اعتماد ہواور ہم عوام کے مسائل حل کریں اور ادارے اپنا کام کریں۔دوسری جانب ایک خبر کے مطابق پاکستان مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف نے عمران خان اور تحریک انصاف کے سامنے 26 سوالات رکھ دیے، کہا امید ہے سنجیدہ جواب ملیں گے۔تفصیلات کے مطابق شہباز شریف نے سوالات کا انبار لگاتے ہوئے امید ظاہر کی کہ پی ٹی آئی جوابی الزام تراشی یا گالم گلوچ پر نہیں اترے گی بلکہ سنجیدہ جواب دے گی۔شہباز شریف نے کہا کہ یہ سوالات پی ٹی آئی کو اس کے وعدے یاد دلانے کے لیے کر رہا ہوں، کہاں ہیں وہ 350 ڈیمز، 250 کالجز،

ایک ہزار اسٹیڈیم اور کہاں ہیں وہ پورے پاکستان کی بجلی؟انھوں نے سوال کیا کہ کیا کے پی میں کرپشن ختم ہوگئی یا پوری پی ٹی آئی ہی کرپٹ نکلی؟ آپ کے خیبر پختونخوا کو 100 سال تک فائدہ دینے والے منصوبے کہاں ہیں اور کے پی وزیراعلیٰ ہاؤس میں بننے والی یونی ورسٹی کو کون سا راستہ جاتا ہے؟شہباز شریف نے صفائی ستھرائی کے حوالے سے بھی سوال اٹھایا کہ کیا آپ بتائیں گے پشاور دنیا کا دوسرا گندا ترین شہر کیسے بنا؟ اور آپ بتانا پسند کریں گے کہ آپ کے ٹرین منصوبے کا کیا ہوا؟انھوں نے سوال کیا کہ آپ کے دعوے کے مطابق غیر ممالک سے نوکریوں کے لیے آنے والے کہاں چھپے ہیں؟ ذرا قوم کو بتائیں کے پی میں احتساب کا حال کیا ہوا؟ کیا کے پی میں اقربا پروری، میرٹ کی دھجیاں اڑنا بند ہوگئیں؟ اور کے پی کی مثالی پولیس نے افغانستان سے منشیات اسمگلنگ روک لی؟ان کے سوال تھے کہ کیا پی ٹی آئی نے الیکٹیبلز کی بجائے مخلص کارکنوں کو ٹکٹ دیے؟ کیا پروٹوکول کے ساتھ سرکاری املاک کا ذاتی استعمال نہیں کیا گیا، عمران نیازی نے جھوٹ کی بجائے سچ بولنا شروع کیا، یو ٹرن لینا بند کر دیے؟شہباز شریف نے پوچھا کہ عمران خان آئین کا احترام کرتے ہیں تو پھرعدالت سے تین سال مفرور کیوں رہے؟ وہ پارلیمنٹ پر لعنت بھیجتے رہے، اسی سے تنخواہ کیوں لیتے رہے؟ کیا پارلیمنٹ پر لعنت بھیجنے والا جمہوری سیاست دان کے زمرے میں آتا ہے؟انھوں نے کہا کہ نیازی اپنے کتے کو ٹائیگر کہتے ہیں، کیا کارکنوں کو بھی ٹائیگرز کہتے ہیں، انقلابی رہنما نے 5 سال میں 3 کھرب قرضے کیوں لیے؟ 2013 میں صادق و امین نیازی کے اثاثے ڈیڑھ کروڑ تھے، 2017 میں ڈیڑھ ارب کیسے ہوگئے؟شہباز شریف نے سوال اٹھایا کہ کیا عمران خان قوم کو بتائیں گے کہ آپ کا ذریعۂ آمدنی کیا ہے؟۔(ف،م)

Source

You might also like