نجم سیٹھی کی چھٹی۔۔۔ نیا چیئرمین پی سی بی وسیم اکرم نہیں بلکہ کون ہو گا؟ ناقابل یقین نام سامنے آ گیا

لاہور (ویب ڈیسک) چیئرمین پی سی بی کا ہما احسان مانی کے سر بیٹھنے کا امکان روشن ہونے لگا۔پاکستان میں حکومت کے ساتھ کھیلوں کی تنظیموں میں بھی اکھاڑ پچھاڑ کوئی نئی بات نہیں،چیئرمین کرکٹ بورڈ تو ایک ایسا عہدہ ہے جس کیلیے ماضی میں کئی سیاسی پارٹیوں کے رہنما اپنی وزارتیں،

چھوڑنے کو تیار نظر آتے رہے۔حکومت کی تبدیلی کے ساتھ ہی بطور صحافی پی ٹی آئی کے ناقدین میں شمار ہونے والے نجم سیٹھی کو چیئرمین پی سی بی کے عہدے سے ہٹائے جانے کی بازگشت گذشتہ چند دنوں سے سنائی دے رہی ہے،ان حالات کا خود نجم سیٹھی کو بھی اندازہ ہے اور وہ چند روز میں کسی فیصلے اور ٹی وی پروگرام میں مصروف ہونے کا اشارہ دے چکے ہیں۔دوسری طرف ان کا خلا پُر کرنے کیلیے امیدواروں کی بھی کوئی کمی نہیں،ذرائع کے مطابق احسان مانی اس دوڑ میں سب سے زیادہ آگے ہیں،آئی سی سی کے سابق چیف اگرچہ دہری شہریت کے حامل ہیں لیکن یہ چیزان کی راہ میں رکاوٹ نہیں بن سکتی۔اس سے قبل سابق صدر اور آرمی چیف جنرل پرویز مشرف کے دور میں امریکی شہری ڈاکٹر نسیم اشرف چیئرمین پی سی بی کے عہدے پر فائز رہ چکے ہیں،حکومتی عہدوں کے برعکس دہری شہریت کے قانون کا اطلاق کرکٹ بورڈ کے معاملے میں نہیں ہوتا، ان حالات میں کرکٹ کا وسیع تجربہ اور شفاف ماضی رکھنے والے احسان مانی کا راستہ صاف نظر آرہا ہے۔اس حوالے سے جلد ہی کوئی فیصلہ متوقع ہے۔ جبکہ دوسری جانب عمران خان نے نجم سیٹھی کو پیغام بھجوا دیا۔

عمران خان نے اپنے پیغام میں کہا ہے کہ نجم سیٹھی فوری طور پر مستعفی ہوجائیں گے، ڈائریکٹر انفرا اسٹرکچر پی سی بی خیام قیصر کو بھی عہدہ چھوڑ دیں۔تفصیلات کے مطابق عمران خان نے ملک میں تبدیلی لانے کے ساتھ ساتھ پاکستان کرکٹ بورڈ میں بھی تبدیلی لانے کی ٹھان لی۔اس سلسلے مین عمران خان نے نجم سیٹھی کو پیغام بھجوا دیا۔۔عمران خان نے اپنے پیغام میں کہا ہے کہ نجم سیٹھی فوری طور پر مستعفی ہوجائیں گے، ڈائریکٹر انفرا اسٹرکچر پی سی بی خیام قیصر کو بھی عہدہ چھوڑ دیں۔اس طرح کی خبریں پہلے سے گردش میں تھیں کہ عمران خان اقتدار میں آکر پاکستان کرکٹ بورڈ میں تبدیلیاں لائیں گے ۔یاد رہے کہ تفصیلات کے مطابق پاکستان تحریک انصاف نے انتخابات 2018میں شاندار اور تاریخی کامیابی سمیٹ لی ہے۔اس وقت پاکستان تحریک انصاف کی قومی اسمبلی کی نشستوں کی تعداد 116 تک جا پہنچی ہے جس کے مطابق تحریک انصاف اب آزاد امیدواروں کو ساتھ ملا کر مرکز میں حکومت بنانے کی پوزیشن میں ہے۔اس کے علاوہ خیبر پختونخواہ میں تحریک انصاف کی حکومت کے لیے راستہ صاف ہے جبکہ پنجاب میں بھی تحریک انصاف کی حکومت کے امکانات روشن ہو چکے ہیں۔اس وقت 123سیٹیں تحریک انصاف کو ملنے کے قوی امکانات ہیں جس کے بعد وہ آزاد امیدواروں کو ساتھ ملا کر پنجاب کی حکومت بھی بنانے کی پوزیشن میں آ چکے ہیں۔ (س)

Source

You might also like